18 Nimra Ahmed K Novels Batain - Lines From Urdu Novels

In this post you will be able to read 18 Nimra Ahmed K Novels Ki Batain, Nemrah Ahmed K Novels kay Dialogues, Nemrah Ahmed Novels Urdu Quotes And Iqtibasaat. You can read Jannat Kay Pattay Novel Iqtibas, Haalim Novel Quotes, Mushaf Novel Dialogues, Namal Novel Iqtibas here. Nemrah Ahmed Urdu Novels Say Iqtibas Images.if you like these quotes, iqtibas then please share this to your family and friends.




’’تیمور! تم کس کے ساتھ رہنا چاہو گے؟...... میرے ساتھ یا ڈیڈی کے ساتھ؟‘‘ وہ جانتی تھی کہ تیمور کا جواب کم از کم اس کے حق میں نہیں ہو گا، پھر بھی پوچھ لیا۔
’’کسی کے بھی ساتھ نہیں۔‘‘ اس نے بے زاری سے شانے اچکائے تھے۔
’’مگر بیٹا! آپ کو کسی کے ساتھ تو رہنا ہی ہو گا۔‘‘

’’میں آپ کا نوکر ہوں جو کسی کے ساتھ رہوں؟ جسٹ لِیو می الون۔‘‘ وہ ایک دم زور سے چیخا تھا اور پھر کرسی کو ٹھوکر مارتا اندر چلا گیا۔
وہ تاسف سے اسے دور جاتے دیکھتی رہی۔ یہ تلخ لہجہ، یہ بدمزاجی، یہ اندر بھرا زہر.... یہ کس نے تیمور کے اندر ڈالا؟
اور اس سے پہلے کہ وہ اس کے باپ کو موردِ الزام ٹھہراتی، ایک منظر سا اس کی نگاہوں کے سامنے بننے لگا۔


جینز، کُرتے میں ملبوس، اونچی پونی ٹیل والی ایک لڑکی، چہرے پہ ڈھیروں بے زاری سجائے چلّا رہی تھی۔
’’میں آپ کے باپ کی نوکر ہوں، جو یہ کروں؟‘‘
اس کے مخاطب بہت سے چہرے تھے۔ کبھی تائی مہتاب، کبھی مسرت، کبھی کزنز، تو کبھی کوئی چچا۔
اسے وہ منہ پھٹ، بدمزاج اور تلخ لڑکی یاد آئی اور اس کا رواں رواں کانپ اُٹھا۔

’ہاں...... جو اپنے بڑوں سے جیسا کرتا ہے، اس کے چھوٹے بھی اس کے ساتھ ویسا ہی کرتے ہیں۔‘ کوئی اس کے اندر بولا تھا۔
راستہ ایک ہی ہے، اس پہ انسان ایک وقت تک چلتا ہے، اور پھر آخر وہ واپس اپنے قدموں کے نشانوں پہ لوٹتا ہے۔ جو ببول اُگا کر جاتے ہیں، ان کو لہولہان کرنے والے کانٹے ہی ملتے ہیں۔ اور جنہوں نے پھول بکھیرے ہوں، ان کا انتظار گلستان کر رہے ہوتے ہیں۔

مصحف


***************************


وقت کے ان تینوں سوالوں کا جواب ’’حال‘‘ میں پوشیدہ ہے ۔ انسان کو ہر کام کل پہ ٹالنے کی بجائے بروقت شروع کرنا چاہیے ۔ اور اصل وقت ’’اب ‘‘ ہوتا ہے ۔ مستقبل کے خیالی پلاؤ بنانا غلط ہے ۔ خوابوں کے لئے آج سے محنت شروع کر دینی چاہیے ۔ اور اہم شخص وہ ہے جو زندگی کے حالیہ فیز میں ہمارے ساتھ ہے ۔ کوئی کولیگ ‘ یا گھر والے ‘ یا ہاسٹل کے ساتھی ‘ یا میاں بیوی ....اس شخص کو ہر ایک سے زیادہ اہم رکھنا ہے ہم نے اور اس کے ساتھ بھلائی کرنا اور اس کا خیال کرنا ‘ اس سے وفا نبھانا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔

*************************************






"ہر شخص کا اپنا مقام ہوتا ہے۔ تم سعدی نہیں بن سکتیں‘ نہ تم اس کی طرح ہو۔ تم حنین ہو ۔ اور جو تم میرے لئے ہو ‘ وہ سعدی میرے لئے نہیں بن سکتا۔ اسی طرح فارس ‘ سعدی ‘ یا دنیا میں کوئی بھی شخص خواہ اس سے میں کتنی ہی محبت کروں یا وہ مجھ سے محبت کرے ‘ وہ میرے لئے حنین نہیں ہو سکتا۔ حنین کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ خونی رشتوں میں موازنہ اور مقابلہ نہیں کرتے ۔ کر ہی نہیں سکتے۔ ہر شخص کی اپنی جگہ ہوتی ہے۔ تمہاری بھی ہے اور اس جگہ کو کوئی نہیں بھر سکتا۔"

#Naml_Novel

**********************

کچھ مسائل نا ممکن سے لگتے ہیں، کبھی نہ حل ہونے والے، نہ جانے کتنی کوششیں کی ہوتی ہیں لیکن نتیجہ مثبت نہیں آ تا، پتہ نہیں کیا وجوہات ہوتی ہیں، بس پھر انہیں ان کے حال پہ چھوڑ دینا ہی حکمت ہے، ہر وقت ان کے پیچھے بھاگنا کوئی دانائی نہیں ہے۔

**********************


وہ ساحر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے ایک اشارے پر بل کھاتی رسیاں سانپوں کی طرح دکھتی تھیں۔ مگر سحر اور معجزے میں یہی تو فرق ہوتا ہے، سحر سے رسیاں سانپوں کی مانند دوڑتی ہوئ لگتی ہیں مگر سانپ بن نہیں جاتیں۔ جلد یا بدیر جادو کا اثر زائل ہو جاتا ہےاور معجزہ عصا کو واقعی اژدہا بنا دیا کرتا ہے۔ ایسا فرقان عطا کرتا ہے کہ ہر شے یوں الگ الگ ہو جاتی ہے جیسے سمندر میں اکٹھا بہتا کڑوا اور میٹھا پانی جو کبھی ایک دوسرے میں داخل نہیں ہو پاتا۔

#Iblees







’’کوئی میری سوچیں پڑھ رہا ہے فرشتے!‘‘
’’وہ مخلوق نہیں ہے، وہ کلام ہے۔ بات ہے۔ اللہ کی بات۔ اور اللہ ہی تو سوچیں پڑھ سکتا ہے۔‘‘
وہ گم صم سی ہو گئی۔
’’میں...... میں اللہ تعالیٰ سے بات کر رہی تھی؟‘‘
’’تمہیں کوئی شک ہے؟‘‘
’’مگر...... یہ چودہ سو سال پرانی کتاب ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ پاسٹ (ماضی) میں ہو کر ہم سے چودہ سو سال بعد کے فیوچر (مستقبل) سے خود کو کنیکٹ کر لے؟ اِٹس لائک اے میریکل۔‘‘ (یہ تو معجزہ کی طرح ہے)
’’یہی تو ہم اسے کہتے ہیں۔ معجزہ!‘‘
’’اور جب یہ ختم ہو جائے گی؟‘‘
’’تو پھر سے شروع کر لینا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے، قرآن کے معجزے بار بار دہرانے سے کبھی پرانے نہیں ہوں گے۔ فہماً بتا رہی ہوں۔‘‘

#مصحف

**********************************

’’آپ قید ہیں‘ ڈیڈ!‘‘ وہ روہانسی ہوئی ۔’’ہر چیز میں مثبت پہلو دیکھنا چھوڑ دیں‘ ڈیڈ۔‘‘
’’نہیں۔ میں آزاد ہوں۔پہلی دفعہ میں آزاد ہوا ہوں‘ آریانہ ۔‘‘ اس نے نظروں کا زاویہ موڑا اور مسکرا کے دیوار سے لگی پریشان اور ڈری ہوئی لڑکی کو دیکھا۔’’مجھے یہاں کوئی نہیں جانتا۔کوئی میرا اسکینڈل نہیں بنائے گا۔ کوئی مجھے جج نہیں کرے گا۔میں کبھی اتنا آزاد نہیں ہوا۔میرے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ مجھے اس ملک کو نہیں چلانا۔مجھے کوئی پارٹی نہیں چلانی ۔ دیکھو اردگرد ....یہاں کوئی مجھ میں انٹرسٹڈ نہیں ہے ۔ مجھے کسی کے سامنے اپنا بزنس فیس قائم نہیں رکھنا۔میں آزاد ہوں۔ اور میں اس باورچی خانے میں کھانا پکا سکتا ہوں۔‘‘
’’آپ پھنس چکے ہیں۔ آپ مظلوم ہیں۔ آپ وکٹم ہیں۔ آپ....‘‘
’’میں مظلوم نہیں ہوں۔ میں نے اپنی مرضی سے وہ دروازہ پار کیا تھا ۔ یہ میری چوائس تھی ۔ اور میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں یہاں خوش ہوں۔ نہیں۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ میں مشکل وقت میں ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے نہیں بیٹھوں گا۔ میں اس سے کچھ سیکھ کے ہی نکلوں گا۔ تمہارے باپ نے آج تک ہمت نہیں ہاری ۔ give up
نہیں کیا ۔ تو اب وہ کیوں ہمت ہارے گا۔ نکل تو میں آؤں گا اس سے ۔ مگر مجھے اس قید کو بھی ایک تجربے جیسا سمجھنا ہے جو مجھے کچھ سکھائے ۔ مجھے اس سے بہتر انسان بن کے نکلنا ہے ۔ زیادہ آزاد۔‘‘
’’آپ کو ڈرنا چاہیے کہ یہ جنگلی لوگ آپ کو مار نہ دیں۔‘‘

