10+ images about Urdu Quotes - Thoughts - Sayings

10 images about Urdu Quotes - Thoughts - Sayings. urdu quotes on zindagi, urdu quotes on Love, mahekte alfaz post in image, black background urdu facebook share, quotes in urdu about life, beautyfull 2line sad thought in urdu, sad thoughts 2 line, beautiful quotes on zindagi in urdu, new success photos in urdu, dukh urdu quotes, zindagi thoughts pics in urdu, amazing quotes of zindagi, famous Urdu quotes, Urdu quotes in Hindi, Urdu quotes with images, Urdu quotes with pictures for Facebook, Urdu quotes images Facebook.







"بیٹوں کی ماں"
وہ بڑی خاموشی سے کافی دیر تک بیٹھی رہی تھیں۔ یہ کوئی تعویز گنڈے دینے والے کا اڈا نہیں تھا۔ سنا تھا کہ یہاں کچھ دین کی باتیں ہوتی ہیں۔ درس ہوتا ہے۔ جو چاہے آ کر بیٹھ جاۓ۔ سنے، سمجھے اور اگر کوئی سوال ہو تو پوچھ لے۔ وہ بھی کافی دیر تک سنتی رہی تھیں۔ پھر وہ چند ان لوگوں میں بیٹھ گئی تھیں جن کے کچھ سوال تھے، اور جو بابا جی کے فارغ ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔

" میرا کوئی سوال تو نہیں بابا جی! بس یہ کہنا تھا کہ لگتا ہے جیسے کچھ رکھ کر بھول گئی ہوں۔ کھو بیٹھی ہوں۔" اپنی باری پر انہوں نے بڑی اداسی سے کہا۔ وہاں اب وہ دونوں اکیلے ہی تھے۔ باقی سب اپنا اپنا سوال پوچھ کر جا چکے تھے۔



" کوئی چیز ؟" انہوں نے بڑے اطمینان سے پوچھا۔

" چیز نہیں۔۔۔۔۔ بس میرے اندر سے کچھ چلا گیا ہے جیسے۔۔۔۔۔ بڑی دوری پر آ گئی ہوں جی۔ بڑا رونا آتا ہے۔ دل کٹتا ہے۔"

" دکھی ہیں۔۔۔۔۔؟"

" پتا نہیں۔۔۔۔ میں بڑی بری طرح سے فیل ہو گئی ہوں۔"

" فیل ہونے کا احساس ہوتا ہے؟ بابا جی نے غور سے ان کی آنکھوں میں دیکھا۔

" ہاں جی۔۔۔۔ بہت پیچھے بھی رہ گئی جی میں۔ بڑا فاصلہ آ گیا ہے۔ کیا کروں؟"

" بولتی رہیں۔۔۔۔۔ میں سن رہا ہو۔"

" میں نے بڑی خوشحال زندگی گزاری ہے۔ جوانی میں بڑی خوبصورت تھی۔ بیس سال کی تھی جب بڑے اچھے گھرانے میں شادی ہو گئی۔ سسرال میں بھی راج کیا۔ دنیا جہاں کی نعمتیں ملتی رہیں۔ اوپر تلے چار بیٹوں کی ماں بن گئی۔ خاندان بھر میں میری خوش قسمتی کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ جیسا چاہا پہنا، جہاں چاہا خرچ کیا۔ ایک بیٹا ڈاکٹر بن گیا ۔ ایک نے اپنا بزنس کر لیا۔ ایک پڑھنے کے لیے باہر چلا گیا اور ایک سرکاری ملازم ہو گیا۔ "

" الله تعالی بہت مہربان رہا ہے آپ پر ماشاء اللہ۔"

