14 Quotes In Urdu about Family, People and Relationship

Inspirational Urdu quotes to clarify life, no matter what your problem or difficulty does not ever let go of sincere relatives.

This article is essentially a set of such powerful Urdu quotes that may assist you to neutralize your pain, and these golden Urdu words may additionally assist you within the time of suffering.


*والدین کا ادب و احترام*

انسان کو اپنی جگہ پہ لگا ھوا دانت چھوٹا سا محسوس ھوتا ھے مگر جب وہ دانت گرتا ھے تو دو دانتوں جیسا بڑا خلاء چھوڑ جاتا ھے اور انسان وہاں انگلی رکھ رکھ کر تصدیق کرتا ھے کہ ”ہیں!! واقعی ایک دانت گِرا ھے؟“
کچھ رشتے جب پاس ھوتے ھیں تو اتنے اھم نہیں لگتے مگر جب چلے جاتے ھیں تو اتنا بڑا خلاء چھوڑ جاتے ھیں کہ کئی انسان مل کر بھی اس خلا کو پُر نہیں کر سکتے۔ ان میں سے ایک رشتہ والدین کا ھے۔ یہ جب تک پاس ھوتے ھیں تو ہوش سنبھالتے ہی ان کی پابندیاں جان کھا جاتی ھیں _سپارہ پکڑو مسجد جاؤ
مسجد جاؤ گے تو روٹی ملے گی!!
*زبردستی_”اسکول دفع ھو جاؤ، کوئی چھُٹی شُٹی نئیں“_سردیوں میں گھسیٹ کر گرم کمبل سے نکالنا،
بندہ سوچتا ھے کہ کیا ان کی زندگی میں کوئی کام میں اپنی مرضی سے کر بھی سکوں گا یا نہیں؟؟
*یہ بہت عجیب تعلق ہوتا ہے ،*


ھر پسند کے آگے ماں باپ کھڑے نظر آتے ھیں ،ہر رنگ میں بھنگ ڈالنے والے!!
کھیل کے سنسنی خیز لمحات آخری اورز اور عین وقت پر ماں کی للکار…
نالائق تو ابھی تک مسجد نہیں گیا؟؟
”امی مسجد ادھر ہی ھے… نہیں کہیں جاتی، چلا جاؤں گا بس پانچ بال ھیں“

مگر جب یہ چلے جاتے ھیں تو انسان کی دنیا ویران ھو جاتی ھے، خوشی کے وقت پہلا خیال یہی تو آتا ھے کہ امی کو بتاؤں ، یا ابا کو بتاؤں کہ آپ کا وہ بیکار کا بیٹا یا بیٹی کتنے کام کے نکلے ہیں مگر پھر جھٹکا لگتا ھے کہ ”جن کو اصل خوشی ھونی تھی وہ تو چلے گئے“

*”ڈھونڈ اُن کو اب چراغِ رُخِ زیبا لے کر“*

ھر خوشی اپنے پس منظر میں دُکھ کی کسک چھوڑ جاتی ھے!!

والدین کی ہر وہ بات اور پابندی جس پر ہمیں اِس وقت غصہ آتا ھے حقیقت میں اُنکے خلوص و اخلاص کا مظہر ھوتا ھے ، وہ نہ صرف ہمارے نقصان بلکہ نقصان کے اندیشے سے بھی سہمے رھتے ہیں اور ھمارے مستقبل کے لئے پریشان رھتے ہیں۔ مگر یہ بات تب تک سمجھ نہیں آتی جب تک آپ کی اپنی اولاد نہیں ھوتی اور آپ بھی جوتی اٹھا کر بیٹے کے سر پر کھڑے نہیں ھوتے!!

والدین کا خیال رکھیں اُن کی قدر کریں ، ان کے لئے مصروف زندگی میں سے وقت نکالیں کہ ان جیسی عظیم ہستیوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہے







روبینہ_یاسمین

سوچ رہی ہوں ،سوچوں کیسے؟

ٹیکنالوجی کی بدولت جہاں ہم کلک کلک کر کے منٹوں میں کسی بھی مطلوبہ موضوع پر ڈھیروں معلومات حاصل کر لیتے ہیں، وہیں ہمیں وہی معلومات ملتی ہیں جو گوگل ہمیں دکھانا چاہتا ہے۔ ہماری سوچ سمجھ گو گل کے تا بع اور محدود ہو گئی ہے۔ جب ہم پڑھائی کے دنوں میں اسائنمنٹ بناتے تھے تو لائبریری جا کر کتابیں جمع کرتے۔ پھر ان کتا بوں میں سے ڈھونڈ کر مطلوبہ معلومات جمع کرتے۔ اس مطلوبہ گوہر مقصود کی تلاش میں بہت کچھ اضافی بھی پڑھنا پڑ جاتا اور پھر فلٹر کر کے کام کی بات نکال لی جاتی۔ آ ج کا طالب علم سب سے پہلے گوگل کے پاس جاتا ہے۔ جو چیز گوگل نے نہیں دکھائی یا اس پر دستیاب ہی نہیں وہ تو تلاش کے دائرے سے ہی خارج ہو گئی۔ ہمارا دماغ تو گوگل کے مر ہوں منت ہو گیا جو وہ چاہے دکھائے جو وہ چاہے سکھائے۔
ہمارے پاس پوری کتاب پڑھنے کا تووقت ہی نہیں رہا۔ چار پانچ لائنوں میں کام کی بات تو سرچ بار پر لکھتے ہی سامنے آ جاتی ہے۔ ہماری سوچ سست ہورہی ہے۔ ہماری imagination کوزنگ لگ رہا ہے۔ ہماری creativity ختم ہورہی ہے۔ ہم الفاظ کے ردوبدل سے کوئی بھی معلومات اپنے نام کا ٹھپہ لگا کر پیش کر دیتے ہیں ۔ کچھ نیاسوچنے کا وقت ہی نہیں رہا۔
تو یہ نئی سوچ کہا ں سے آ ئے۔ سمجھیں گوگل ایک بہت بڑا سٹور ہے جہاں ضرورت کی ہر چیز دستیاب ہے۔ہماری ضرورت کی ہر چیز بر وقت مل جانے کی وجہ سے ہمیں کسی اور سٹور پر جانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اور سٹور نہیں ہیں ۔ ہو سکتا ہے دوسرے سٹور پر ایسی چیزیں ہوں جو بہتر ہوں۔
تو اپنی سوچ کو کیسے آ زاد کریں، کیسے نیا سوچیں؟
کوشش کر کے فطرت کو اپنی زندگی میں شامل کریں۔ باہر نکلیں مناظر قدرت کامشاہدہ کریں ۔ مٹی کی خوشبو اور اس کے texture کو محسوس کریں۔ اپنا ٹیکنالوجی والا سوئچ کچھ دیر آ ف کریں ۔ اپنے آ پ کو اس وائر ڈ اور وائر لیس ٹیکنالوجی کی زنجیروں سے آ زاد کریں گے تو ہی دماغ کچھ نیا سوچے گا۔

ایک صحت مند جسم میں ہی صحت مند دماغ ہوتا یے تو جسمانی مشقت کے ذریعے اپنے جسم اور دماغ کو مضبوط بنائیں۔ سوچنے کی عادت اپنی فکر کو آ زاد کرنے سے ہی پڑتی ہے۔ سوچنے کی مشق کر کے ہی دماغ کو نیا سوچنے اور غور فکر کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ مستقل پریکٹس ہمارے ذہن کو مضبوط بناتی ہے۔ نئے لوگوں سے ملنا، نئ جگہوں کا سفر ، نا مانوس اطراف میں خود کومانوس کرنے کی کوشش بہت کچھ نیا لاسکتی ہے۔ اپنی سوچ کو وسیع کریں۔ دوسروں کی باتیں سنیں ،انہیں analyse کریں اور اپنی سوچ کے دروازے ہمیشہ وا رکھیں۔

تو سوچیں پھر کچھ نیا۔















‏سوچۓ 👇
جب عورتیں ، مرد کی تمام خواہشات شادی سے پہلے ہی پوری کر دیں گی
تو مرد کو نکاح کی کیا ضرورت ھے پھر....؟؟؟
اور جب مرد عورتوں کے پاک دامن کو داغدار کریں گے ،
تو ان کے حصے میں پاک دامن عورتیں کیسے آئیں گی؟؟؟




‏اخلاقیات کا خزینہ،محنت کا پھل، محبتوں کا سمندر،خواہشات کی آوارہ پنچھی سے آزادی ،سیرت سازی اور اچھی تربیت کا ایک روشن چراغ، ایک اچھے کردار کی شناسائی ،اپنے سے نیچے لوگوں کو دی گئ اپنایت ، خوبصورت خوشگوار خوشحال زندگی کا مجموعہ ہے۔۔۔







Do share these beautiful quotes to your friends and Family, Thanks.

Post a Comment

0 Comments