Dec 20, 2017

10+ Best Urdu Images - Beautiful Quotes for Life

Ertughal Ghazi is the founder of the Ottoman Empire. He was born in 1191 AD and died in 1280 AD. Some books give 1281 AD. The Khilafah was established 10 years later and the Khilafah was named after the same son of Uthman, the Ottoman Caliphate, but the foundation of the empire was laid by Urtughal Ghazi. The same empire then defended the Muslim Ummah from 1291 AD to 1924, for 600 years.
غازی ارطغرل کون تھا؟
 
ارتغل غازی سلطنت عثمانیہ کے بانی ہے , آپکی پیدائش 1191 عیسوی میں ہوئی اور وفات 1280 عیسوی میں کچھ کتابیں 1281 بتاتے ہیں, آپ ہی کے تین بیٹے تھے گندوز, ساؤچی اور عثمان اور آپکے تیسرے بیٹے عثمان نے 1291 یعنی اپنے والد ارتغل کی وفات کے 10 سال بعد خلافت بنائی اور ارتغل کے اسی بیٹے عثمان کے نام سے ہی خلافت کا نام خلافت عثمانیہ رکھا گیا لیکن سلطنت کی بنیاد ارتغل غازی رح رکھ کر گئے تھے ….

اسکے بعد اسی سلطنت نے 1291 عیسوی سے لیکے 1924 تک , 600 سال تک ان ترکوں کی تلواروں نے امت مسلمہ کا دفاع کیا... 
اس کے ساتھ مسجد نبوی. گنبد خضریٰ اور مسجد حرام کی جدید تعمیر . سیدنا امیر حمزہ کا مزار . مکہ مکرمہ تک ایک عظیم الشان نہر .  آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار پرانوار کے گرد سیسہ پلائی دیوار .  مکہ مکرمہ تک ٹرین منصوبہ جیسے عظیم کارنامے سرانجام دیے...

ارتغل غازی کا خاندان وسطہ ایشیا سے یہاں آیا تھا اور انکے جدِ امجد اوغوز خان  کے بارہ بیٹے تھے جن سے یہ بارہ قبیلے بنے جن میں سے ایک یہ قائی قبیلہ  تھا جس سے ارتغل غازی تعلق رکھتا تھا آپکے والد کا نام سلیمان شاہ تھا, ارتغل غازی کے تین اور بھائی تھے, صارم, ذوالجان اور گلدارو ,آپکی والدہ کا نام حائمہ تھا…

آپکا قبیلہ سب س پہلے وسطہ ایشیا Central asia  سے ایران پھر ایران سے اناطولیہ  آئے تھے منگولوں کی یلغار سے نمٹنے کےلئے..... جہاں سلطان علاو الدین جو سلجوک  سلطنت کے سلطان تھے اور یہ سلجوک ترک سلطنت سلطان الپ ارسلان  نے قائم کی تھی 1071 میں  کو  میں عبرت ناک شکست دے کے اور سلطان الپ ارسلان تاریخ کی بہت بڑی شخصیت تھی اور اسی سلطنت کا آگے جاکے سلطان علاؤ الدین بنے تھے…..
اسی سلطان علاوالدین کے سائے تلے یہ 12 قبیلے اوغوز خان  رہتے تھے, اور اس قائی قبیلے کے چیف ارتغل بنے اپنے والد سلیمان شاہ کی وفات کے بعد, سب سے پہلے اہلت آئے تھے پھر اہلت سے حلب گئے تھے 1232 جہاں *سلطان صلاح الدین ایوبی* کے پوتے الغزیز کی حکومت تھی, سب سے پہلے ارتغل نے العزیز کو اس کے محل میں موجود غداروں سے نجات دلائی پھر اس سے دوستی کی پھر سلطان علاو الدین کی بھتیجی حلیمہ سلطان سے شادی کی.... جس سے آپکو تین بیٹے ہوئے اوپر جو میں نے نام دیے ہیں, ایوبیوں اور سلجوقیوں کی دوستی کروائی, صلیبیوں کے ایک مضبوط قلعے کو فتح کیا جو حلب کے قریب تھا, اسکے بعد ارتغل سلطان علاو الدین کے بہت قریب ہوگیا….
اس کے بعد منگولوں کی یلغار قریب ہوئی تو ارتغل غازی نے منگول کے ایک ایم لیڈر نویان کو شکست دی ,نویان منگول بادشاہ اوکتائی خان کا  تھا ,اوکتائی خان چنگیز خان کا بیٹا تھا اور اس اوکتائی کا بیٹا ہلاکو خان تھا جس نے بغداد کو اس قدر روندا تھا کہ بغداد کی گلیاں خون سے بھر گئی تھیں دریائے فرات سرخ ہو گیا تھا…
اسی نویان کو شکست ارتغل نے دی تھی…
اور پھر ارتغل غازی اپنے قبیلے کو لیکے سوغت آئے بلکل قسطنطنیہ  کے قریب, اور پہلے وہاں بازنطین  کے ایک اہم قلعے کو فتح کیا اور یہیں تمام ترک قبیلوں کو اکٹھا کیا اور سلطان علاو الدین کے بعد آپ کے بیٹے غیاث الدین سلطان بن گئے انکی بیٹی کے ساتھ ہی عثمان کی شادی ہوئی ایک جنگ میں    سلطان غیاث الدین شہید ہو گئے تو عثمان غازی سلطان بن گئے اور انکی نسل سے جاکے *سلطان محمد فاتح رح* تھے جس نے 1453 میں جاکے قسطنطنیہ فتح کیا تھا اور اسی پے حضور صلیٰ اللہ علیہ والہ وسلم کی غیبی خبر پوری ہوئی……
تاریخ میں ارتغل غازی جیسے جنگجو بہت کم ملتے ہیں لیکن ہماری نسل انکو جانتی نہیں بہت بہادر جنگجو تھے آپ…
 ہر واریئر جنگجو اسلام میں گذرا اس پہ جس نے کچھ نہ کچھہ اسلام کے لیئے کیا اس کا ایک روحانی پہلو ضرور ہے, اسکے پیچھے ایک روحانی شخصت ضرور ہوتی ہے جسکی ڈیوٹی اللہ پاک نے لگائی ہوتی ہے تاریخ اٹھا لیں بھلے اسلام کے آغاز سے لیکے اب تک آج بھی اگر کوئی اسلام کے لیئے امت مسلمان کے لیئے کوئی ڈیوٹی کر رہا ہے تو اسکا روحانی پہلو بھی ضرور ہوگا….
اس جنگجو ارتغل غازی کے پیچھے اللہ پاک نے ڈیوٹی لگائی تھی وہ *شیخ محی الدین ابن العربی رح* تھے  ( آپ درجنوں کتب کے مصنف ہیں اس کے ساتھ آپ نے قرآن پاک کی مایہ ناز تفسیر بھی لکھی علم کی دنیا کے بادشاہ جانے جاتے تھے اور تصوف میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے)  جو اندلس سے ارتغل غازی کی روحانی مدد کو پہنچے تھے…
امام ابن العربی نے ارتغل غازی کو دو مرتبہ موت کے منہ سے نکالا اور ہروقت ارتغل کی روحانی مدد کرتے رہتے تھے 
اللہ پاک ارتغل غازی کا رتبہ بلند فرمائے اور ہزاروں رحمتیں ہوں ان پے…
آمین













Post a Comment