" میری نند کی بیٹی تھی، نکاح کے بعد گھر بیٹھے ہی طلاق ہو گئی تھی۔ بچی بڑی خوب صورت ،سلیقہ مند، پانچ وقت کی نمازی تھی۔ جس سے نکاح ہوا تھا وہ ذرا ماڈرن تھا۔ ایک دو بار بچی سے ملا تو انکار کر دیا کہ یہ تو بہت ہی مذہبی ہے۔ طلاق ہوئی تو اس کے مذہبی ہونے کی بات کچھ ایسے پھیلی کہ جیسے مذہب سے لگاؤ کوئی برائی ہو، جیسے نفسیاتی مریضہ ہو۔ میری نند بڑا روتی تھی۔ ایک دن آئی میرے پاس۔ اپنا آنچل میرے قدموں میں ڈال دیا۔ کہا گھر کی بچی ہے، واصف کے لیے لے لو۔ بڑا احسان رہے گا بھابھی آپ کا۔ میں نے انکار کردیا۔ کہا بیٹا کہتا ہے ڈاکٹرنی سے ہی شادی کروں گا۔"

" واصف کو سمجھائیں گی تو وہ سمجھ جائے گا۔۔۔۔۔ آپ کی بہت سنتے ہیں سب بچے۔"

" تم جانتی ہو زبیده! آج کل کے بچوں کو ماں، باپ کی ایک نہیں چلنے دیتے۔"

" آپ بات تو کریں واصف سے۔"

واصف سے میں بات کیوں کرتی، جب شادی ہی میری پسند سے ہونا تھی۔ میں نے واصف کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی اور ہفتے کے اندر اندر ایک ڈاکٹر لڑکی سے اس کا نکاح پڑھوا دیا۔ نند سے کہہ دیا کہ لڑکی واصف کی کلاس فیلو تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔"

" آپ کو اپنی نند پسند نہیں تھیں یا ان کی بیٹی ؟"

" ڈاکٹر بیٹے کی ماں تھی۔ میں بابا جی بی اے پاس، طلاق یافتہ لڑکی کو کیسے اپنے ہونہار بیٹے کے لیے بہو بنا کر لے آتی۔ بیٹا میرا چاند کا ٹکڑا، اس کی پیشانی برگرہن کیسے لگا دیتی۔

" بچی شریف تھی ، نمازی تھی، یہ نہیں سوچا آپ نے؟"

تب نہیں سوچا۔۔۔۔۔ بعد میں بڑا سوچا کہ نند کیسے بلک بلک کر روتی تھی۔ گھر بیٹھے بیٹھے پاک باز بیٹی کو داغ لگ گیا تھا۔ اگر میرے پاس ہاتھ جوڑ کرآ ہی گئی تھی تو کچھ تو لاج رکھ لیتی۔

” ہاں رکھنی چاہیے تھی لاج ........... "
" سر میں تکبر اور بڑائی کا بھوت سوار ہو تو شریف اور نیک لوگ اچھے ہی کہاں لگتے ہیں۔ نمازیں پڑھنا، پردے میں رہنا۔ دین کا لحاظ کرنا، دنیا کو ہاتھ سے جانے دینا۔ یہ باتیں اب کہاں اچھی لگتی ہیں بابا جی ۔ بیٹا میرا شیر جوان، اونچا لمبا، کلاس کا سب سے لائق اسٹوڈنٹ۔ میری ناک پر نند کی بیٹی کہاں چڑھتی تھی۔ اللہ سے ڈرنے والے لوگ کسے اچھے لگتے ہیں بابا جی۔ مجھے بھی کیوں اچھے لگتے۔ میں نے تو اپنے ڈاکٹر بیٹے کے لیے اونچے خاندان کی ڈاکٹر لڑکی ہی ڈھونڈنی تھی۔ میرے بیٹے کے ساتھ چلتی تو دنیا دیکھتی تھی۔"

وہ رکیں ۔ نہ جانے سانس لینے کے لیے یا آنکھیں پونچھنے کے لیے۔

" دو چار سال رشتوں کے لیے میری نند بڑی خوار ہوئی، پھر ایک بڑی عمر کے آدمی سے شادی کر دی ۔ بیٹی کی کم نصیبی کا روگ اسں نے کچھ ایسے دل سے لگایا کہ دل کی مریضہ بن گئی۔ سال بعد ہی فوت ہو گئی۔۔۔۔ خیر مجھے اس سے کیا۔۔۔۔۔۔

