7 Urdu Quotes by Wasif Ali Wasif Images Photos

Sep 7, 2020

Those who seek Allah go through the paths of human beings. Man is the seeker and man is the manifestation of attributes. Allah Almighty created man for His expression. Give man abilities so that he can think about this universe and its creator. Allah Almighty introduced Himself and His creatures through man. We pray every day, “O Allah! Show us the straight path, that is, the path of those for whom you have been rewarded. As if the path of the winners is the straight path, the path of God.
اللہ کی تلاش کرنے والے انسانوں کی راہوں سے گزرتے ہیں ۔ انسان ہی متلاشی ہے اور انسان ہی مظہرِ صفات ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اپنے اظہار کے لیے ۔ انسان کو صلاحتیں عطا فرمائیں تا کہ وہ اس کائنات کے بارے میں اور اس کے خالق کے بارے میں غور کرے ۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے ذریعے اپنا اور اپنی مخلوق کا تعارف کرایا ۔ ہم ہر روز دعا کرتے ہیں کہ ”اے اللہ! ہمیں سیدھی راہ دکھا یعنی ان انسانوں کی راہ جن پر تیراانعام ہوا“۔ گویا کہ انعام یافتگان کا راستہ ، سیدھا راستہ ہی ، خدا کا راستہ ہے۔

وہ لوگ جو انسان کو چھوڑ کر یا انسان سے منہ موڑ کر خدا کی تلاش کرتے ہیں ، کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ اللہ کی کتاب انسانوں کے تذکرے اور انسانوں کے انجام کے بارے میں آگاہی دینے والی ہے ۔ اللہ نے انسان کو بہت بلند مقام عطا فرمایا ۔ انسان کے آگے فرشتوں کو جھکا دیا ۔ انسان کو اللہ کے راستے سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ اللہ نے اپنا گھر انسانوں کے ذریعے بنایا ۔ اللہ کے ذکر کے لئے انسانی زبان اور اللہ نے اپنا گھر انسانوں کے ذریعے بنایا ۔ اللہ کی یاد کے لئے انسانی دل درکار ہیں ۔ اللہ کی خوشی انسان کی خدمت میں ہے ۔ اللہ کا حکم ہے کہ ”انسانوں کی خدمت کرو ، بھوکوں کو کھانا کھلاوء ، سائل کو جھڑکی نہ دو ، یتیم کا مال ہرگز نہ کھاؤ ، کئے ہوئے وعدے پورے کرو ، نرم خو اور نرم دل ہو جاوء ، زمین پر اکڑ اکڑ کر مت چلو“ یہ تمام احکام اللہ کے ہیں اور انسان کی خدمت کیلئے ہیں ۔ اللہ کی رضا انسان کو خوش رکھنے میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ماں باپ کے آگے اُف نہ کرو ، ان کو جھڑکی نہ دو ، ان سے نرم الفاظ میں بات کرو ، وہ جب بڑھاپے میں پہنچیں تو ان کے لئے رحمت کے بازو پھیلا دو“۔ خدمت ماں باپ کی اور خوشی اللہ کی ، یہی بات غور طلب ہے کہ اللہ کہاں ہے؟ سجدے میں اللہ ملتا ہے لیکن مسکین کو کھانا کھلانے میں اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے ۔ انسان نے جس مقام پر انسانوں کو چھوڑ کر خدا سے محبت کا دعوٰی کیا وہ اکثر غلط نکلا ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کے ساتھ ، اپنے کلمے کے ساتھ انسان کا اسم بلند کیا ۔ اپنا کلام انسانی قلب پر نازل فرمایا اور اپنے دین کی تبلیغ انسانوں کے ذریعے کی ، انسانوں کے لئے ۔

اللہ کے بارے میں جتنی بھی آگاہی دنیا میں موجود ہے ، جتنا بھی بیان اور علم موجود ہے سب انسان کے ذریعے سے ہے ۔ اللہ جن انسانوں کو اپنے قریب رکھتا ہے انہی انسانوں کو ، انسانوں کے قریب کر دیتا ہے ۔ یعنی جو شخص اللہ کے ہاں جتنا محبوب ہو گا ، اس کے لئے انسانوں کی دنیا اتنی محبوب ہو گی ۔ اس لئے جو انسان محبوب رب العالمین ہے ، وہی انسان رحمتہ اللعالمینؐ ہے ۔ اللہ کے ساتھ محبت کرنے والے انسانوں سے بیزار نہیں ہو سکتے اور انسان سے بیزار ہونے والے اللہ کے قریب نہیں ہو سکتے۔

