12 Aqwal E Zareen In Urdu 2018 - Urdu Quotes Images

12 Latest Aqwal E Zareen In Urdu 2018 and Urdu Quotes Images Black Background.beautiful quotes in urdu on life, beautiful quotes in urdu on love, inspirational islamic quotes in urdu, Aqwal e Zareen in Urdu Images Download, Balck Background Aqwal e Zareen in Urdu Download.


بعض اوقات اللہ کا بندے کی درخواست کو قبول نہ کرنا بندے پر شفقت کی وجہ سے ہوتا ہے۔
(شیخ عبد القادر جیلانی)
.کہ ملنے کے صرف دو ہی معیار ہوتے ہیں ، خون ملتا ہو ، یا خیالات ملتے ہو ،
خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش رہے ۔۔
حضرت واصف علی واصف
.بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں سے زیادہ اپنے عیوب پر نظر کرے




عشق مجازی سے حقیقی کا سفر
اتنا آسان تو نہیں کہ کوئی عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر طے کرلے بیچ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے عقل کی سرحد جب تک انسان سرحد عبور نہ کرلے کسی منزل تک نہں پہنچ سکتا اور یہ تو منزلِ مقصود ہے عشق انسان کو کائنا ت کے کسی دوسرے حصے میں لے جاتا ہے زمین پر رہنے نہیں دیتا اور لاحاصل عشق رہتا ہے لوگ کہتے ہیں انسان عشق مجازی سے عشق حقیقی تک سفر کرتا ہے جب تک عشق لاحاصل رہتا ہے جب انسان جھولی بھر بھر محبت کرے اور خالی ہاتھ لے کر پھرے ، محبت اور عزت نفس کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔محبت سب سے پہلے عزت نفس کو ختم کردیتی ہے یا بندہ محبت کرلے یا پھر اپنی عزت نفس بچالے ہاتھ کی مٹھی میں دونوں چیزیں اکٹھی نہیں آسکتیں، عشق کرنے والے پہلے اپنے نفس کو پامال کرتے ہیں تب جاکے کہیں عشق کا دروازہ کھلتا ہے
السلام وعلیکم ورحمته الله وبرکاته


اللہ کی محبت میں اللہ کی طرف بڑھنا ہی حقیقی کامیابی ہے اللہ ایسے انسان سے بہت خوش ہوتا ہے جو اس سے اسکی محبت تعلق جوڑتا ہے وہ اسے بہت نوازتا ہے....
دنیاوی طور پر تو سب کو نوازتا ہی ہے دین میں سرفرازی عطا کرتا ہے.....
اللہ شکلو سورت کب دیکھتا ہے وہ حسب نسب بھی نہیں دیکھتا وہ بس بندے کی نییت دیکھتا ہے کہ کون کس ارادے سے آیا ہے.....
کسے کس کی محبت کھینچ لائی ہے.....
بس اتنا ہوں کہ ہمارا اٹھنا بیٹھنا سونا جاگنا نماز روزہ حج کوئی کسی کے ساتھ نیکی اللہ کی محبت میں ہو....
الله کی محبّت پاس ہو تو مجھے دکھ دکھ نہیں لگتے دکھوں میں بھی ایک لذت ہے ہو کوئی محسوس کرنے والا ...
. ذکر قلبی کی کثرت کریں ذکر سے آپکا دل روشن اور منور ہو گا دل کا اندھا پن دور ہو گا دل میں نورانیت پیدا ہو گی....
ذکر قلبی سے میں بہت کچھ پایا ہے سب سے زیادہ جو ملا وہ اللہ اور اس کے رسول صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی محبت ملی جتنا ذکر زیادہ کریں اتنا انسان کا درجہ بڑھتا ہی جاتا ہے......
"تم میں سے بھتر مسلمان وه ھے جس کے ھاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رھیں"
_____ارشاد نبوی صلی الله علیه وسلم__
مشکلات ذندگی کا حسن ہیں جو ان پر قابو پالیتا ہے وہ ذندگی کو بامعنی اور بامقصد بنا لیتا ہے یقین رکھیے ہر رات کے بعد صبح بخشنے والا آزمائشیں ضرور دیتا ہے لیکن آزمائش میں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا آزمائش تو اللہ اپنے خاص بندوں کی تربیت کے لیے دیتا هے