دوسرا بیٹا جو اپنا بزنس کرتا تھا، اس کے لیے میرے شوہر جمیل کے ایک دوست نے اشارتا اپنی بیٹی کا کہا تھا۔ پانچ بیٹیوں کے باپ تھے فیاض صاحب۔ معمولی جاب کرتے تھے۔ گھر بھی کسی گندے سے علاقے میں تھا۔ میرے شوہر کا بڑا پیار تھا ان سے۔ گھر میں کوئی تقریب ہوتی، تو بس یہی کہتے رہتے کہ کھانا پیک کر دو، ان کے گھر دے آؤں۔ مجھے بڑی چڑ تھی فیاض صاحب سے۔ جس دن جمیل نے ان کی بیٹی کا ذکر کیا تو میں اور چڑ گئی۔ ایسے ہی ٹھیکرے ہیں میرے بیٹے کہ کوئی بھی منہ اٹھا کر رشتے کے لیے کہہ دے۔ مجھے پتا تھا ایسے واصف کے ابا باز آنے والے نہیں، اس لیے خود ہی کچھ کرنا ہوگا۔ میں راضی باضی ہو کر چلی گئی لڑکیاں دیکھنے۔ بیوی بڑی اللہ لوک تھی ان کی۔ گھر چھوٹا تھا، پُرسکون بہت تھا وہاں۔ کوئی افراتفری نہیں تھی، لیکن مجھے بڑی نفرت سی محسوس ہوئی۔ گھر کے ناکارہ فرنیچر، پلستر اکھڑی دیواروں، پرانے زمانے کے پردوں اور پلاسٹک کے دس بارہ سال پرانے ڈیزائن کے برتنوں سے۔ میرے بیٹے قاسم کی اپنی کار تھی، اور یہاں ان کے گھر کے باہر اور یہاں گھر کے باہر کار کھڑی کرنے کی جگہ نہیں تھی۔ کوئی پچاس گلیاں گھما کر تو مجھے گھر لائے تھے۔

" بچیاں کیسی تھیں؟" بابا جی نے بڑی نرمی سے پوچھا۔

" فیاض صاحب جیسے سفید پوش، شریف، حلال کمائی کمانے والے کی بچیاں کیسی ہوں گی بابا جی۔ ویسی ہی ہیں ۔ سروں پر دوپٹے۔ ہاتھ پیر باوضو سے دنیا جہاں کے کام جانتی تھیں۔ ہرطرح کا کھانا پکا لیتی تھیں۔ لیکن میری طرف سے دنیا بھر کا ہنر سیکھ لیتیں، رہتی تو ڈھائی مرلہ کے گھر میں تھیں نا وہ سب۔ ویسے بھی کھانا میں کام والی سے پکواتی تھی، کپڑے میرے ٹیلر کے پاس جاتے تھے۔ کروشیے، سلائی کڑھائی کے زمانے گئے اب۔ اور شرافت کا میں نے اچار ڈالنا تھا۔"

آپ تھوڑی دیر کے لیے ان کی حیثیت کو ایک طرف رکھ کر سوچتیں۔"

" کیوں سوچی ؟ کوئی سوچتا ہے جو میں سوچتی۔

میرا بزنس مین بیٹا، اس ڈھائی مرلے کے گھر میں داماد بن کرجاتا۔ بیٹھتا کہاں وہ۔ موڑھوں پر؟ گندے سندے برتنوں میں کھاتا۔ کیا کہتا ماں نے کس گھر کا داماد بنا دیا۔"

" بیٹوں کی تربیت بھی تو آپ نے کی تھی۔ آپ اگر انہیں سمجھاتیں تو وہ سمجھ جاتے۔ پھر بچوں کے ابا بھی تو اسی گھر میں آتے جاتے رہتے تھے۔

فیاض صاحب دوست تھے ان کے۔
"وہ تو پاگل تھے۔ کہتے تھے، اسی شریف بچیاں آج کے زمانے میں ملنا مشکل ہے۔ ایک بچی تو حافظ قرآن تھی۔ ٹھیک ہے، دین دار ہونا اچھا ہے۔ لیکن اب کوئی زبردستی تو نہیں ہے ناں.........."

