Lines From Urdu Novel - Iktibas in Urdu

Lines From Urdu Novels Images - Iktibas in Urdu Photos, Black Background Urdu Novels say iqtibas,sad iktbas by urdu novl, Quotes in Urdu Images From Urdu Novels, umera ahmed novels iqtibas, aab e hayat novel in pics, best iqtibas fb, iqtibas from urdu novels, iktibas in urdu, khoobsurat iqtibas, khoobsurat iqtibas, urdu mazahiya iqtibas, urdu adab iqtibas, urdu iqtibas ashfaq ahmed, nimra ahmed quotes, urdu quotes about life, beautiful quotes in urdu for facebook, amazing quotes in urdu.


ہر کھوئی چیز واپس نہیں ملتی۔ اپنے ہاتھوں سے کسی کو کھو دو تو وہ کبھی واپس نہیں ملتا۔



پانی بچانے والوں کو بچاؤ


ویسے تو ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہر شخص نہ صرف دانشور ہے، بلکہ اس کے پاس دنیا کے ہر مسئلے کا حل بھی موجود ہوتا ہے۔ یہ الگ بات کہ اس حل کو سمجھنے کی صلاحیت ہر کسی میں نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے دنیا تمام مسائل کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔

اس سمجھداری کی ایک بہترین مثال زیریں علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی یہ سوچ بھی ہے کہ وہ بالائی علاقوں میں ڈیم بننے اور بنانے کے مخالف ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں بالائی علاقوں میں ڈیم بننے سے پانی کے اندر کی ساری بجلی نکال لی جائے گی اور باقی رہ جانے والے ’پھوکلے پانی‘ کا کسی نے بھلا کیا کرنا ہے۔

چلیں ہم اپنی تمام تر پڑھائی کو بھاڑ میں جھونکتے ہوئے اس منطق سے اتفاق کرلیتے ہیں لیکن پھر انہی زیریں علاقوں میں رہنے والوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ اگر بالائی علاقوں میں ڈیم وغیرہ نہ بنائے جائیں تو کم از کم آپ اپنے ہاں ہی ڈیم بنا کر پانی بچالیجئے کہ سارا پانی سمندر میں گر رہا ہے لیکن کسی استعمال میں نہیں آرہا۔ اس پانی سے آپ خود بجلی پیدا کریں یا بجلی نکال کر اپنی فصلوں اور پیداوار میں اضافہ کریں، اس سے کس نے منع کیا ہے؟
اسی معاشرے کے بالائی علاقوں میں رہنے والے بھی اتنے سمجھدار ہیں کہ ان کو ڈیم سے کم پانی جمع کرنے، استعمال کرنے اور بچانے کا کوئی طریقہ پتہ ہی نہیں۔ اگر پتہ بھی ہے تو اسے استعمال کرنا وہ کسر شان سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح علاقے کی زراعت کو فائدہ ہوسکتا ہے اور ہم دوسروں کے فائدوں پر زیادہ خوش اور راضی ہونا بھی پسند نہیں کرتے۔ ان لوگوں کی ہر تان بھی آجا کر چند مخصوص ڈیموں پر ٹوٹتی ہے، جو اب دوسروں کے ساتھ ان کی اپنی چڑ بھی بن چکے ہیں۔

ہمارے ہاں ہر کام کےلیے حکومت ہی ذمے دار ہوتی ہے اور انفرادی سطح پر کام کرنا ہمیں ہمیشہ توہین کا احساس دلاتا ہے کہ دیکھو میں کام کررہا ہوں، جبکہ باقی سارے جنہیں بھی یہ کام کرنا چاہیے وہ آرام سے بیٹھے ہیں۔ پندرہ سال پہلے نجانے کون بھلا مانس حکومت میں بیٹھا تھا جسے یہاں رہنے والوں کے مستقبل کی فکر ہوئی کہ اگر آنے والے برسوں میں ہم نے پانی بچانے پر توجہ نہ دی تو تباہی کی طرف ہمارا سفر چلنے کے بجائے دوڑنے لگے گا۔ حکومت نے اس ذمے داری کو اٹھایا اور واٹر منیجمنٹ کا ادارہ قائم کیا۔ لیکن حکومت بھی تو عوام کا پرتو ہوتی ہے۔ اس لیے عارضی ملازمین سے کام کا آغاز کیا گیا۔

اس ادارے کا کام کسانوں میں شعور لانا تھا کہ نہروں کے کھالے پکے بنائے جائیں تاکہ پانی کے ضائع ہونے کو کم سے کم کیا جاسکے۔ اعداد و شمار کہتے ہیں کہ اگر کھالے تیس فیصد پکے ہوں تو آپ ایک ڈیم کے برابر پانی بچا سکتے ہیں۔ حکومتوں نے اہداف مقرر کئے اور کام شروع ہوگیا۔ آج پندرہ سال گزرنے کے بعد ادارے نے اپنے بہت سے اہداف تو حاصل کرلیے لیکن اس کے ملازمین ابھی تک اپنے بنیادی حق اور ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں اور اس ناکامی پر ایک مہر پچھلے دنوں سپریم کورٹ کی طرف سے لگائی گئی، جب ان ملازمین کے آٹھ سال پرانے کیس میں ایک لائن کا فیصلہ سنایا گیا کہ یہ تمام ملازمین مستقل نہیں ہوسکتے۔

