Urdu Quotes Images - Urdu Sayings - Urdu Achi Batain Wallpapers

Mar 29, 2018

The most popular company on the Internet has added another great feature to Google Maps. According to the technology tracking website, Google has added a busyness feature in the Maps application, after which the user will already know about the crowd at any place. The user using the feature will also be able to know what the situation is where they want to go. Users using this feature will also know how many people are currently in a superstore, park, market or hospital. Google said in a statement that the feature was added to Maps in view of the Corona epidemic so that users would know when and where to go and when to stay at home.
میری پرانی لکھی ہوئی پوسٹ
شکیلا۔ میں اصل میں آنا چاھ رہی تھی آپ کے پاس پر مجھے ٹائم ہی نہیں ملتا مصروف تھی
نسرین۔ ارے تمھیں کیا کرنا ہوتا ہے سارا دن نہ تمھارے بچے نہ کوئی اور کام سارا فارغ ہی ہوگی تم
شکیلا۔ دکھ سے سوچتی خاموش ہوگئی
شیریں۔ اصل میں میں جلدی جلدی گھر میں صبح کو فری ہوجاتی ہوں ماسی جلدی کام نپٹا کے جاتی ہے
فاریہ۔ اچھا آپ کے تو بچے بھی نہیں پھر وہ جلدی کیوں آتی ہے دیر سے آجائے کونسا آپ کا زیادہ کام ہوگا
ماریہ۔ میں نے تو آج ڈھیر سارے کام کئے بہت مصروف دن گذرا
حرا۔ ارے دو لوگوں کا کام ہی کتنا ہوتا ہے ہم سے پوچھو بچوں کے کتنے کام ہوتے ہیں
فائزا۔ میں تو بھئی آرام سے رات کا کھانا بناتی ہوں پھر ہم آرام سے دیر سے کھاتے ہیں
نازیہ۔ ہاں بھائی کونسے تمھارے بچے بیٹھے ہیں
ہمیں تو ہر کام ان کے حساب سے کرنا پڑتا ہے
اور بیچاری فائزا خاموش 
ہم انجانے میں خوامخواہ بنا سوچے سمجھے کسی کا بھی دل دکھا دیتے ہیں ہمیں پتا بھی نہیں چلتا
اکثر میں نے یہ چیز نوٹ کی ہے کہ جن کے بچے ہیں وہ ان عورتوں کو ایسے ہی جملے کہتی پائی گئی ہیں
ہاں جی تمھیں کیسے اندازا ہوگا یہ تو ہم سے پوچھو بچے کیا حشر کرتے ہیں
یا تمھیں کونسے کام ہونگے سارا دن فارغ
یا تمھیں کہاں خرچ کرنا ہوتا ہے یہ تو ہم سے پوچھو بچوں کے خرچے
آخر میں مفت میں مشورہ بھی دیا جائے گا کے فلاں ڈاکٹر کو دکھائو وہ بہت اچھی ہے اللہ تمھیں بھی نوازے گا
اس کے جانے کے بعد تبصرہ یہی ہوگا کے اسے کہاں ہونا ہے بچہ اتنے سال ہوگئے
یا اس غریب نے کچھ گھر کے لئے خریدا تو خیر نہیں
باتیں شروع کے کہاں خرچ کرے بیچاری نہ بچہ نہ کچھ اور اس لئے اپنی ذات پے لٹا رہی ہے
یا کسی کا گھر بہت اچھا ہے بچے نہیں ہیں بس باتیں شروع کہ بیچارں کو بچے نہیں لٹا رہے ہیں پیسا اور کہاں خرچ کریں ہم سے پوچھو کچھ بچتا ہی نہیں
آخر میں یہ تک بتائیں گے کہ ان کے جانے کے بعد گھر کونسے بھائی بھتیجے بہن یا رشتے دار کی ملکیت ہوگا
افسوس ☹
ہمارے معاشرے کا یہ حال کیوں ہے سمجھ نہیں آتا 
کیا جن کے بچے نہیں وہ سانس لینا کھانا پینا جینا چھوڑ دیں ؟؟؟
گھر نہ بنوائیں جھونپڑی میں رہ لیں کیونکہ بچے نہیں ؟؟
کوئی بات نہ کریں کوئی خوشی نہ منائیں ہر چیز ان پے حرام کیونکہ بچے نہیں ۔؟؟؟
کیا کوئی اللہ سے اپنے نصیب سے لڑ سکتا ہے ؟ 
آپ دوسروں کو طعنے مار کے خود کے لئے کون سا سکھ ڈھونڈتے ہیں ؟ کونسی تسکین ملتی ہے دوسروں کا دل دکھا کے؟
وہ لوگ کیسے معتبر ہوجاتے ہیں جن کے بچے ہیں کیا وہ خدا بن گئے ؟ کیا ان کے اپنے ہاتھ تھا یہ سب ؟ 
رہی بات خرچ کرنے اچھے گھر بنوانے کی تو بے اولاد ہی کیوں وہ تو کسی کو بھی نہیں بنوانے چاہئیں مر ہی تو جانا ہے تو جیتے کیوں ہو اپنا گلا خود ہی گھونٹ دو۔ 
عجیب معاشرہ ہے ہمارا یہ نہیں سوچتے جس رب نے ان کو نوازا ہے وہ واپس بھی لے سکتا ہے
اولاد مال کو اللہ نے آزمائش کہا ہے۔ ان لوگوں کو کیا لگتا ہے وہ بچے پیدا کر کے اس آزمائش پے پورا اتر گئے ؟؟؟ 
نہیں ایسا نہیں ہے اللہ حساب لیتا ہے ہر نعمت ہر اس بات کا جو اس نے آپ کو دی ہے
رہی بات خود پے خرچ کرنے کی تو ہر انسان کو کرنا چاہیے اللہ نے اپنی نعمتیں دی فراغ رزق دیا ہے تو غریبوں کا حصہ نکال کے خود پے بھی خرچ کرنا چاھئے۔ 
سب کچھ ہوتے ہوئے ترس ترس کے بخیل مرنے والوں کو اللہ بھی ناپسند کرتا ہے
ہر انسان اپنا حساب خود دیتا ہے۔ 
اللہ کسی کو کم کسی کو زیادہ رزق دیتا ہے۔ یہ اللہ کی مصلحتیں ہم کمزور انسان نہیں سمجھتے
اللہ کو ہر بندے کا اس کے حال کا اس کے دل کا اس کے حالات کا سب پتا ہے وہ آزماتا ہے اس کے بعد نوازتا بھی ہے
اس لئے دوسروں کا پیچھا چھوڑ کے اپنے گھر کی فکر کرنی چاھئیے 
ایسا نہ ہو دوسروں پے تبصرہ کرتے ان کا دل دکھاتے ان کے علاج معالجے کا ٹینشن لیتے ہوئے اپنے بگڑے بچوں کا حال  اور بھی بگڑ جائے اور پتا بھی نہ چلے۔ 
سو اپنا کام کریں ایسے لوگ اپنے گھر سدھاریں
دوسروں کو ان کے حال پے چھوڑ دیں یہ اللہ کی فکریں ہیں وہی جانے۔ 

تحریر۔ شازیہ بھٹو 




















Post a Comment

© Urdu Thoughts.