Achi Baatein in Urdu - Achi Quotes in Urdu - Achi Baatein Wallpaper

Achi Baatein in Urdu, Achi Quotes in Urdu, Achi Baatein Wallpaper, pic of achi batain 2019, zindagi ki achi batain, sad urdu quotes in 2 lines, quotations of novel in urdu, urdu quotes on zindagi, nice quotes sad on life in urdu, quotes in urdu fb, urdu quotes, beautiful quotes in urdu.




ایک شادی شدہ جوڑے کے گھر کے سامنے نئے پڑوسی آئے۔
اِن کی کھڑکی سے نئے پڑوسیوں کا گھر صاف دکھائی پڑتا تھا۔ یہ شادی شدہ جوڑے کی عورت اپنے نئے ہمسائیوں کی ہر چھوٹی چھوٹی بات کو کھڑکی سے نوٹ کرتی اور اپنے شوہر سے شیئر کرتی۔
ایک دن جب وہ دونوں ناشتہ کر رہے تھے تو بیوی نے کھڑکی میں سے دیکھا کہ سامنے والوں نے کپڑے دھو کر پھیلائے ہوئے ہیں۔ "یہ لوگ کتنے خراب اور گندے کپڑے دھوتے ہیں"، بیوی چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے اپنے شوہر سے بولی،
"ذرا صاف کپڑے نہیں دُھلے، اِن کی خواتین کو کپڑے دھونے آتے ہی نہیں ہیں، ان کو چاہیے کہ اپنا صابن تبدیل کرلیں، یا کم از کم کسی سے سیکھ ہی لیں کہ کپڑے کس طرح دھوئے جاتے ہیں"۔ شوہر نے نظریں اُٹھا کر کھڑکی کی طرف دیکھا، زیرِ لب مسکرا کر پھر ناشتہ کرنے میں مشغول ہو گیا۔
اسی طرح ہر بار جب بھی اُن کے پڑوسی کپڑے دھو کر پھیلاتے، اِس عورت کے اُن کے کپڑوں اور دُھلائی کے بارے میں یہی تاثرات ہوتے۔ وہ ہمیشہ ہی اپنے شوہر کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرتی کہ "آج پھر ان لوگوں نے کپڑے اچھے نہیں دھوئے", "دل چاہتا ہے خود جا کر ان کو بتا دوں کہ کس طرح یہ اپنے کپڑوں کی دھلائی بہتر کر سکتے ہیں"۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔!
الغرض اُن کے پڑوسیوں کا گھر اور اُن کے کپڑوں کی دھلائی ہمیشہ ہی اِس عورت کی تنقید کا نشانہ بنے رہتے۔
ایک صبح جب یہ عورت ناشتے کی میز پر بیٹھی تو پڑوسیوں کے صاف سُتھرے دُھلے ہوئے کپڑے دیکھ کر حیران رہ گئی اور اپنے شوہر سے بولی، "دیکھا! بالآخر انہوں نے سیکھ ہی لیا کہ کپڑے کیسے دھوئے جاتے ہیں، شکر ہے کہ آج اُن کے کپڑے صاف ہیں، لیکن مجھے حیرت ہے کہ آخر یہ عقل اُن کو آئی کیسے۔۔۔؟"
پھر شوہر کو مخاطب کرتے ہوئے بولی "شاید انہوں نے کپڑے دھونے کا طریقہ تبدیل کر لیا ہے یا پھر اپنا صابن بدل دیا ہے" اور چپ ہوتے ہی اپنے شوہر کی
طرف جواب طلب نظروں سے دیکھنے لگی۔
شوہر جو ناشتہ کرنے میں مصروف تھا بیوی کی باتیں سن کر مسکراتے ہوئے، کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، "بیگم! آج صبح میں جلدی اُٹھ گیا تھا اور میں نے اِس گرد سے بھری ہوئی کھڑکی کو اچھی طرح صاف کر دیا تھا، جہاں سے تم سامنے والوں کو دیکھتی تھی"
دوستو! بالکل ایسا ہی ہماری روزمرہ زندگی میں بھی ہوتا ہے۔ ہماری اپنی کھڑکی صاف نہیں ہوتی اور ہم دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ خود ہمارے اندر ہوتا ہے لیکن ہمارا اُس طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔
کسی کو پرکھنے کا یہ انتہائی بہترین طریقہ ہے کہ سب سے پہلے ہم اپنی کھڑکی کو دیکھیں، کیا وہ صاف ہے؟ کیونکہ جب ہم کسی کو دیکھتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں تو اس بات کا انحصار اُس کھڑکی یا ذریعے کی شفافیت پر ہوتا ہے جس سے ہم کسی کو چانچ رہے ہوتے ہیں۔
چونکہ انسان خطا کا پتلہ ہے اِس لیے غلطی کا انسان سے صادر ہونا ایک فطری عمل ہے۔ لیکن دوسروں پر انگلی اُٹھانے سے پہلے اِس چیز کا یقین کر لیں کہ کیا ہم بھی تو اُسی غلطی سے دوچار نہیں ہیں..!!...