======================================================



م سب بندر ہیں۔۔۔
شہر کے مین چوک میں جب میں نے ایک اونچے تھڑے پر کھڑے ہو کر باآواز بلند یہ بات کہی تو سبھی خاموش ہو گئے۔۔
"ہم سب بندر ہیں"
میں نے دوبارہ کہا تا کہ جنہوں نے نہیں سنا تھا وہ بھی سن لیں۔۔۔
چونک گئے؟گبھرائیں مت گدھا تھوڑی کہا ہے!
کیا کہا۔۔آپ انسان ہیں اور دماغ رکھتے ہیں!
جی۔۔۔وہ تو بندر بھی رکھتے ہیں اور ایک نہیں دو دو رکھتے ہیں۔۔
میں یہ ثابت کر سکتا ہوں۔۔۔بلکہ۔۔۔۔۔



چپ۔۔۔۔
مجمع میں سے کوئی چیخا۔۔۔ڈارون کی تھیوری غلط ثابت ہو چکی ہے۔۔۔اور بحثیت مسلمان تمہیں اس بات پر شرم محسوس کرنی چاہیے۔۔۔
”میں نے کب کہا کہ۔۔ڈارون کی تھیوری سچی تھی؟“
"یہ ابھی تھوڑی دیر پہلے تم نے کہا،ہم سب نے سنا“۔۔۔۔۔وہ جواباََ دوسروں کی طرف تائید طلب نگاہوں سے دیکھتے ہوئے جوش سے بولا۔۔
”ہا ہا ہا۔۔میں نے کہا کہ ہم بندر ہیں۔۔۔"ڈارون"کا لفظ تک نہیں بولا۔۔“میں نے اسے تاؤ دلاتے ہوئے مسکراہٹ سے نوازا۔۔۔

"اچھا۔!..بہتر یہی ہے کہ اپنی بات کی وضاحت کر دو۔۔وگرنہ بندر کا تو پتہ نہیں مگر ہم تمہیں مار مار کر گدھا ضرور بنا دیں گے۔“
”ہاں۔۔ہاں۔۔بلکل۔۔ایک باڈی بلڈر ٹائپ جوان نے آستینیں چڑھا کر کہا۔۔۔“
”میں ثابت کر دوں گا۔۔۔۔مگر پہلے دو باتیں بتانا چاہتا ہوں۔۔۔
"بتاؤ۔۔"..
سبھی بیک وقت بولے۔۔

پہلا واقعہ۔۔
پرسوں رات۔۔۔ایک غریب شخص کے گھر چوری ہو گئی۔۔۔چور رات کو آئے اور بنا کسی دشواری کے دو بکرے لے گئے۔۔۔
یہ چوری صرف دو بکروں کی نہیں تھی بلکہ اس غریب کے پورے سال کی بچت تھی۔۔دیہات میں عموماً لوگ۔۔بکرے ،بیل اور کٹے سارا سال پالتے ہیں اور بڑی عید پر بیچ کر اپنی بڑی ضروریات میں سے کوئی ایک ادھ پوری کر لیتے ہیں۔۔۔
آپ سوچ رہیں ہوں گے کہ یہ تو عام بات ہے۔۔جی بلکل چوری ہونا عام بات ہے۔۔مگر آپ کو پتہ ہے "چور"کون تھا۔۔۔
ہم سب سوشل میڈیائی مجاہدین۔۔۔۔
جنہوں نے ایک میسج""""کہ رات بارہ بجے سے لیکر۔۔صبح پانچ بجے تک حکومت کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سپرے کرے گی۔۔لحاظ کوئی بھی شخص باہر کھلے میں نہ سوئے۔۔۔""""
کو اتنا وائرل کیا کہ۔۔۔سادہ لوح لوگ کمروں کے آخری کونوں میں جا دبکے۔۔۔
اس میسج سے مفاد پرستوں نے فائدہ اٹھایا۔۔۔اور میرے علم میں تو یہ ایک واردات آئی ہے یقیناً اور بھی کئی جگہوں پر ہوئی ہو گی۔۔۔مگر اس سب کے پیچھے ۔۔کہیں نہ کہیں ہم سب کا ہاتھ ضرور ہے۔۔۔
باقی بات دوسرے واقعے کے بعد۔۔۔