" ہاں زبردستی ہی تو نہیں ہے۔۔۔۔۔۔"

" دو گھنٹے وہاں بیٹھ کر میں نے کچھ ایسی باتیں کہیں کہ بڑی شرمندہ شرمندہ نظر آنے لگی تھیں۔ فیاض صاحب کی بیوی اور بچیاں۔ ایک بچی تو شرم سے آنکھیں ہی نہیں اٹھا پا رہی تھی۔ ایک اٹھ کر ہی چلی گئی ۔ جو سموسے، چاٹ، بسکٹ میرے سامنے بڑے فخر سے رکھے تھے ناں اب وہ خود ہی انہیں چورنظروں سے دیکھ رہی تھیں ۔ پھر نہیں اصرار کیا کہ بھابھی جی کھائیں نا۔ یہ کباب لیں۔ چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے آپ کی، لیں نا.....،،

" اچھا کیا انہوں نے۔"

" بہت اچھا کیا انہوں نے …" وہ گہری سانس لے کر رہ گئیں۔

قاسم کی شادی میں نے اپنی پسند کے لوگوں میں کر دی کہ جمیل صاحب پھر کسی دوست کی بیٹی کا رشتہ نہ لے آئیں۔ آج کل قاسم اپنے بنگلے میں اپنے تین بچوں کے ساتھ بڑی خوشحال زندگی گزار رہا ہے۔ اس کی بیوی ایک بہت بڑے نیوز چینل میں نیوز کاسٹر ہے۔ بہت پڑھی لکھی ہے۔ بچے بھی بڑے ٹپ ٹاپ ہیں دونوں کے۔ ہاں پر ایک بار میں نے قاسم کو سائیکاٹرسٹ کے کلینک میں دیکھا تھا۔ بہت پوچھنے پر بس اتنا ہی کہا " پتا نہیں اماں! سکون نہیں۔ سب کچھ ہے لیکن ڈیپریشن ہے کہ جان ہی نہیں چھوڑتا۔،،

'' بیٹا گھر میں رہا کرو۔ کبھی نماز کی طرف بھی توجہ دو۔ قرآن پڑھ کر بچوں پر بھی پھونکا کرو اور اپنے شوہر پر بھی۔" میں نے اس کی بیوی کو پکڑ کر

سمجھایا۔

" اماں ! آپ پھونکیں مارتی تو ہیں۔"

میں اپنی جگہ، کچھ تمہارا بھی فرض ہے۔ "

" پھونکیں مارنا کہاں کا فرض ہو گیا۔"

وہ ہنسنے لگی۔

پڑھی لکھی ہے ناں بہت۔ دلیلیں بہت دیتی ہے۔ ویسے میرا بہت احترام کرتی ہے بابا جی! گھر چلی جاؤں تو چھٹی لے لیتی ہے افس سے۔ بچوں کو بھی کہتی ہے' دادی سے ملو۔ دادی کے پاس بیٹھو۔"

" یہ تو بہت اچھا ہے۔۔۔۔۔ آیا جایا کریں وہاں۔،،

" ہاں وہ۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔ چلی تو جاؤں لیکن بابا جی! وہ فیاض صاحب کی بیٹیاں مجھے وہاں جا کر بڑا یاد آتی ہیں۔ میرا دل بڑا گھبراتا ہے جی۔ جی چاہتا ہے کہ قاسم کے گھر سے بھاگ جاؤں۔ اے سی لگا ہے، بڑا پیارا پھولوں سے بھرا ہوا لان ہے، دنیا جہاں کی سہولتیں ہیں۔ لیکن مجھے بڑا کاٹتی ہے۔ بہو مجھے مدرز ڈے پر مہنگا سا گفٹ دیتی ہے۔ میں نے اسے تو نہیں بتایا لیکن ہر بار میں وہ گفٹ کسی اور دے دیتی ہوں۔ ایک بار تو کام والی کو دے دیا تھا۔ اسے پتا چلا تو وہ برا تو مانے گی لیکن وہ میری بات بھی نہیں مانے گی کہ اس کی دی ہوئی چیزیں مجھے کاٹتی ہیں۔ ہولاتی ہیں۔ مجھے بڑا رونا اتا ہے قاسم کے گھر جا کر۔"

