والدین مظبوط سہا رہ ہوں تو کوئی بھی بیٹیوں کے



والدین مظبوط سہا رہ ہوں تو کوئی بھی بیٹیوں کے جذبات سے احساسات سے نہیں کھیل سکتا چا ہے معا شرہ ہو یا سسرال یابھیڑ یے نما انسان ۔ بیٹیوں کے لئے مشکل وقت میں  سہارا بھی وہی والدین بنتے ہیں جو خود مضبوط کردار کے مالک ہوں جو بیٹی کے ساتھ اسکے بچوں کو بھی سنبھالنے کا حوصلہ رکھتے ہوں آپ کو اندازہ نہیں کے آپ کے ایک جملے سے کسی بیٹی کی زندگی کتنی بدل سکتی ہے آپکا یہ جواب کے بچوں کو چھوڑ آؤ ہم سنبھال لیں گے تمہیں تمہاری روٹی ہم پے بھاری نہیں ۔یا یہ کہنا کے طلاق لو تمہاری کہیں اور شادی کردیں گے گھر میں بیٹھا کے تو نہیں رکھ سکتے ۔یا یہ کہنا کے تمہیں رکھ تو لیں اپنے گھر لیکن باقی بچوں بچیوں کے رشتے بھی کرنے ہیں تم جیسے تیسے گزارا کرو خود ہی سب ٹھیک ہو جا ئے گا ۔ایک بیٹی جب ماں بنتی ہے تو وہ خود تو مٹ سکتی ہے لیکن بچوں کو چھوڑ کر اپنے ماں باپ کے گھر رہنا اور نئی شادی رچانا اسکے لئے عذاب سے کم نہیں ہوتا کیا ہی اچھا ہو اگر آپ یہ ایک جملہ بول کے اسکے درد کو کم کر دیتے کے بیٹی یہ پہلے ہی کی طرح تمہارہ گھر ہے تم مشکل میں ہو ہم تمہارا ساتھ دیں گے تمہیں بچوں کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہم کوئی نوکری ڈھو نڈ تے ہم اور تم سب مل کے تمہارے بچوں کی پرورش کریں گے ۔رہی بات کے تم یہ سوچتی ہو کے تمہاری وجہ سے باقی بہن بھایوں کے رشتے میں رکاوٹ ہو گی تو بیٹی جسنے پیدا کیا ہے وہ رشتوں اور رزق کا بہتر انتظام کرنے والا ہے معاشرےکی پرواہ ہمیں بھی نہی تمہیں بھی نہیں ہونی چا ہیے خدا کے سپرد کرو ہم ہیں تمہارے ساتھ ۔تو یقین کریں کوئی بیٹی مظلوم نہیں رہے گے ہم خود معاشرےکے ڈر سے کے لوگ کیا کہیں گے  اپنی بیٹیوں کا سہا رہ نہی بنتے نتیجہ یہ نکلتا ہے کے ظالم اور طاقتور بن جاتا ہے اور بیٹی کی موت زندگی گزارتے ہویے ہوتی ہے.

شمائلہ نورین

Post a Comment

0 Comments