Main Hon Pakistan | Hum Hain Pakistan - میں ہوں پاکستان

a urdu story about pakistan, urdu short stories with moral, short stories in urdu language, urdu short story, urdu thoughts.

میں_ہوں_پاکستان
ہم_ہیں_پاکستان

کسی بھی ملک کا کوئی بھی باشندہ ملک سے باہر یا ملک کے اندر اپنے وطن کی نشاندہی کرتا ہے ، اپنے ملک کو ظاہر کرتا ہے ۔ اگر ہم سب پاکستان کے رہنے والے ہیں تو ہم پاکستان کو ظاہر کرتے ہیں ۔ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کرپٹ ہے تو مطلب ہم سب کرپٹ ہیں ، کیونکہ ہم ہیں پاکستان ۔ پاکستان کو اس دھبے سے پاک کرنے کے لیئے ہمیں اپنے اوپر لگے دھبے دھونے پڑیں گے ۔ کتنے لوگ ہیں جو ملکی مفادات کے لیئے ذاتی مفادات کو قربان کر دیں ؟ ہم لوگ بڑے فخر سے فوج یا اپنے بزرگوں کی پاکستان کے لیئے دی گئی قربانیوں کا ذکر کرتے ہیں اور فخر کرنا بھی چاہیے لیکن ہم سے خود کتنے ہیں جو ملک کے لیئے قربان ہونا چاہیں گے
؟ اگر ملک سے باہر لاکھوں کی آمدن مل رہی ہے اور ملکی خدمت کا جذبہ صفر ہے تو ایسی آمدن کا کیا فائدہ ؟ کیونکہ آپکی سرزمین آٓپ پر وہی حق رکھتی ہے جو آپکے ماں باپ جیسے انہوں نے بچپن میں ہم پر رحم کیا ویسے ان کے بڑھاپے میں ان کے احسانات کا بدلہ دیا جاتا ہے ۔ ہم میں سے کتنے لوگ پاکستان کو اپنی ماں سمجھتے ہیں ؟ پاکستان پر ہمارا ہر حق ہم جتاتے ہیں لیکن پاکستان کا ایک حق بھی ہم اداء کرنے کو تیار نہیں ۔ اگر پاکستان میں رہ کر چند ہزار روپوں کے ساتھ ہم پاکستان کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں تو یہ لاکھوں کروڑوں سے بہتر ہے ۔ پیسے ، کرپشن ، بد عنوانی ان سب کا آغاز تو ہم خود کرتے ہیں ۔ کتنے پیسے چاہییں بھائی ؟ کہاں لے کر جاؤ گے اتنا پیسہ ؟ تمہاری پیدائش سے لے کر موت تک تمہارے ملک کا تم پر احسان ہے ، احسانات ہیں کہ بڑھتے جا رہے ہیں ۔ میرا یہ پیغام نہیں بلکہ گزارش ہے تمام پاکستانیوں کے نام کے خدارا اپنے حال پر رحم کرو تا کہ کسی اور سے رحم کی بھیک نہ مانگنی پڑے ۔ میں ہوں پاکستان ، ہم ہیں پاکستان ۔ آج ہمارے پاس قائداعظم یا اقبال کی افکار تو ہیں لیکن ان جیسا عمل یا جذبہ نہیں ہے ۔ سیاسی رہنماؤں سے چھٹکارا اسی صورت میں مل سکتا ہے جب تک ہم کچھ نہ کریں ورنہ خاندانی سیاست اور باری سسٹم سے ہمارا ملک تباہیوں کے کنارے پر ہی جائیگا ۔ ہمیں ہی کچھ کرنا پڑے گا ،
اور اپنی سطح پر اپنی طاقت کے مطابق ہم کر کے دکھائیں گے انشاء اللہ ۔ پاکستانیو اپنے حال پر رحم کرو تا کہ کسی اور سے رحم کی بھیک نہ مانگنی پڑے۔
سید اسامہ شیرازی






Post a Comment

0 Comments