" فیاض صاحب سے مل لیں۔۔۔۔"

" پانچ بچیاں چھوڑ کر وہ مر گئے تھے جی۔ جمیل نے ان کی کفالت کرنی چاہی مگر جو جو کچھ میں ان کے گھر کہہ آئی تھی ناں ، تو انہوں نے کہا کہ مر جائیں گے امداد نہیں لیں گے۔ جمیل نے میرے آگے ہاتھ جوڑ دیے کہ جاؤ، کچھ


کہہ سن لیا ہے تو معافی مانگ لو۔ مرنے والے کی روح کو قرار آ جاۓ گا۔ لیکن میں کیوں کسی مرے ہوے کی روح کے قرار کا انتظام کرتی بابا جی۔۔۔۔ لوگ کیا کہتے۔۔۔۔۔۔ بیٹا پڑھنے باہرگیا ہے اور ماں نے پکڑ کر چوڑے چماروں میں رشتہ کر دیا۔"
" شجاعت سے بات کی ہے میں نے کنیز! وہ کہتا ہے کہ اگر لڑکی اچھی ہے تو حیثیت دیکھیں۔"

جمیل کو جیسے کسی پل چین نہیں تھا، انہوں نے فون پر شجاعت سے بات کر لی تھی اور اب مجھے منا رہے تھے۔ میں نے کسی کی نہیں سنی، اور اپنی ایک سہیلی کی بیٹی سے شجاعت کا رشتہ پکا کر دیا۔ یہ جاتے رہے تھے ان کے گھر، ان کی خیر گیری کر لیتے تھے۔ امداد تو انہیں گوارا نہیں تھی لیکن ان کی عزت بڑی کرتے تھے۔ سو بار کہتے کہ کوئی کام ہو تو بتائیں لیکن وہ جوان جہان بچیاں بجلی، پانی کے بلوں کے لیے اکیلے دھکے کھاتی رہتیں لیکن انکل جمیل کو زحمت نہ دیتیں۔ اپنے لیے نوکری ڈھونڈتیں۔ سلائی مشینیں چلاتی لیکن ان سے نہ کہتیں کہ وہ دو مہینے کا بل نہیں جمع کروایا، کچھ پیسے ادھار دے دیں۔ گیس والے گیس کاٹ گئے ہیں۔ ماں بیمار ہو گئی ہے۔ اسے دمہ ہو گیا ہے، اتنے اتنے ٹیسٹ کرواۓ ہیں۔ وہ اپنی گاڑی میں بٹھا کر لے جانا چاہتے تو کہتیں کہ " اماں کا گاڑی میں دم گھٹتا ہے۔ بس میں ہی ٹھیک رہتی ہیں۔"

" ان کا اللہ مالک ہے۔ آپ تو خوش تو ہیں ناں!"

" جی۔ میں بہت خوش ہوں ۔ شجاعت کے سسرال والوں کی تو جیسے لاٹری نکل آئی تھی۔ شجاعت میرے چاروں بیٹوں میں سب سے زیادہ پیارا اور اسمارٹ ہے۔ پورا انگریز لگتا ہے۔ لوگ فلم کا ہیرو سمجھتے ہیں اسے۔ اس کی تو

تصویر دکھانے کی دیر تھی کہ ساس کا بس نہیں چلتا تھا کہ فورا بیٹی کا نکاح پڑھوا دے۔ اکلوتی تھی ماں باپ کی۔ بہت جہیز لائی تھی۔ اب لندن میں بوتیک چلاتی ہے۔ سوئمنگ پول والا گھر ہے وہاں ان کا ۔ سال میں دو بار آتے ہیں مجھ سے ملنے۔ ورنہ مجھے ٹکٹ بھیج کر بلوا لیتے ہیں۔"