دوسرا واقعہ۔۔۔
حسن اور شاہد دونوں کزن ہیں۔۔۔
ان کو ٹھیک سے یاد بھی نہیں کہ کتنا عرصہ پہلے گاؤں میں موجود اپنے گھروں کی ٹپکتی چھتوں کو پکا کروانے کے لیے وہ شہر لاہور مزدوری کے لیے آئے۔۔۔
چھتیں پکی ہوئی تو بہنوں کی شادیوں کی فکر سر پر سوار ہو گئی۔۔۔ماں باپ اب بیمار رہنے لگے ۔۔تو ان کے علاج کی فکر۔۔۔اور ایسی ہی دوسری ان گنت فکروں میں وہ یہی کہ ہو کر رہ گئے۔۔
وقت گزرتا گیا۔۔شاہد نے شادی کر لی۔۔جبکہ حسن کو رشتہ نہیں ملا۔۔(کیوں نہیں ملا۔۔یہ بھی ایک المیہ ہے مگر اس پر بحث پھر سہی)

چند دن پہلے۔۔۔حسن کو کھانسی۔۔بخار کے ساتھ سانس لینے میں بھی دشواری ہونے لگی۔۔۔
دو تین بعد وقت ملنے پر وہ ہسپتال گیا۔۔۔اس کی حالت دیکھتے ہوئے۔۔اس کا کرونا ٹیسٹ کیا گیا جو کہ مثبت آیا۔۔۔
ڈاکٹرز نے اسے آئسولیشن میں رکھنے کا کہا۔۔۔حسن چند دن سے اس نئی بیماری کے بارے باتیں سن تو رہا تھا۔۔مگر اس جیسے بندے کے لیے سب سے بڑی بیماری "روٹی"ہوتی ہے۔۔باقی سب چیزیں ثانوی ہوتی ہیں۔۔۔
دفعتاً حسن کے ذہن میں خیال آیا۔۔اس نے کہیں لوگوں کے منہ سے یہ بات سنی تھی کہ۔۔اس بیماری کے مریضوں کو یا تو زہر والا ٹیکا لگا دیا جاتا ہے یا پھر گولی مار دی جاتی ہے۔۔۔۔
وہ میڈیکل اہلکاروں کو چکمہ دے کر ادھر سے بھاگا اور سیدھا آ کر شاہد کے پاس سانس لیا۔۔۔

شاہد اور اس کی بیوی اس کی حالت دیکھ کر گھبرا گئے۔۔۔
"حسن نے بلا کسی تمہید کے کہا۔۔۔مجھے وہ نئی بیماری ہو گئی ہے۔۔وہ مجھے زہر کا ٹیکہ لگانے والے تھے۔۔۔بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگا ہوں۔۔۔۔میں گاؤں جا رہا ہوں کوئی میرے پوچھے تو اسے میرا نہ بتانا۔۔۔
شاہد کی بیوی تب تک اس کے لیے چائے رکھ چکی تھی۔۔
چائے پی کر خالی "کپ"اس نے نیچے رکھا جو شاہد کی بیوی نے اٹھا لیا۔۔۔
حسن نے شاہد سے "معانقہ"کیا۔۔۔بچوں کو "پیار" کیا ۔۔اور روانہ ہو گیا۔۔۔۔۔۔



