10+ Famous Quotes Images In Urdu - Aqwal e Zareen Photos

10+ Famous Quotes Images In Urdu - Aqwal e Zareen Photos. famous Urdu quotes, Urdu quotes in Hindi, Urdu quotes with images, Hindi quotes, Urdu quotes with pictures for Facebook, urdu quotes on zindagi, mahekte alfaz post in image, black background urdu facebook share, quotes in urdu about life, beautyfull 2line sad thought in urdu.

نیکی کیلئے تکلیف برداشت کرنی پڑے تو کرلو ، کیونکه تکلیف تو آخر ختم ہو ہی جاے گی لیکن نیکی ختم نہیں ہوگی




بچپن میں ہمارے علا قے میں ایک مَفلوک الحال نوجواں شخص ہوا کرتا تھا، جو ہر وقت میلے کچْیلے کپڑے پہنے، اْلجھے ہوئے بال، ہوش و حواس سے بالکل عاری مگر صحت بہت اچھی تھی اْسے جو کوئی بھی کام کرنےکا کہتا وہ بغیرکسی حیل و حْجت فوراً اْس کوسرانجام دینے لگ جاتا۔ اْس کی آوازمیں بھی ایک مٹھا س تھی وہ جب بھی ہمارے گھر کے پاس والے چوک میں آتا تو لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اْسے گھیر لیتی اور اْس سے گانے کی فرمائش کرتی تو وہ ہمیشہ یہی اشعارگا کرسنْاتا ًبول مٹی دیا باویا تینوں دْکھاں نے مارمکایا ً اْس وقت تواْس کے گائے ہوئے یہ بول صرف اچھے ہی لگتے تھے کیونکہ میرا بچکانہ ذہن اِس کا مطلب سمجھنے سے یکسر قاصر تھا۔ پھرحا لات کے ہاتھوں مجبور ہو کر مجھے اپنا شہر چھوڑنا پڑ گیا اوراْس کی باقی ماندہ زندگی کے بارے میں مزید معلومات نہ جان سکنے کا آج بھی افسوس ہے، اب برسوں بیت جانے کے بعد بھی جب کبھی اْس کا ہیْولا میرے ذہن کی اسکرین پرنمودار ہوتا ہے تو مجھےاْس کی سرتا پا بگڑی ہوئی شخصیت کےعقب میں چْھپی دْکھوں سے معموْر کسی درد ناک داستان کا احساس ہوتا ہے۔ میں اِبھی بھی اْس کے متعلق سوچتا ہوں کہ نہ جانے وہ بیچارہ اب کس حال میں ہو گا ؟ شاید بقیدِ حیات بھی ہے کہ نہیں ؟ بہرحال اْس کے گا ئے ہوئے یہ اشعار جس کسی بھی شخصیت نے، نہ صرف خوبصورتی کے ساتھ تراشے ہیں بلکہ مَٹی سے تخلیق کئےہوئے انسانی پیکر کی دْکھوں کے درندہ صفت پنجوں میں جکڑی زندگی کو بھی بڑے اَحسن طریقے سے اْجاگر کیا ہے۔ یہ واقعی ایک تلخ حقیقت ہے کہ انسانی زندگی چاہے کتنی ہی پْرآسائش اورچاروں اطراف سے اِمارت میں گھری ہوئی ہو، دْکھوں کا ایک لاؤ لشکرخفیہ خفیہ اْس کے ہمراہ محوِسفر رہتا ہےجو کسی دْشوار موڑ پر دفعتاً نمودار ہو کرایک اچھی بھلی خوشگوار زندگی کو بڑی بے رحمی کے ساتھ جہنم بنا کے رکھ دیتا ہے، ایسے میں بڑی بڑی ہستیاں اور قد آور شخصیات بھی ٹوٹ جانے والی مالا کے دانوں کی مانند بکھر کررہ جا تی ہیں اورپھراگر خوش قسمتی سے کوئی اپنا قریبی عزیز اِن بکھرے موتیوں کو اکٹھا کرکے دوبارہ پَرو ڈالنے کا کارنامہ سرانجام دے دے تو یہ معاشرے میں حیران کن واقعات کی فہرست میں شْمار ہونے لگتا ہے، لیکن ایسا کم کم ہی ہوتا ہے۔

شفقت علی ( لاہور )



"جب خلقت کے پاس آؤ تو زبان کی نگہداشت کرو"
حضرت لقمان علیہ السلام 


کورونا وائرس اور کچھ احتیاطی تدابیر

کراچی: کورونا وائرس اس وقت عالمی وبائی صورت ختیار کرچکا ہے۔ ایشیاء، امریکہ، یورپ ، افریقہ سمیت دنیا کے ہر گوشے میں اس خطرناک وائرس سے جنگ جارہی ہے ۔ گزشتہ چند ماہ میں کرونا وائرس کی وباء کے متعلق عوامی آگاہی بہت عام ہوچکی ہے جس کی بدولت عوام کی بڑی تعداد اب اس مسئلے کی سنجیدگی اور حسّاسیت سے واقف ہوچکی ہے۔ پاکستانی سماج میں بڑی تعداد میں لوگ اپنی ناخواندگی اورلاعلمی کی وجہ سے عملی اقدامات کرنے سے قاصرہیں۔ اس وقت پاکستان جس خطرے کا شکار ہے ، مستقل قریب میں اس کے نتائج انتہائی ہولناک ظاہر ہوسکتے ہیں۔