"ماشا اللہ! اللہ خوش رکھے۔"

" آمین۔۔۔۔ میں نے بڑی جدوجہد کی اپنے بیٹوں کی ترقی کے لیے۔ ان کی بڑے سے بڑے گھرانوں میں شادیاں کیں تاکہ سسرال والے انہیں آگے بڑھنے میں مدد دے سکیں۔ ان کے لیے ایک سے ایک پڑھی لکھی ، خوبصورت لڑکیاں ڈھونڈیں۔ معاشرے میں بڑا مقام ہے میرے بیٹوں کا۔ لوگ جھک جھک کر سلام کرتے ہیں۔"

" واقعی آپ نے جدوجہد تو بہت کی۔۔۔۔ بیٹوں کی ماں تھیں نا آپ۔۔۔۔۔"

" اب جمیل صاحب تو میرے کاموں میں بالکل نہیں بولتے تھے۔ نعمان کے لیے بھی ایک لڑکی پسند کر لی تھی۔ حیثیت ہمارے برابر تو نہیں تھی لیکن چلیں بس گزارا تھا۔ یتیم تھی، ماں نے دوبارہ شادی نہیں کی تھی۔ ماموں کے پاس رہتی تھی۔ میں نے بات پکی کر دی۔ تین چار ملاقاتیں ہوئیں تو میں نے غور کیا کہ لڑکی اپنا بایاں ہاتھ نہیں ہلاتی۔ تھوڑی تحقیق کی تو پتا چلا کہ لڑکی کا ہاتھ بچپن سے ہی ایسا ہے۔ کچھ پکڑ وکڑ نہیں کر سکتی تھی اس سے۔ وہ غیر محسوس ایک طرف لٹکا رہتا تھا۔ مجھے بڑا غصہ آیا کہ ایک تو مجھے لولی لنگڑی لرکی دے دی پھر یہ بات مجھ سے چھپائی بھی۔ اس کی ماں بڑا روئی بے چاری۔ کہنے لگی کہ بچی نے باپ کے مرنے کا بڑا غم لیا تھا، فالج ہو گیا تھا، ہاتھ بے کار ہو گیا۔ جو آتا ہے ہاتھ کی وجہ سے انکار کر دیتا ہے۔ میں بھائی کے گھرپڑی ہوئی ہوں، جلد سے جلد بچی کے فرض سےسبکدوش ہونا چاہتی ہوں۔

" اب وہ کیا چاہتی ہے مجھے اس سے کیا مطلب بابا جی! جہاں تین بڑی بہوویں نگینہ تھیں وہاں ایسی ویسی لڑکی کیسے لے آتی۔ پھر حیثیت میں بھی کم تھے وہ لوگ۔ ماں مر جاتی تو لڑکی کو کون پوچھتا۔ میرا نعمان زرا مذہبی سا ہے۔ بڑی سختی سے کہا تھا اس نے کہ میرے لیے بھابیوں جیسی ماڈرن بیوی مت لائیے گا۔ بس اسی چکر میں ، میں پھنس گئی اس گھرانے میں۔ جو امیر تھے، ان کی بچیاں بڑی ماڈرن تھیں۔ جہاں شرافت تھی، وہاں حیثیت نہیں تھی۔ پھر یہ ہاتھ کا مسئلہ۔

جس وقت میں انکار کر کے ڈرائنگ روم سے نکل گئی تھی، اس وقت آنسو پونچھتے ہوۓ اس لڑکی نے بڑی بے بسی سے کہا تھا۔

" میرا تو ایک ہاتھ بے کار ہے آنٹی ! آپ کا تو پورا دل ہی بے کار ہے۔ جو اپنے دل میں رحم نہیں رکھتا، وہ اللہ کی محبت پر بھی حق نہیں رکھتا۔"

" بچی نے ٹھیک کہا تھا۔ اللہ کو رحم کرنے والے بہت پسند ہیں۔"

