9 Urdu Quotes Wallpapers - Islamic Batian

9 Quotes Wallpapers In Urdu - Islamic Batian. islamic baatein in urdu, islamic baatein in urdu facebook, achi baatein in islam, zindagi ki achi batain, famous Urdu quotes, Urdu quotes in Hindi, Urdu quotes with images, Urdu quotes with pictures for Facebook, Urdu quotes images Facebook, urdu quotes on zindagi, mahekte alfaz post in image, black background urdu facebook share, quotes in urdu about life, beautyfull 2line sad thought in urdu, sad thoughts 2 line.






*کیوں کہ میں ماں ہوں*💞
💞*
ایک عورت اپنے تین ماہ کا بچہ ڈاکٹر کو دکھانے آئی کہ ڈکٹر صاحب میرے بچے کے کان میں درد ہے ، ڈاکٹر نے بچے کا معائنہ کیا اور کہا واقعی اس کے کان میں انفیکشن ہے اور پیڈ اٹھا کر ایک دوائی لکھی اور رخصت کیا ، ڈاکٹر حیران تھا ، عورت جانے لگی تو اس نے آواز دے کر اسے روکا ، وہ رک کر پیچھے دیکھنے لگی ، جیسے کچھ بھول گئی ہو ، ڈاکٹر نے کہا بہن جی ، آپ کا بچہ تین ماہ اور سات دن کا ہے ، جو بول بھی نہیں سکتا ، تو آپ کو کیسے پتہ چلا کہ اس کے کان میں تکلیف ہے ؟*



*وہ مسکرائی اور ڈاکٹر کی طرف رخ کرکے کہنے لگی ، بھائی جی ، آپ کان کی تکلیف پہ حیران ہیں ، میں اس کے رگ رگ سے واقف ہوں ، یہ کب روتا ہے ، کب جاگتا ہے ، کب سوتا ہے ، مجھے اس کے سارے دن کا شیڈول پتہ ہے ، کیوں کہ میں ماں ہوں اس کی ،*
*انسان کو جب کوئی تکلیف ہو ، تو اس کے دن بھر کا شیڈول بدل جاتا ہے ، اور کھانے پینے سونے جاگنے کے اوقات بدل جاتے ، طبیعت خراب ہونے سے ، انسان ھر وقت بے چین رہتا ہے ، کل رات سے میرا بچہ بھی خلاف معمول روئے جارہا روئے جارہا ہے ، رات جاگ کہ گزاری میں نے اس کے ساتھ ، صبح کو میں نے غور کیا ، تو بچہ جب رو رہا تھا تو ساتھ ہی اپنا ننھا ہاتھ ، اپنے ننھی سی کان کی طرف لے جا رہا تھا ، میں بچے کو اس کے باپ کے پاس لے گئی ، کہ اس کہ کان میں درد ہے ، وہ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے کہ مجھے کیسے پتہ چلا ۔*
*اس نے بچے کے کان پہ ھاتھ رکھا تو بچہ اور زور سے رونے لگا ، اور میں بھی بچے کی تکلیف دیکھ کے رونے لگی ، اپنے بچے کی تکلیف برداشت نہیں کرسکی ، کیوں کہ میں ماں ہوں ۔*

*عورت چلی گئی اور ڈاکٹر نم آنکھوں سے دیر تک کھڑا سوچتا رہا کہ ماں تین ماہ کے بچے کا دکھ درد سمجھ سکتی ہیں اور وہ روزانہ ماں سے کتنی دفعہ جھوٹ بولتا ہے اور وہ یقینا اس کے سارے جھوٹ جانتی ہے کیوں کہ وہ ماں ہیے ۔ تب سے اس نے کبھی ماں سے جھوٹ نہیں بولا ۔*

*” اللہ “ سب ماؤں کو زندہ سلامت رکھیں اور جن کی مائیں دنیا سے پردہ کر گئیں ہوں ، ” اللہ “ انہیں جنت الفردوس میں داخل فرمائیں ، آمین ۔




