Last Aisrah of Rramadan


رمضان کا آخری عشر ہ چل رہا تھا لوگوں کی دھکم پیل اور لاہور کے اچھرہ بازار یعنی مارکیٹ سے ہوتے ہویے بڑی مشکل سے بچوں کی شاپنگ کی غرض سےپہنچتی ہوئی ریڈیمیڈ کپڑوں کی دکان پے سکون کا سانس لیا ہر طرف گہما گہمی اور رونق تھی بازار میں میں نے دکاندار سے قیمت پوچھی لیکن وہ اور اسکے ساتھ ایک اور لڑکا دونو ں باتوں میں مشغول تھے اب لگاتار برقعے کے اوپر سے میرے جسم کا ایک ایک حصہ ناپا جا رہا تھا جو بہت تکلیف دہ تھا میرے لئے اسی اثنا میں ایک جملہ کانو ں میں پڑا یار آنکھیں دیکھ آنٹی کی کیا ظالم ہیں اس عمر میں بھی کتنی فٹ ہے جوانی میں پتہ نہیں کتنے قتل کئے ہونگے بر قعے میں قیامت ہے اندر سے سے پتہ نہیں کتنی حسین ھو گی ۔رمضان کے مھینے میں تو شرم کرلو میں نے کپڑوں کی قیمت پوچھی تھی آپ لوگوں کی بکواس سوننے نہیں آئ تھی ما ں بہن کو دیکھ لیا کرو گھر وہ بھی میرے جیسی ھی ہونگی غصےسے بولتے ہویے اس دکان سے نکل آئی ۔ارے باجی بات تو سنیں بات تو سنیں کیا ہوا کیا چاہیے تھا آپ کو اے چھوٹے گاہک کو ناراض کیوں کیا دکان کے مالک نے ان لڑکوں سے مخاطب ھو کے کہا بحر حال میں د کان سے نکل آئی ۔ابھی رش کے ہٹنے کا انتظار کر رہی تھی دکان کے ایک سائیڈ پے کھڑی ھو گئی اسی اثنا میں پھر انھیں دو لڑکوں کی آوازیں میرے کانو ں سے ٹکرائیں جو سامنے سے آتی ہوئی ایک عورت اور 18سال کی لڑکی کو گھو ر رہے تھے ایک نے دیکھتے ہویے آنکھیں جھکا لیں دوسرا ٹکٹکی با ندھے ابھی بول رہا تھا یار بچی بڑ ی ٹائٹ ہے آج تو میری قسمت کھل گئی ابے آنٹی بھی کم نہیں جوانی میں قیامت ہوگی دوسرے لڑکے نے ایک زناٹے دار تھپڑ اپنے ساتھی کے منہ پے دے مارا اب وہ آپس میں گتھم گتھا ھو رہے تھے سب لوگ انھیں ایک دوسرے سے الگ کرنے میں لگے تھے میں کافی دیر یہ منظر دیکھتی رہی سمجھ سے باہر تھا ہوا کیا ۔آخر کار لہو لہان لڑ کے کو چھڑا یا گیا جسکے ناک اور منہ سے خون بہہ رہا تھا لیکن اسکی آنکھیں حیران تھیں کے میں نے کیا کیا ہے شور شرابے میں آوازیں بلند ہوئیں وہ اب اپنی ماں اور بہن کو گھسیٹ رہا تھا کے کتنی دفع کہا ہے کے میری دکان پے نا آیا کرو اور عید کی شاپنگ مہینہ پہلے کر لیا کرو اتنے رش میں آ نے کی کیا ضرورت تھی اوپر سے اسکو بھی ساتھ لے آ ئی اس دفع اسنے اپنی بہن کی طرف اشارہ کرتے ہویے غصے سے کہا ،اسکو برقع پہناؤ چھوٹی نہیں ہے اب یہ لوگوں کی گندی نظریں پڑتی ہیں ۔اچھا پتر اچھا ہم تو تجھ سے پیسے لینے آگیے تھے چو ڑ یاں میچ کرنی تھیں اس لئے آنا پڑا اب جاؤ آج میں اس کے لئے آتا ہوا برقع لے کے آؤنگا جس میں صرف آنکھیں دیکھیں پردہ کروایا کرو اماں اسے اب چھوٹی نہیں ہے یہ جوان ھو گئی ہے ۔میں نے ہمت کی آگے بڑ ھی اور اس لڑ کے سے پوچھا کے آنکھیں تو اسکی بھی خوبصورت ہیں برقعے کے اندر سے بھی حسن جھلکے گا کوئی اور طریقہ ڈھونڈو ۔وہ جھکی پیشانی سے معزرت کرنے لگا ۔باجی کونسے فراک کی قیمت پوچھی تھی آپنے ؟وہ ریڈ والا میں نے اشا رے سے بتایا 

 تحریر شمائلہ نورین

Post a Comment

0 Comments