دیکھنے والی بات یہ ہے کہ انسان کی محبت اور خدا کی محبت میں کیا فرق ہے؟ اللہ کے حوالے کے بغیر انسان کی محبت یا انسان کی خدمت ہمیں غافل کر سکتی ہے ، عاقبت سے بے خبر رکھتی ہے اور ہم اس دنیا اور اس زندگی میں کھو کر رہ جاتے ہیں ۔ مثلاً اگر ہم غریب کی مدد کریں تو یہ نیکی ہے ۔ یہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے لیکن یہ بات بہت ہی اہم ہے کہ ہمیں جاننا چاہیے کہ جس مال سے ہم غریب کی مدد کر رہے ہیں وہ مال حرام کی کمائی نہ ہو کیونکہ حرام کی کمائی کہیں نہ کہیں سے ظلم یا دھوکے کے ذریعے آتی ہے ۔ لہٰذا غریب کی مدد کی نیکی ایک بدی کو جنم دے سکتی ہے ۔ اسی طرح رشوت کی دولت سے اگر حج کیا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی ہی نہیں اس کے نظام کے خلاف بغاوت ہے ۔ لازم یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لئے اللہ کے قانون کے مطابق کمائی ہوئی دولت سے غریبوں ، مسیکنوں اور یتیموں کی خدمت کرے ۔ مسکین یا بھوکا کوئی بھی انسان ہو، اسے کھانا کھلانے سے اللہ راضی ہوتا ہے ۔ یہاں دین کی کوئی قید نہیں ۔ بھوکے آدمی کو کھانا کھلانا ہے لیکن کھانا کھلانے والا انسان احتیاط کرے اور غور کرے کہ اس نے یہ کھانا کہاں سے حاصل کیا ۔ ناجائز کمائیوں سے بنے ہوئے محلات پر لکھ دینا کہ یہ اللہ کے فضل سے بنا ہے ، ایک ظلم ہے۔

اللہ کے ہاں انسانوں کے تذکرے ہیں ۔ جب ہم اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو اس کے اپنے ارشاد کے مطابق وہ ہمارا ذکر کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں انسان کی کتنی اہمیت ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ ساری کائنات کی وسیع و عریض تخلیق میں سے سب سے اشرف مخلوق انسان ہے ۔ انسان کا مقام یہی ہے کہ اسے ”احسن تقویم“ بنایا گیا ۔ اگر کسی انسان کا دل توڑ دیا جائے تو اللہ ناراض ہو جاتا ہے ، کسی انسان کو حق سے محروم دیا جائے اللہ کو ناپسند ہے ۔ جو زمانہ اللہ کی منشاء کے مطابق ہوتا ہے وہ انسان کی سرفرازی کا دَور ہوتا ہے ، انسان کے حقوق کے تحفظ کا دَور ہوتا ہے ، انسان کی عزتِ نفس کے لحاظ کا زمانہ ہوتا ہے ۔ انسانیت کی عزت ہی خدا کے احکام کی بجا آوری میں ہے ۔ نیکی دراصل انسانوں کے ساتھ نیک سلوک کا نام ہے ، خالی نیکی تو کوئی نیکی نہیں ۔ ہم نیکی انسان کے ساتھ کرتے ہیں ، انعام اللہ تعالیٰ سے ملتا ہے ۔ غریب انسان ایک لحاظ سے محسن ہے کہ وہ سخی ہونے کا موقع دیتا ہے ۔ اگر اللہ کی طرف رجوع ہو تو لوگ غریبوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان خدمت کریں ، ان کی مدد کریں۔

عبادت اس مقام پر نہیں پہنچا سکتی جہاں غریب کی خدمت پہنچاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے زکوٰة کا حکم فرمایا ، غریب کے لئے ۔ اللہ کے پاس زمین و آسمان کے خزانے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حکم دیا کہ اپنے جمع شدہ مال میں سے غریب بھائی کی خدمت کرے اور وہ پیسہ جو سنگدلی پیدا کر رہا ہے وہ فراخدلی پیدا کرے ۔ نظامِ خیرات صدقات اور بیت المال سب غریبوں کے لئے ہے تا کہ جو لوگ زندگی کی دَوڑ میں پیچھے رہ گئے ہوں ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کو بھی ساتھ چلا دیا جائے ورنہ اس چند روزہ زندگی میں سفر تو سب کا کٹ ہی جائے گا اور پھر اس کے بعد ایک ایسا دَور آئے گا ، ایک ایسا دن ہو گا جب انسان سے پوچھا جائے گا کہ اس نے اللہ کی دی ہوئی نعمتیں کس طرح استعمال کیں ۔ اس نے انسانوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔

ہماری نیکیاں انسان کے ساتھ ، ہماری بدی انسان کے ساتھ یعنی نظامِ ثواب و گناہ انسانوں ہی کے ذریعے سے مرتب ہوتا ہے ۔ اگر ہمارے علاوہ دنیا میں اور کوئی انسان نہ ہو تو ہمارے لیے نہ کوئی جزا ہے نہ سزا ۔ ہم جمادات و حیوانات میں سے ہو جائیں گے ۔ انسانوں کے دم سے ہی رونقیں ہیں ۔ اللہ کے نام پر انسانوں کے ساتھ سنگتیں بنتی ہیں ۔ اللہ کے خوف سے انسانوں کے ساتھ نیکیاں کی جاتی ہیں ۔ یہی خوفِ الہٰی ہمیں گناہوں سے بچاتا ہے ۔ ہم دوسروں کے حقوق پامال نہیں کر سکتے اس لئے کہ ہم اللہ سے ڈرتے ہیں ۔ ہم ایک بتائے ہوئے راستے کے مطابق سفر کرتے ہیں کہ وہ راستہ ہمیں اللہ نے اپنے پیغمبرؐ کی حیاتِ طیبہ میں نمایاں ہوتی ہے ۔ پیغمبرؐ کی ذات اس لیے بھی اہم ہے کہ اس ذات کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ زندگی صرف عبادت نہیں ہے ۔ زندگی کوشش ہے ، زندگی جہاد ، زندگی محبت ہے ، زندگی فتوحات ہے ، زندگی تنہائی بھی ہے ، مجلس بھی ہے ، زندگی تنہائی کا سجدہ بھی ہے اور محفلوں کی رونقیں بھی ، اللہ کی محبت انسانوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے ۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص مقربِ الٰہی ہو اور انسان کی محبت سے محروم ہو ۔ یہ دعوٰی شیطانی ہے کہ ہم صرف اللہ سے محبت کرتے ہیں اور مخلوق سے کچھ سروکار نہیں ۔ یہ غرور ہے ، یہ تکبر ہے ۔ شیطان نے انسان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور نتیجہ یہ کہ خدا کے آگے کئے ہوئے سجدے بھی رائیگاں ہو گئے ۔ ہمارا سارا نظامِ عبادت انسانوں سے مرتب ہے ، ہماری دعائیں بالعموم اجتماعی ہیں ۔ ”اے ہمارے رب! ہم پر رحم فرما ، سیدھی راہ دکھا ۔ ہم پر ہماری ہستی سے زیادہ بوجھ نہ ڈال، ہمیں گناہوں سے بچا “ گویا کہ منشائے الہٰی یہی ہے کہ ”میں“ سے ”ہم“ بنا جائے ۔ ”ہم“ کے بغیر ”تم“ کی عبادت جھوٹ ہے ۔ ایک مقام پر انسان کو تنہا رکھا گیا ہے ۔ سجدہ ۔۔۔ اللہ کی عظمت بیان کرتے وقت ۔

ہمارا سارا منظر اور پس منظر انسانوں سے ہے ۔ غور کیا جائے تو کوئی انسان ، انسانوں کی وابستگی کے بغیر رہ نہیں سکتا ۔ مثلاً میرے پاس صرف آنکھیں ہیں ، نظر ہے لیکن میرا منظر انسانوں کے چہرے سے بنا ہے ۔ اگر منظر نہ ہو تو نظر کس کام کی؟ اسی طرح میری سماعت محتاج ہے انسانوں کی آواز کی ۔ میرے اردگرد بولنے والے انسانوں کا ہجوم نہ ہو تو میرے کان بیکار ہو جائیں ، اللہ نے انسانوں کو بیان عطا فرمایا ۔ یہ بڑے غور کا مقام ہے کہ بیان سننے والا نہ ہو تو بیان کیا بیان ہو گا ۔ میری زبان محتاج ہے سننے والے کانوں کی ، میرا دل محتاج ہے انسان کے چہرے کی محبت کا ، میرے جذبات ، میرے احساسات سب انسانوں سے وابستہ ہیں ، مجھے راہنمائی چاہیے کسی انسان کے ذریعے ۔ اللہ کی منزلوں تک پہنچانے والا اللہ کا بندہ ہی ہو گا ۔ میں نیکی ، بدی ، گناہ و ثواب ، خوشی اور غم جو کچھ بھی حاصل کروں گا انسان کے ذریعے ، میری زندگی ، انسانوں کے ذریعے سے گزرے گی ۔ ہمیں بات سمجھ میں نہیں آتی ہے ۔ میری پیاس بجھانے والا پانی کتنے ہاتھوں کی محنت کا نتیجہ ہے ۔ ہمارے پاؤں کے نیچے جو سڑک ہے اس کے بننے میں کتنے سال اور کتنے انسانوں کے پسینے لگے ہوئے ہیں ۔ آنکھ کھول کے چلے تو انسانوں کے احسانات نظر آئیں گے ۔ ان انسانوں کا شکریہ ادا کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”جس نے انسان کا شکریہ ادا نہ کیا اس نے خدا کا کیا شکریہ ادا کرنا ہے“ ۔ جس انسان نے ماں باپ کو پرورش کرتے ہوئے دیکھا اور انہیں نہ مانا ، اس نے خدا کو دیکھے بغیر کیا ماننا ہے؟

