Urdu Sad Poetry Collection | Urdu Sad Poetry Design

Mar 30, 2018

Man succeeds because of his good decisions and good decisions come because of experience. And these experiences come from wrong decisions. There is so much power in decision that the moment a person is making a decision, his destiny is becoming. Therefore, decisions must be firm. The decision should not be as if there was a line on the sand, a little wind blew and that line disappeared. The decision should be like a line on a rock that cannot be erased. If you are working hard and struggling, sometimes put your hand on your chest and say to yourself, "Wait now, friend, there is still a story to be told.

انسان کو کامیابی اس کے اچھے فیصلوں کی وجہ سے ملتی ہے اور اچھے فیصلے تجربات کی وجہ سے آتے ہیں۔ اور یہ تجربات غلط فیصلوں کی وجہ سے آتے ہیں۔ فیصلے میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ جس لمحے آدمی فیصلہ کررہا ہوتا ہے، اسی لمحے اس کی تقدیر بن رہی ہوتی ہے۔ اس لیے فیصلے پختہ ہونے چاہئیں۔ فیصلہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ جیسے ریت پر لکیر لگی ہو، ذرا سی ہوا چلی اور وہ لکیر مٹ گئی۔ فیصلہ ایسا ہونا چاہے کہ گویا پتھر پر لکیر ہے جو مٹ ہی نہ سکے۔ اگر آپ محنتی ہیں اور جدوجہد کررہے ہیں تو کبھی کبھی اپنے سینے پر ہاتھ رکھیں اور اپنے آپ سے کہیں، ’’ابھی انتظار کرو، دوست ابھی کہانی باقی ہے۔‘‘ اس جملے میں اتنی طاقت ہے کہ کہنے 
والے کے اندر امید جاگ جاتی ہے۔

اپنے آپ سے سوال پوچھئے کہ میں کدھر جارہا ہوں؟ جو میں کر رہا ہوں، اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ میں ایک عرصے سے کیا کرتا جا رہاہوں؟ فلاں شخص میری زندگی میں کیوں آیا؟ اس کے آنے کا مطلب کیا ہے؟ اس وقت ہی ایسا کیوں ہوا؟ پہلے کیوں نہیں ہوا ؟ ابھی تک ایسا کیوں نہیں ہورہا ؟ کیا میں کہیں جارہا ہوں ؟ کیا میں رکا ہوا ہوں؟ میری زندگی کا کوئی مقصد بھی ہے؟ میری زندگی کسی معنی سے بھی وابستہ ہے کہ نہیں؟ مجھ سے کسی کو کوئی فائدہ ہورہا ہے کہ نہیں؟ میں دنیا میں آنے کا حق ادا کر رہا ہوں؟ میں اس دنیا سے جاؤں گا تو یاد بھی رہوں گا کہ نہیں؟ یہ سارے وہ سوالات ہیں جو آدمی کا ذہن تبدیل کر دیتے ہیں۔ آپ چاہیں تو کسی ایک سوال سے خود کو جوڑ لیں۔ بار بار اپنے آپ سے وہی سوال پوچھئے۔ جب ایسا ہوگا تو آپ میں سنجیدگی پیدا ہوگی اور تبدیلی آنا شروع ہوجائے گی۔ جب آدمی خود ہی مجرم بنتاہے، خود ہی منصف بنتا ہے تو تبدیلی آنا شروع ہوتی ہے۔ 

زندگی کے متعلق آپ نے جو نام رکھے ہیں، انھیں تبدیل کیجیے۔ جیسے زندگی جبر مسلسل ہے۔ اس کو اس طرح بدلیے کہ زندگی ایک امتحان ہے، اطمینان سے اس امتحان کی تیار کیجیے۔ اگر آپ صرف الفاظ بدلیں گے توالفاظ میں ا تنی قوت ہے کہ چند روز بعد یہ الفاظ آپ کی زندگی میں سرایت کرجائیں گے اور آپ کی زندگی بدلنا شروع ہوجائے گی۔ بے بسی والی شاعری، بے بسی والے جملے، بے بسی والا لٹریچر انسان کو بھی بے بس بنا دیتا ہے۔ وہ انقلاب نہیں لاسکتا۔ انقلا ب کیلئے انقلابی ادب چاہیے، انقلابی کتابیں چاہئیں اورانقلابی شخص چاہیے۔ تبھی زندگی میں انقلاب آئے گا۔






Post a Comment

© Urdu Thoughts.