" ٖغلط تو میں نے بھی نہیں کیا تھا بابا جی! لوگ کیا کہتے، کیسی لڑکی بہو بنا کر لے آئی میں۔ اتنا بڑا آفیسر۔ میرے چار بیٹے، میں کوٹھی میں رہنے والی، میرے گھر چار ملازم، میرے اکاؤنٹ میں پیسوں کی بھرمار۔ کیا کرتی میں۔ کیسے ایسے ویسوں میں اپنے بیٹوں کی شادیاں کر دیتی۔"

" ٹھیک کیا آپ نے۔۔۔۔ اب کیا چاہتی ہیں آپ؟"
" واصف نے اپنی بڑی بیٹی کی منگنی کر دی ہے۔ اتنی عمر ہو گئی ہے میری۔ اس عمر میں کیا چاہوں گی میں۔ جب چاہتی ہوں لندن پہنچ جاتی ہوں۔ ہر سال ایک عمره کرتی ہوں۔ تین حج کر چکی ہوں۔ ہر سال لاکھوں روپیہ زکوۃ نکالتی ہوں۔ سردی، گرمی، ملازموں کو کپڑے بنا کر دیتی ہوں۔ ریل پیل ہے پیسے کی۔۔۔۔۔ بڑا نام ہے میرے بیٹوں کا۔"

" ماشاء اللہ ۔۔۔۔۔ یہی تو چاہتی تھیں آپ۔۔۔۔۔۔"

" یہی چاہتی تھی بابا جی ! اور جو چاہتی تھی مل بھی گیا۔۔۔۔۔"

" پھر کیا کھو گیا ہے آپکا ؟"

وہ بچوں کی طرح دونوں ہاتھوں کو مسلنے لگیں۔ گال آنسوؤں سے تر ہو چکے تھے۔

" کیا کھو گیا ہے آپکا؟" انہوں نے نرمی سے دوبارہ پوچھا۔

" اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ میرا رب کھو گیا ہے۔۔۔۔ اب وہ نہیں ملتا کہیں۔۔۔۔۔ تہجد بھی پڑھتی ہوں جی۔ ہر وقت تسبیح پڑھتی رہتی ہوں۔ دو سپارے روز پڑھتی ہوں ۔ اور یہ جو میرا بایاں ہاتھ ہے نا، یہ کام نہیں کرتا۔ کچھ ہوا بھی نہیں۔ واصف نے وہاں لندن بلا کر ٹیسٹ کرواۓ تھے۔ سب کہتے ہیں مجھے وہم ہے، میں خود ہی ہاتھ کو ہلاتی جلاتی نہیں ہوں۔ ڈاکٹر بھی حیران ہے کہ ٹیسٹوں میں کچھ ایسا ویسا آتا بھی نہیں اور ہاتھ بھی کام نہیں کرتا۔"

" دعا کے لیے اٹھائیں، اٹھ جائے گا۔،" .

" سب بچے کامیاب ہیں۔ خوش باش ہیں ۔ صحت مند ہیں۔ ان کی سلامتی کی دعا کے علاوہ کیا دعا کروں۔" مغفرت کی دعا............."

" کیا کہوں اللہ سے۔۔۔۔۔ وہ مجھے معاف کر دے۔۔۔۔۔ وہ مجھے معاف نہ کر چکا ہوتا تو میرے پاس دنیا جہاں کی نعمتیں کیوں ہوتیں۔ بچے میرا اتنا احترام کیوں کرتے۔ نعمان کی بیوی میری اتنی خدمت کیوں کرتی۔ میرا گھر ، پوتے پوتیوں سے کیسے بھرا رہتا۔ وہ مجھ سے ناراض تو نہیں ............وہ ناراض نہیں۔۔۔۔۔ پر وہ دور ہے۔ میں اس کے قریب نہیں ہو سکی باباجی!،"

" بابا جی نے گہری سانس لی۔ " بی بی !جو جو آپ نے چاہا اللہ نے آپ کو دے دیا۔ جیسا چاہا دیا بلکہ اس سے بڑھ کر دیا۔"

" آپ مجھ سے صاف بات کریں بابا جی! بتائیں یہ کھویا ہوا رب کیسے ملے گا۔"