یہ دوسرا واقعہ فرضی ہے۔۔۔مگر ۔۔۔یہ زہر کے ٹیکے اور گولی مارنے والی بات درست ہے۔۔۔مریضوں کے بھاگنے والی باتیں بھی درست ہیں۔۔۔
ایک انفیکٹڈ پرسن آگے کتنے لوگوں کو متاثر کرے گا۔۔۔اس کا کون اندازہ لگا سکتا ہے؟اور عموماً لوگ جب ڈر کر بھاگتے ہیں تو دور دراز علاقوں یا اپنے آبائی شہر/گاؤں کی طرف جاتے ہیں۔۔۔
مطلب جہاں یہ وبا نہیں بھی پہنچی وہاں بھی پہنچے گی۔۔۔
دو تین دن پہلے کی بات ہے۔۔ایک صاحب انکشاف کر رہے تھے۔۔۔کہ چائنہ نے ہزاروں بندوں کو گولی مار دی ہے تا کہ وائرس آگے نہ پھیلے۔۔
میں نے اسے بتانے کی کوشش کی۔۔کہ جناب ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔۔تو موصوف بولے کہ میں نے خود وڈیو دیکھی ہے۔۔۔۔

چائنہ۔۔اٹلی۔۔ایران۔۔اور کوریا کا حشر آپ سب کے سامنے ہے۔۔۔
اور اگر خدا نخواستہ ہم پر وہ حالات آئے تو ہمیں پچھتانے کا موقع بھی نہیں ملنا۔۔۔
اس لیے خدارا اس کو سنجیدہ لیں۔۔۔لوگوں میں ڈر مت پھیلائیں۔۔۔حکومت نے اگر چھٹیاں دی ہیں تو گھر میں رہ کر گزاریں۔۔۔

بندر کے ہاتھ ماچس لگی تھی۔۔اس نے جنگل میں آگ لگا دی تھی۔۔۔
آج مجموعی طور پر ہم بھی اسی بندر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔۔
ہمارے ہاتھ "کرونا وائرس" لگ گیا ہے۔۔۔تو ہم بلا سوچے سمجھے۔۔اس سے متعلقہ کوئی بھی پوسٹ آگے پھیلانا فرض سمجھ رہے ہیں۔۔۔ پھر چاہے نتائج جو مرضی نکلیں کسے پرواہ ہے۔۔۔۔

ہم ابھی بھی۔۔۔
"ہنوز دلّی دور است"والے محاورے پر عمل پیرا ہیں۔۔
میری یہ پوسٹ پڑھنے والے ہر فرد سے گزارش ہے کہ۔۔کرونا وائرس سے متعلق احتیاطی تدابیر لازمی اختیار کریں۔۔۔ تا حال اس کی کوئی ویکسین نہیں بنائی گئی۔۔اس لیے احتیاط کے علاؤہ کوئی علاج نہیں ہے۔
افواہوں پر کان مت دھریں۔اور نہ انہیں آگے پھیلائیں۔۔۔ان کی وجہ سے ہونے والے نقصانات بہت سارے لوگوں کے لیے ناقابل تلافی ثابت ہوں گے۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس آزمائش کی گھڑی میں عقل سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے آمین



""""""عنصر علی""""""



ریت کے ذروں کو ہوائیں اڑاتی پھرتی ہے مگر ریت کے ذرے جب مل کر پہاڑ بن جائیں تو کوئ طوفان بھی ان کو ہلانے میں کامیاب نہیں ہوتا
(یہ بات ہمیں مل جل کر رہنے کا سبق دیتی ہے)​
استغفار ایک عظیم عمل۔۔۔چلتے پھرتے۔۔۔ہر وقت پڑھنے سے کئی مسائل حل ہوجاتے ہیں
موت ایک ایسا دروازہ ہے جس میں سے ہر ایک کو گذرنا ہوتا ہے








پاؤں بے شک پھسلے مگر زبان نہ پھسلے۔
کچھ سیکھنا چاہتے ہو تو وقت سے سیکھو۔
موت،وقت گاہک کسی کا انتظار نہیں کرتے۔

Post a Comment

0 Comments