10+ Best and Famous Sad Urdu Poetry Images

Oct 26, 2021

Across the open gate, the front gate was also open. She was inadvertently lost in thought. A girl was standing at the front gate, with a cute baby on her shoulder. At the same time, the door of the car was opened and a good looking man was smiling and saying something to them. The girl was laughing. Then the man, who was probably her husband, got into the car and the girl grabbed the child's hand and started moving towards the car. The child was screaming. The man smiled, waved his hand and started the car.

کھلے گیٹ کے اس پار سامنے والوں کا گیٹ بھی کھلا نظر آ رہا تھا۔ وہ بے دھیانی میں کسی سوچ میں گم ادھر دیکھے گئی۔ سامنے والوں کے گیٹ کے پاس ایک لڑکی کھڑی تھی، اس کے کندھے پہ پیارا سا پھولے پھولے گالوں والا بچہ تھا۔ ساتھ ہی گاڑی کا دروازہ کھولے ایک گڈ لکنگ سا آدمی مسکرا کر انہیں کچھ کہہ رہا تھا۔ لڑکی ہنس رہی تھی۔ پھر وہ آدمی جو غالباً اس کا شوہر تھا، گاڑی میں بیٹھ گیا اور لڑکی بچے کا ہاتھ پکڑ کر بائے بائے کے انداز میں گاڑی کی طرف ہلانے لگی۔ بچہ قلقاریاں مار رہا تھا۔ آدمی نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا اور گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔
ایک مکمل اور خوبصورت فیملی۔
وہ چپ چاپ ان تینوں کو دیکھے گئی۔ یہاں تک کہ گاڑی فراٹے بھرتی سڑک پہ آگے نکل گئی اور لڑکی بچے کو کندھے سے لگائے گیٹ بند کرنے لگی۔
اس نے ہولے سے سر جھٹکا اور اپنی خاموش ، بالکل خاموش نظریں واپس قرآن پہ جھکا دیں اور پڑھا کہ آگے کیا لکھا ہوا تھا۔
''اس کی طرف مت دیکھو جو ہم نے دوسرے جوڑوں کو عطا کیا ہے۔''
محمل نے بے اختیار ٹھنڈی سانس لے کر سر اٹھایا۔ پھر ادھر ادھر گردن گھمائی۔ بلقیس اپنے کام میں مگن تھی اور چوکیدار اپنے کام میں، وہاں کسی نے اس کی ایک لمحے کی وہ نظر نہیں پکڑی تھی۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔ مگر۔
اس نے ذرا سی گردن اوپر اٹھا کر آسمان کو دیکھا۔
مگر کوئی تھا جو اس کی لمحے بھر کی بھٹکی نگاہ بھی پکڑ لیتا تھا اور کسی دوسرے کو بتاتا بھی نہیں تھا۔ خاموشی سے اسے تنبیہہ کر دیتا تھا۔ سمجھا دیتا تھا۔ بہت احسان تھے اس کے اس پر، وہ تو شکر بھی ادا نہیں کر سکتی تھی۔

مصحف
















Post a Comment

© Urdu Thoughts.