یہ ملازمین مستقل کیوں نہیں ہوسکتے یا مستقل ہونے کی کیا شرائط ہیں جن پر یہ پورے نہیں اترتے؟ ایسی کوئی بات نہیں بتائی گئی۔ اچھی بات تو یہ تھی کہ اگر ادارے کے ملازمین کو مستقل نہیں کرنا تھا تو پہلے دن ہی بتادیا جاتا لیکن اب پندرہ سال نوکری کرنے، اپنی عمر اور جوانی گزار لینے کے بعد جب عدالت کی طرف سے بھی یہ کہا جارہا ہے کہ ان ملازمین کو مستقل نہیں کیا جاسکتا تو سوال یہ ہے آخر ان کا قصور کیا ہے کہ انہیں مستقل نہ کیا جائے؟

پنجاب میں اس وقت ساڑھے تیرہ سو ملازمین اس ادارے سے وابستہ ہیں، لیکن ان کے بارے میں کسی کو کوئی فکر اس لیے بھی نہیں ہے کیونکہ یہ تمام کسی ایک حلقے میں نہیں آتے۔ ورنہ ساڑھے تیرہ سو گھرانوں کے ووٹ کےلیے ایم این اے اور ایم پی اے صاحب کو اپنی پارٹی میں بغاوت بھی کرنی پڑجاتی تو وہ اس سے گریز نہ کرتے۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ حکومت اور انتظامیہ میں موجود لوگ اس معاملے کی سنگینی کا اندازہ لگانے سے قاصر ہیں۔ یہی سپریم کورٹ کچھ عرصہ پہلے تک ڈیم بنوانے کےلیے کوشاں تھی اور اس کےلیے اربوں روپے کے اشتہار چینلز والوں نے مفت چلائے۔ وقت کی ستم ظریفی کہ اسی سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ ہر سال اور ہر سیزن میں ڈیم برابر پانی بچانے کی کوشش کرنے والے مستقل نہیں ہوسکتے۔


اب یہ سب لوگ اپنے حق کےلیے سڑکوں پر دھکے کھائیں گے۔ شائد پولیس سے ڈنڈنے بھی کھانے پڑ جائیں۔ ہڑتالیں اور احتجاج اس سب کے سوا ہوگا۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ حکومت اور انتظامہ آخر اس مسئلے کو حل کرنے میں دلچسپی کیوں نہیں لے رہی؟ کیا ہم کچھ لاشوں کے گرنے کا انتظار کررہے ہیں؟ یا پھر ابھی میڈیا نے اس معاملے کو اس طرح سے اٹھایا نہیں جس سے ہمیں بیان بازی کرتے ہوئے خود بھی ریٹنگ مل سکے؟ اس لیے انتظار ہے کہ معاملہ خوب گرم ہو، میڈیا میں ہر طرف اس کا ذکر ہو پھر ہمیں بھی کچھ موقع ملے اسکرینوں پر اپنی موجودگی ثابت کرنے کا اور تب کہیں ہم کوئی ایک آدھ بیان دے کر معاملے کو مزید کچھ عرصے کےلیے ٹالنے کی کوشش کریں گے۔

بات بہت چھوٹی سی ہے کہ وہ تمام لوگ جو ملک میں کم ہوتے پانی کے ذخائر کی حفاظت میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، جو پانی بچانے کےلیے اپنا دن رات لگا چکے ہیں، ان لوگوں کو بچانے کی ضرورت ہے۔ خدارا ان لوگوں کو بچائیے کہ یہ سب بھی پاکستانی ہیں اور ہمارے معاشرے کا ہی حصہ ہیں۔ سوشل میڈیائی مجاہدین سے گزارش ہے کہ وہ اس معاملے میں آواز اٹھانے کی زحمت نہ کریں، کیونکہ انہوں نے جس کےلیے بھی آواز اٹھائی وہ تمام لوگ کچھ دن کی لائم لائٹ کے بعد معاشرے کی بے حسی کا شکار ہوگئے۔

ساڑھے تیرہ سو لوگوں کی بات ہے۔ یہ لوگ پہلے سے نوکری کررہے ہیں، انہیں ان کی نوکریاں کرنے دیں۔ بس ساتھ ایک چھوٹا سا مستقل ہونے کا پروانہ جاری کردیجئے۔ یہ لوگ پانی بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، انہیں سڑکوں پر آنے سے روکیے۔ ہر معاملہ سیاست کرنے کےلیے نہیں ہوتا اور ہر معاملے پر تاخیر کبھی کبھار بہت ’تاخیر‘ بھی کردیتی ہے۔ ہم جو اپنے پانچ دریاؤں میں سے تین کے سوکھے پن کا پہلے سے شکار ہیں، ملک میں باقی رہ جانے والے پانی کو بچانے کےلیے ان لوگوں کو بچانے میں ہمارے کردار کی بہت اہمیت ہے۔


آئیے حکومت اور انتظامیہ سے گزارش کریں کہ اپنے اور ہمارے بچوں اور نسلوں پر رحم کرے۔ ڈیم تو پہلے بھی نہیں بنائے جارہے لیکن جو ڈیم برابر پانی بچانے میں لگے ہیں انہیں تو کم از کم بچایا جاسکتا ہے۔ آپ کی ایک سچی کوشش آپ کی اپنی آنے والی نسلوں پر آپ کا احسان ہوگا۔ یہ احسان وقت پر کیجئے، اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے۔











Post a Comment

0 Comments