کرونا وائرس کے موجودہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت کرونا کے مریضوں کی تعداد 1400 سے زیادہ ہے ۔ کورونا ایک متاثرہ شخص سے کم از کم دو سے تین افراد کو منتقل ہوجاتا ہے۔ اگر دنیا بھر میں یہ وائرس اسی شرح سے پھیلتا رہے تو اگلے دو ماہ میں یہ تعداد 21 لاکھ ہوجانے کا خدشہ ہے اور اس طرح متوقع اموات ایک لاکھ تک ہوسکتی ہیں ۔ پاکستان میں موجودہ ہیلتھ کیئر انفرا اسٹرکچر اتنی بڑی تعداد میں مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہے ۔ اٹلی اور ایران کے موجودہ حالات اس تکلیف دہ صورتِ حال کا مظہرہےں ۔

کرونا سے متاثرہ زیادہ تر صحت مند افراد دو ہفتوں میں خود اپنی قوتِ مدافعت سے صحت یاب ہوجاتے ہیں۔جبکہ ایسے افراد جو کسی دائمی بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے کمزوری کا شکار ہوتے ہیں انہیں انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑجاتی ہے۔ چونکہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں سانس لینے کا نظام متاثر ہوتا ہے اس لیے مریض کو مصنوعی سانس یعنی وینٹی لیٹر کی ضرورت اکثر پڑجاتی ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق پورے پاکستان میں وینٹی لیٹرز کی تعدادتین ہزار سے کم ہے جوکہ بہت قلیل ہے یعنی اگرحالات خراب ہوتے ہیں تو اکثر مریضوں کو بچانے کے لیے وینٹی لیٹر موجود نہیں ہونگے جس سے شرح اموات کئی گنا بڑھ سکتی ہے ۔

کرونا کا ٹیسٹ جس مشین کے ذریعے ہوتا ہے اس کو رئیل ٹائم پی سی آر مشین کہتے ہیں،یہ ایک مہنگی مشین ہے جس کی قیمت تیس سے ساٹھ لاکھ روپے تک ہے ۔ ملک میں اس مشین کی تعداد بھی محدود ہے جس کی وجہ سے تشخیص کی رفتار سُست روی کا شکار ہوگی ۔ دیگر مشکلات میں تشخیص کے لیے استعمال ہونے والی خاص ٹیوب جسے سویب میڈیا کنٹینر کہتے ہیں کی فراہمی ہے۔ یہ ایک ایسی ٹیوب ہوتی ہے جس میں تشخیصی نمونہ رکھا جاتا ہے اور اس میں موجود مائع نمونہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ ان سویب کنٹینراور دیگر اشیاء کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب اور محدود فراہمی مستقبل قریب میں ایک مسئلہ بن سکتی ہے۔اس کے علاوہ جو تشخیص اور علاج کے لیے تربیت یافتہ افراد کی تعداد بہت کم ہے۔ مستقبل میں یہ مسئلہ ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

کورونا اور احتیاطی تدابیر

آخر میں کچھ باتیں جنہیں اختیار کرنے سے کرونا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیجئے۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں ۔ سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر اُبھری ہوئی پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں ۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں ۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے ۔ گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔ اس طرح دن میں ایک مرتبہ گرم بھاپ لینے سے سانس کی نالی اور سائینس کی بھی صفائی ہوجاتی ہے ۔

اس وائرس کے خلاف جنگ میں طاقتور دفاعی نظام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے لیے آٹھ گھنٹے کی نیند بہت ضروری ہے کیونکہ اس دوران دفاعی نظام اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرتا ہے اور دفاع کو مضبوظ بناتا ہے ۔ اس کے علاوہ معیاری اور متوازن غذا کی بھی بہت اہمیت ہے ۔

اس مسئلے کی سنجیدگی کو سمجھنا اور عملی اقدامات کرنا ہر فرد کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ حکومتی اقدامات کا احترام کرنا اور احتیاطی تدابیر کو مکمل اختیار کرنا نہ صرف ایک انسانی اور قومی فریضہ ہے بلکہ اپنے پیاروں کی محبت کا تقاضہ بھی یہی ہے۔ خود کو اور اپنے گھر والوں کو گھروں تک محدود رکھنا انتہائی ضروری قدم ہے ۔ انتہائی ضروری حالات میں ہی گھر سے باہر نکلنا چاہیے ۔ کرونا سے متوقع انسانی جانوں کا نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے اس وقت سب سے زیادہ ضروری امر فرد کا محتاط اور ذمہ دارانہ برتاو ہے ۔ جو قو میں مشکل حالات میں صبر کے ساتھ تنظیم اور اتحاد کا مظاہرہ کرتی ہیں وہی کامیابی سے اپنا توازن برقرار رکھ پاتی ہیں۔

اس تحریر کے مصنف جامعہ کراچی میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی، ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیور میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ میں سینیئر ریسرچ آفیسر ہیں۔



بعض اوقات اللہ کا بندے کی درخواست کو قبول نہ کرنا بندے پر شفقت کی وجہ سے ہوتا ہے۔
(شیخ عبد القادر جیلانی)



اللہ پاک سے دعا کیا کریں کہ 
آپ کی ہر دعا قبول مت ہو۔صرف وہی دعا قبول کی جائے جس میں بہتری ہو


تین کام کسی کے دل میں آپ کی عزت کو بڑھاتے ہیں 

1سلام کرنا
2کسی کو جگہ دینا 
3اچھے نام سے پُکارنا




آسمان پر نظر ضرور رکھو پر یہ نہ بھولو کہ پیر زمین پر ہی رکھے جاتے ہیں
جو شخص نصیحت مان لے وہ بعض اوقات نصیحت کرنے والے سے بھی بڑا ہوتا ہے۔
سب سے بڑا گناہ وہ ہے جو کرنے والے کی نظر میں چھوٹا ہو۔

No comments