سارے رشتے پیدا ھونے کے بعد بنتے ہیں ،، اس زمین پر ایک واحد ایسا رشتہ ھے جو ھمارے پیدا ھونے سے نو ماہ پہلے بن جاتا ھے ،،
وہ بس وھی کھاتی ھے جس سے ہمیں نقصان نہ ھو ،، وہ بڑے سے بڑے درد میں بھی عذاب بھگت لیتی ھے مگر درد مارنے کی دوا نہیں کھاتی کہ کہیں وہ دوا ھم کو نہ مار دے ،، ھم اس کی پسند کے کھانے چھڑا دیتے ھیں ،،ھم اس پر نیند حرام کر دیتے ھیں ،، وہ کسی ایک طرف ھو کر چین سے سو نہیں سکتی ، وہ سوتے میں بھی جاگتی رھتی ھے ، 9 مہینے ایک درد سے گزرتی ھے ،گرتی ھے تو پیٹ کے بل نہیں گرتی پہلو کے بل گر کر ھڈی تڑوا لیتی ھے تجھے بچا لیتی ھے ،
اس نے ابھی تیری شکل نہیں دیکھی ،، لوگ شکل دیکھ کر پیار کرتے ھیں وہ غائبانہ پیار کرتی ھے ،، لوگ تصویر مانگ کر سلیکٹ کرتے ھیں ،،، دنیا کا کوئی رشتہ اس خلوص کی مثال پیش نہیں کر سکتا ،، خدا کو اس پر اتنا اعتبار ھے کہ اس کو اپنی محبت کا پیمانہ بنا لیا ،، اور جنتی ھے تو قیامت سے گزر کر جنتی ھے اور ھوش آتا ھے تو پہلا سوال تیری خیریت کا ہی ھوتا ھے ،،،
خدا کے بعد وہ واحد ہستی ھے جو عیب چھپا چھپا کر رکھتی ھے ، تیری حمایت میں وہ عذر تراشتی ھے کہ تیرے باپ کو مطمئن اور تجھے حیران کر دیتی ھے ،، باپ کھانا بند کرے تو وہ
اپنے حصے کا کھلا دیتی ھے ، باپ گھر سے نکال دے تو وہ دروازہ چوری سے کھول دیتی ھے،،
خدا کے سوا کوئی تیرا اتنا خیال نہیں رکھتا جتنا ماں رکھتی ھے ،،، خدا نے بھی جنت اٹھا کر اس ماں کے قدموں میں رکھ دی ،،
اللہ پاک سب کے مائوں کو لمبی زندگی دے جن کے مائیں فوت ھیں انہیں اللہ پاک جنت فردوس عطا کریں
آمین ثم آمین






آپکو پتہ ہے ہم اپنے پیاروں کو اگر کوئی پھول دیتے ہیں تو اگر ان کے ساتھ کانٹےلگے ہوں تو ہم وہ کانٹے اتار کے انھیں پھول دیتے ہیں ,,,..ہم کانٹوں والے پھول نہیں دیتے اپنے پیاروں کو ..,,ہم اپنے بچوں کو بھی کانٹوں والے پھول نہیں دیتے...ایسا ہی ہے نا؟؟

....تو اس زندگی میں بھی پھول اور کانٹے ساتھ ساتھ ہیں ...آپ نے کرنا کیا ہے کہ اس پھول کی ٹہنی کو جو کانٹوں سے بھری ہے آرام سے پکڑ کر سارے کانٹے اتارنے ہیں اور اسے آگے پاس کرنا ہے

کسی ایک بندے نے کوئی بری بات کردی آپ کے ساتھ تو آپ نے کرنا یہ ہے کہ اس ایک کانٹے کواتارنا ہے اور وہ ڈھیروں لوگ جو آپکی تعریف کر رہے ہیں
ان کی تعریفوں appreciation کو لینا ہے اور آگے چلنا ہے,,,.....criticise تو لوگ کریں گے ہی کریں گے .....

کیونکہ جتنا زیادہ پھل دار درخت ہوتا ہے اتنے زیادہ پتھر بھی اس پر مارتے ہیں لوگ ..
سو آپ نے کیا کرنا ہے ...

زندگی اگر آپکو کھٹا پانی دے گی تو آپ نے اس میں شکر ملا کے پی جانا ہے
کچھ بھی ہو جاۓ خود کو positive ہی رکھنا ہے آپ نے🌸







No comments