2 Line Urdu Poetry Images - Sad Poetry - Awesome Poetry

Mar 29, 2018

An agricultural forecasting system has been developed through images and machine learning that can predict the fate of a crop with 97% accuracy or help save it from destruction. Michael Gomez, an agronomist with the Alliance for Biodiversity in Italy, says it is impossible to take care of the health of crops spread over a large area. Now smartphone images, drone video and satellite images have been combined to see how they can be predicted by incorporating them into machine learning. The results were 97% accurate. All the images were integrated into a trained software that gave a good idea of ​​the problems and diseases facing the crops. This interesting research has been done in Congo and Benin where banana crops often go bad. Millions of people in the region rely on bananas and their food to satisfy their hunger.
سوال ۔؟
اس فقرے کا کیا مطلب ہے کہ اس بڑھیا کی طرح نہ ہو جانا ، اس نے ساری عمر سوت کاتا اور آخر میں الجھا دیا ؟
جواب ۔۔۔۔
اس فقرے کا مطلب بڑا Simple ہے ، سادہ ہے کہ سوت کاتتے کاتتے انسان بوڑھا ہو گیا ، سوت کاتنے کا معنی ہے ، لیبر ، محنت ، بڑھیا اپنی محنت ، لیبر ، اور پروڈکشن کا ڈیفنس کرتی رہی ، اگر عبادت کو یی لے لیں ، کے عبادت کرتے رہے اور کرتے کرتے انبار لگ گیا ۔ 
اب انبار تو لگ گیا ، لیکن بعد میں جب اس کو استعمال کرنے کا وقت آیا تو اس وقت آپس میں تاریں الجھا دیں اس کا مطلب یہ ہے ، مراد ایسا آدمی ہے جس نے کسی ایک سمت میں بڑی محنت کی اور بعد میں اس نے اپنی محنت کو خود ہی غرق کر دیا ، 
مثلاً ایک آدمی ساٹھ سال تک مسلمان ہی رہا ، عبادت ہی کرتا رہا ، اور بعد میں کہتا ہے کہ اس نتیجے پر پہنچ کر مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا ، پڑھ پڑھ کر تھک گیا ہوں ، مگر کچھ نہیں بنا ، اب یہ محنت ہے وہ رایگاں ہو گی ، تو اس وقت محنت رائگاں ہونا ، جب نئی محنت کا موقع ہی نہ ہو ، 
یہ سب سے زیادہ افسوس والی بات ہے ، تو دعا یہ کریں کہ یا اللہ ہماری محنتیں رایگاں نہ ہوں ، کیوں کہ اگر محنت رائگاں ہو گئی تو پھر موقع شاید نہ ملے ، کیونکہ اس زندگی میں کسی غلطی کو بھی دوبارہ کرنے کا موقع نہیں ملتا ۔ دوبارہ چانس نہیں ملتا ، اکثر ایک بار موقع ملتا ہے ، 
مرتے وقت کافر دوسری بار زندگی مانگتا ہے ، کے یا اللہ ایک بار زرا اور موقع دیا جائے ، تاکہ سب ٹھیک کر لوں ، مگر ایک دفعہ اور کیسے موقع ملے ، کیونکہ موقع تو ایک بار ملنا ہے ، اور جب پتہ چلتا ہے کہ اور موقع نہیں مل رہا ، تو پھر وہ کافر کہتے ہیں کہ " کاش ہم مٹی ہوتے "
مدعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں پر آپ کو بتاتے ہیں کہ محنتوں کا دفاع کیسے کرنا چاہیے ، 
ایک تو مذہب کی محنت ، پھر اللہ کے نام کی محنت ، یعنی ایسی محنت جو اللہ کے ذریعے ہی آپ کرتے ہیں ، مطلب یہ ہے کہ آپ محنت کا یقین کے ساتھ دفاع کریں ، ایسا نہ ہو ، کے آپ عبادت کی محنت کرتے رہیں ، اور یقین اندر سے کمزور ہو جائے ، 
تو پھر سمجھو کہ محنت رائگاں ہو گئی ، تو ایسا آدمی جو منزل پر پہنچ کر بے دم ہو جائے ،  مایوس ہو جاے ، وہ کہتا ہے چھوڑو جی اب کیا ہونا ہے ، کچھ بھی نہیں ہونا ہے ، اتنی عمر میں نہیں ہوا تو اب کیا ہو گا ،  کہتا ہے اس کام کے لیے اتنی عمر ضروری تھی ، اور اب تو اس کے ہونے کا وقت آ گیا ہے ، 
وہ کہتا ہے اتنا عرصہ ہو گیا ہے ، بیج بویا تھا ،  اب کیا أگنا ہے ، مگر اصل میں اب أگنے کا وقت تھا ، اس لیے اپنی محنتوں سے بد دل وہ آدمی ہوتا ہے ، جس کو خدا کی رحمت سے مایوسی ہو جائے ، پھر وہ بات وہی آ جاتی ہے کہ آپ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ، تو آپ کی محنتیں آپس میں نہیں ألجھیں گئی ، اکارت نہیں ہونگی ، کیونکہ اگر بڑھیا کا سوت الجھ گیا ، تو سمجھو اس کی ساری عمر کی کمائی ضایع ہو گئی ، 
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ ۔۔۔۔۔
گفتگو 11 تا 15) ۔۔۔۔۔ صفحہ 53) ۔۔۔۔۔۔۔۔












Post a Comment

© Urdu Thoughts.