" دیکھو بی بی ! اللہ کا بھی مان ہوتا ہے اپنے بندے پر۔ وہ بھی دیکھتا ہو گا کہ دیکھوں یہ میرا بندہ ہے، میں نے اسے اتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ میں

نے اس اتنا کرم اور اتنا رحم کیا ہے، اب میرے بندوں پر بھی رحم کرے گا۔ اس کے گناہوں کو معاف کر کے میں اس پر مہربان رہا ہوں، اب یہ بھی میرے بندوں پر مہربان ہو گا۔

اللہ کے قریب ہونے کا سب سے آسان راستہ رحم ہے۔ اس کے بندوں پر رحم ۔ بس ۔ لیکن آپ نے دنیاوی چیزوں، رتبے کو فوقیت دی۔ اللہ نے ایک بار نہیں دو بار نہیں چار بار آپ کو اپنے قریب لانا چاہا۔ آپ نے چار بار خود کو اس کے قریب ہو جانے سے دور کر لیا ۔ اس نے تو سب سے آسان راستہ دیا تھا آپ کو۔ آپ کو جہاد نہیں کرنا تھا۔ نفس کشی

نہیں کرنی تھی۔ چلے نہیں کاٹنے تھے، آپ کو خود پر جبر نہیں کرنا تھا، بس ایک دل بڑا کرنا تھا۔۔۔۔ ذراسا رحم پیدا کرنا تھا۔

وہ ناراض نہیں۔ وہ دور بھی نہیں، پر آپ کو وہ قرب بھی نصیب نہیں جو رحم کرنے والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ وہ آپ کی دعائیں بھی سنتا ہے، قبول بھی کرتا ہے، ہوتا ہے، نمازیں بھی اہم ہیں لیکن آپ اپنا رتبہ نہیں بڑھا سکیں۔

جو رزق اللہ دیتا ہے اس میں سے چند دانے نکال کر دے دینا، کوئی بڑی بات نہیں۔ کچھ آزمائشیں خود کو پیش کر کے دینی پڑتی ہیں۔ اللہ کے بندوں کے عیب نظر انداز کر کے ۔ مخلوق کے عیب چھپا کے۔ مخلوق کے درد کی دوا بن کر ۔ اللہ سب زیادہ اس بندے سے راضی ہوتا ہے، جو اس کی مخلوق کے زخموں کی دوا کرتا ہے۔ آنسو پونچھتا ہے، دل پر مرحم رکھتا ہے۔ اپنے لائق فائق بیٹوں سے آپ کتنی آسانی سے اللہ کو راضی کر سکتی تھیں۔ جو جو چیزیں آپ کو عزیز تھیں وہ وہ آپ کو دے دی گئیں۔ آپ کو محبت عزیز نہیں تھی، تو آپ

کہ یہ محبت دی بھی نہیں گئی ۔ انسان وہی حاصل کرتا ہے۔ جس کے لیے وہ جدوجہد کرتا ہے۔ آ پ کو بھی وہ سب دے دیا گیا، جس کے لیے آپ نے کوشش کی۔ اللہ ہاتھ پکڑ پکڑ کر آپ کو وہاں وہاں لے کر گیا اور۔۔۔۔۔۔۔ لیکن آپ وہاں وہاں سے ہاتھ چھڑا چھڑا کر بھاگتی رہیں۔"

" اب میں کیا کروں بابا جی! چاروں بیٹے ہر مہینے میرے اکاؤنٹ میں پیسے ڈال دیتے ہیں۔ روز فون کر کر کے پوچھتے ہیں۔۔۔۔ بہوویں عزت کرتی ہیں۔

پوتے پوتیاں لاڈ کرتے ہیں۔ ایک بس وہی۔۔۔۔ میرا رب ، جو مجھ سے کھو گیا۔ بس وہ ہی اب کہیں نہیں ملتا ۔ بیٹوں کی ماں نے ، مخلوق کے خدا کو کھو دیا بابا جی! میں کیا کروں بابا جی۔۔۔۔۔"
منقول۔۔۔۔۔












Post a Comment

0 Comments