#روبینہ_یاسمین
خاموشی سے مشاہدہ کر کے چیزوں کو محسوس کرنا سیکھیں

کینیڈا میں سب سے اہم شناختی دستاویز ڈرائیونگ لائسنس ہے۔ کہیں بھی چلے جائیں اپنی شناخت ثابت کرنے کے لئے آ پکو اپنا ڈرائیونگ لائسنس دکھانا ہے۔ یہ لائسنس بھی جی ون، جی ٹو اور پھر جی تین مراحل میں مکمل ہوتا ہے۔ جی لائسنس کا مطلب ہے اب آ پ قابل اعتماد ڈرائیور ہیں اور کسی بھی وقت جتنے مرضی لوگوں کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر ڈرائیو کرسکتے ہیں۔ اس سے پہلے والی کیٹیگریز میں آ دھی رات سے علی الصبح تک اور انیس سال سے کم عمر کے تین سے زائد لوگوں کو ساتھ نہیں بٹھا سکتے۔ فرنٹ سیٹ پر صرف جی لائسنس والے کو بٹھا سکتے ہیں۔ اور بھی بہت سی پابندیاں ہیں جو جی کیٹیگری میں آ نے کے بعد ہی ہٹتی ہیں۔

اس ساری کہانی سنانے کا مقصد یہ ہے کہ اتنی مشقت کے بعد حاصل کئے گئے لائسنس کے بعد بھی ٹریفک کے جتنے قوانین یاد کئے ہوتے ہیں وہ اس وقت کالعدم ہو جاتے ہیں جہاں پولیس والا کھڑا ہو۔ ٹریفک سگنل جو مرضی کہے ٹریفک کا قانون جو مرضی ہو جو پولیس والا اشارہ کرے گا کرنا آ پ نے وہی ہے۔ تو اگر آ پ نے پولیس کو نظر انداز کرنے کی غلطی کر کے سمارٹ بننے کی کوشش کی تو ٹریفک ٹکٹ مل جائے گا۔
کامن سینس اسی کو کہتے ہیں ہر شخص کو ایک لاٹھی سے نہیں ہانکا جاتا ۔ حکمت عملی بدلنی پڑتی ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے ردعمل دینا ہوتا ہے۔ رسپانس میں ردوبدل کرنا پڑتا ہے۔
مشین میں اور انسان میں یہی فرق ہے۔ مشین میں جو فیڈ کر دیا اس نے ویسے ہی چلنا ہے۔ انسان اپنی فہم کے مطابق اپنے عمل میں کچھ نہ کچھ بہتری لاتا رہتا ہے۔
چیزوں کو محسوس کرنا آ نا انسان کی بڑی خوبی ہے۔ بہت سی باتیں کہی نہیں جاتیں لیکن انہیں سینس کرنا سیکھنا چاہیئے۔ کامیابی پانے کے لئے بہترین مشاہدہ کرنے کی صلاحیت پروان چڑھانا ضروری ہے۔ برطانیہ کا کوئی لکھا ہوا آ ئین نہیں تو کیا وہاں لوگ قانون کی پاسداری نہیں کرتے؟ جو بتایا نہیں گیا، جو لکھا نہیں گیا، جو سمجھایا نہیں گیا اسی کو سینس کر کے سمجھنے والا اور بہترین رسپانس دینے والا ہی ہجوم میں اپنی علیحدہ شناخت بنا پاتا ہے۔
سائلنٹ آ بزرور بننا بہتر ہے ۔ بنا سوچے ردعمل دینے سے بہتر ہے سوچنے کا وقفہ لے کر نپی تلی بات کرنا۔ تو پھر حقائق کو جانچنے ،انکا تجزیہ کرنے کی عادت ڈالیں ۔ جہاں سامنے والا بات سمجھنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو وہاں خاموشی ہی بہتر ہے۔
تو شروع کریں پھر یہ مشق اور دیکھیں کیا تبدیلی آ تی ہے آ پ میں اور آ پ سے وابستہ لوگوں میں۔






No comments