Nimra Ahmed K Novels Say Iqtibasaat Quotes Saying


Nimra Ahmed K Novels Say Best Iqtibasaat Quotes Saying Images Photos. Nimra ahmed Kay Novel Jannat k Pattay say iqtibas, nimra ahmed paras say iqtibas, nimra ahmed Mus'haf say iqtibas, nimra ahmed K Novel Mere Khawab Mere Jugnoo say iqtibas.









ارم کی منگنی کا فنکشن تایا فرقان کے لان میں منعقد کیاگیا تھا۔ فنکشن خواتین کا تھا۔ مردوں کا انتظام باہر تھا، مگر تیار ہوتے وقت وہ جانتی تھی کہ یہ فنکشن بھی اتنا ہی سیگریگیٹڈ (غیر مخلوط) ہوگا، جتنا داور بھائی کی مہندی کا فنکشن تھا۔ برائے نام’’زنانہ حصہ‘‘ جہاں ویٹرز، مووی میکر، لڑکے کزنز، سب آجارہے ہوں گے۔ پتا نہیں، پھر بے چارے باقی مردوں کو علیحدہ کیوں بٹھایا جاتا تھا، یا پھر ایسی شادیوں کو سیگریگیٹڈ کہنے کی منافقت کیوں تھی؟ سوسائٹی کے۔۔۔ معیارات جن پہ کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا۔ اس نے اپنی بائیس سالہ زندگی میں کبھی کوئی مکمل طور پر سیگریگیٹڈ شادی نہیں دیکھی تھی۔ تایا کی سختی تھی کہ منگنی پہ دلہا نہیں آئے گا، انگوٹھی ساس پہنائے گی، مگر جو خاندان کے لڑکے کام کے بہانے چکر لگا رہے ہوں گے، ان پر کوئی پابندی نہیں تھی۔
باہروہ عبایا لیتی تھی۔ اصولاً اسے ادھر بھی عبایا لینا چاہیے تھا، مگر منگنی کا فنکشن برائے نام ہی سہی تھا تو سیگریگیٹڈ۔ لڑکے وغیرہ تھے، مگر وہ ذرا دور تھے۔ وہ مکمل طور پہ مکسڈ گیدرنگ نہیں تھی۔
عبایا کا مقصد زینت چھپانا اورچہرہ چھپانا ہی تھا تو وہ یہ کام اپنے لباس سے بھی کرسکتی تھی، سو اس نے عبایا نہیں لیا، مگر لباس کا انتخاب عبایا کے متبادل اورمترادف کے طور پہ کیا۔
کچے سیب کے رنگ کا سبزپاؤں کو چھوتا فراک، نیچے ٹراؤزر اورکلائی تک آتی آستین۔ یہ ایک مشہور برانڈ کا جوڑا تھا اوراس کے ساتھ نیٹ کا دوپٹا تھا، سو اس نے الگ سے بڑا سا دوپٹا بنوالیا تھا،کچے سیب کے رنگ کا۔ یوں گلے کا کام دوپٹے میں چھپ گیا۔ چہرے کے گرد بھی دوپٹایوں لپیٹا کہ وہ پیشانی سے کافی آگے تھا۔ کان بھی چھپ گئے۔ سہولت تھی کہ کسی آدمی کو دیکھتے ہی وہ تھوڑی سے انگلی سے دوپٹا پکڑ کر اوپر لے جا کر نقاب لے سکتی تھی۔ یوں عبایا کے بغیر بھی زینت چھپ گئی، نقاب بھی ہوگیا اور اچھا لباس بھی پہن لیا۔ بیٹھی بھی وہ ذرا کونے کی میز پہ تھی۔

#JannatKayPattay

*******************

اصل طاقت تو ٹھنڈے رہنے میں ہے۔ اصل طاقت ور لوگ وہی ہیں جو لوگوں کی ہر رائے پہ یقین نہیں کر لیتے بلکہ اکثر باتوں کو درگزر کر جاتے ہیں اور ان کو بے جا سوچتے نہیں رہتے۔
اگر دوسروں کے مونہوں سے نکلے الفاظ ہمیں کنٹرول کرنے لگ جائیں تو اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ ہم نے اپنی پوری ذات کا کنٹرول دوسروں کے ہاتھوں میں دے رکھا ہے۔ نہیں۔ اگر مجھے مثبت انسان بننا ہے تو مجھے پہلے قدم کے طور پہ اپنے ’’موڈ‘‘ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں واپس لینا ہوگا۔

#Haalim_Novel

*********************



زمر: ’’یہ فارس سے ملنے کورٹ آئی تھی۔ فارس نے کہا یہ اس کی گرل فرینڈ ہے۔‘‘
حنین کے ابرو بھنچے۔ خفگی سے باہر بیٹھی لڑکی کو دیکھا۔’’ آئی ڈونٹ لائیک ہر۔‘‘
’’می ٹو۔‘‘ زمر کے لبوں سے نکلا۔
’’می تھری !‘‘ اسامہ پیچھے آ کھڑا ہوا تھا۔ وہ دونوں پلٹیں۔
’’تمہیں کیا مسئلہ ہے اس سے؟‘‘
’’مجھے ایسی خوبصورت لڑکی نہیں پسند جو قد اور عمر میں مجھ سے بڑی ہو۔‘‘ چہک کر کہتا اندر بھاگ گیا۔ زمر اور حنین نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
’’ابھی خبر لیتی ہوں میں اس کی۔‘‘ حنہ دانت پیستی اس کے پیچھے لپکی تھی. :D :P

#Namal_Novel















No comments