اللہ تعالیٰ انسانوں ہی کی دنیا میں اپنے جلوے دکھاتا ہے ۔ انسان خاموشی سے دُعا مانگتا ہے ، اللہ خاموش دعاوءں کو سنتا ہے ، منظور فرماتا ہے ۔ اللہ کے جلوے انسانوں کے روپ میں ہر ہر جگہ نظر آ سکتے ہیں ۔ یہ جہان اللہ کی نشانیوں سے بھرا پڑا ہے ۔ اللہ کے بندوں نے اللہ کی یاد کے چراغ جلا دیئے اور ان چراغوں کی روشنی میں آنے والے انسانوں کو نئی منزلوں پر چلنے کی توفیق دی ۔ اللہ کی تلاش بہت آسان ہے ۔ وہ انسانی شہ رگ سے قریب ہے ، بہت قریب لیکن اس تک رسائی حاصل کرنا اس لئے مشکل ہے کہ انسان ، انسان ہے اور اللہ ، اللہ ! حادث، قدیم نہیں ہو سکتا ۔ بس فرق یہی ہے کہ ہم ساجد ہیں وہ مسجود ۔ ہم پیدا ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں اور وہ پیدائش اور موت سے آزاد حیؔ قیؔوم ہے ۔ وہ ہر آغاز سے پہلے موجود تھا اور ہر انجام کے بعد موجود رہے گا ۔ وہ اتنا قریب ہے لیکن اسے دیکھا نہیں جا سکتا جس طرح ہم اپنی بینائی کو خود نہیں دیکھ سکتے لیکن بینائی ہمارے قریب رہتی ہے ۔ ہماری روح ہمارے پاس ہے لیکن ہم اسے دیکھ نہیں سکتے ۔ ہماری ذات ہر وقت ہمارے ساتھ ہے لیکن اپنی ذات کا دیدار ممکن نہیں ۔ سمندر میں رہنے والی مچھلی سمندر کو دیکھ نہیں سکتی ۔ پانی سے نکلے بغیر سمندر نظر نہیں آتا اور پانی سے نکلے تو مچھلی ، مچھلی نہیں رہتی ۔ بس اللہ کے جلوے ، اللہ کے جلوے ہیں ۔ پاس ہیں ، ساتھ ہیں لیکن کیا ہیں؟ اور کہاں ہیں ، صرف محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ اور اللہ کی محبت کی انتہائی عملی شکل اللہ کے محبوب ؐ کی اطاعت اور محبت میں ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ”اے نبیؐ!  کہہ دیجیئے کہ اگر تم لوگوں کو اللہ سے محبت ہے تو میری اطاعت کرو اللہ تم سے محبت کرے گا“۔ یعنی اللہ کی محبت انسان کے حوالے کے بغیر منظور ہی نہیں ہو سکتی ۔ ہم اللہ سے محبت کریں اور پیغمبرؐ کی نفی کریں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ ہم سے محبت کرے ۔ رابطے کے لئے انسان اور انسان ِ کامل کا ہونا شرطِ اول ہے۔ اور اس انسانِ کاملؐ کی زندگی اللہ کی یاد میں اور انسانوں کی خدمت میں گزری۔

عرفانِ الہٰی کے لئے مقامِ انسانیت کو پہچاننا ضروری ہے ۔ انسانوں سے محبت کرو ۔ یہی اللہ سے محبت کا ایک پہلو ہے ۔ اللہ کی منزل کے سفر پر انسانوں کے ڈیرے ہیں ۔ یہ راستہ انسانوں سے گزرتا ہے ۔ اللہ کا ذکر کرنے والے اللہ کے نام پر نثار ہونے والے اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے اللہ کی یاد میں بے خبر ہونے والے۔ سب اللہ کے مظاہر ہیں ۔ ان مقامات سے گزرے بغیر توحید کا سفر ممکن نہیں ۔ زمین پر رہنے والوں کا خیال رکھو ، آسمان والا تمہارا خیال رکھے گا ۔ اللہ کے نام پر ہی بعض اوقات اللہ کے بندوں پر ظلم ہوا، اس بات کا خیال رکھا جائے کہ انسانوں کو نہ تنگ نہ کیا جائے ۔ انسان کے ذریعے ہی سے منزلیں حاصل ہوتی ہیں ۔ وحدت کے جلوے کثرت میں پنہاں ہیں لیکن اس کے سمجھنے کے لئے احتیاط اور استادِ کامل کی ضرورت ہے۔
  
کتاب حرف حرف حقیقت سے اقتباس
حضرت واصف علی واصف













Post a Comment

© Urdu Thoughts.