’’مرنا کیا ہوتا ہے آریانہ ؟‘‘ اس نے گہری سانس لی اور بازوؤں کا تکیہ سر تلے رکھے دوبارہ سے اوپر دیکھنے لگا۔’’ایک دنیا سے دوسری میں چلے جانا اور جب آپ ایک نئی دنیا میں چلے جاتے ہو تو پچھلی کے فائدے نقصان بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اگر مار بھی دیں تو کیا ہو گا؟ میں موت سے نہیں ڈرتا ۔ موت بھی صرف ایک تجربہ ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ میں دنیا سے جانے سے پہلے وہاں کتنی اچھائی اور پوزیٹویٹی پھیلا کے جاتا ہوں۔ جب انسان کو یہ ایمان آ جاتا ہے نا‘ تو وہ موت سے نہیں ڈرتا۔‘‘

#Haalim_Novel










''کون بتائے گا کہ انسان کی شناخت کن چیزوں سے ہوتی ہے؟'' وہ چہرہ قدرے جھکا کر مائیک میں بولے تو بہت سے ہاتھ فضا میں بلند ہوئے۔

''انسان کی شناخت اس کے نام سے ہوتی ہے سر!''

''اس کے ملک سے''

''قبیلے یا ذات سے''

''رسم و رواج سے''

''زبان سے''


''اس کے کردار کی خصوصیات سے''

''کسی اچھے یا برے کارنامے سے''

وہ مسکرا کر ایک ایک کی سنتے گئے۔ دفعتاً میں نے اپنا کمزور سا ہاتھ بلند کیا۔ جانے اتنے لوگوں میں انہیں میرا ہاتھ کہاں سے نظر آ گیا۔
''جی حلیمہ داؤد! انسان کی بنیادی شناخت کس شے سے ہوتی ہے؟''

''د۔۔۔ دین سے۔''

#Iblees

************************

''آپ کی موتیوں کی یہ لڑی بہت خوبصورت ہے۔ میں نے کبھی آپ کو اس کے بغیر نہیں دیکھا۔''

''تم مجھے اس کے بغیر دیکھو گے بھی نہیں۔''
''کیا کوئی خاص وجہ ہے؟''

''بہت خاص۔''
''کس نے دی تھی یہ آپ کو؟''

''میری تیرھویں سالگرہ پہ کوئین مدر نے دی تھی۔ جانتے ہو بدر! میں اسے کیوں پہنتی ہوں۔۔۔۔ میں اسے اچھے شگون کے لیے پہنتی ہوں۔ جب تک یہ پاس ہے، خوش بختی کا ہما میرے سر پہ سایہ کیے رکھتا ہے۔ اگر کبھی تم ان موتیوں کو ٹوٹ کر بکھرتے دیکھو تو جان لینا کہ یا تو مایا نے دل ہار دیا۔۔۔ یا۔۔۔''
''یا؟''

''یا مایا نے جان ہار دی۔''

#BeliRajputankiMalika
#MayaFernandez
#BadarGhazaan

************************

’’اچھا، میں چلتی ہوں۔‘‘ وہ بیگ کندھے پہ ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ہاں۔ تمہیں دیر ہو رہی ہے، گھر میں سب پریشان ہو رہے ہوں گے۔‘‘

’’پریشان وریشان کوئی نہیں ہوتا۔ یتیموں کی پروا کسی کو نہیں ہوتی۔‘'
’’کون یتیم؟‘‘ فرشتے نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’میں۔ میرے ابا نہیں ہیں۔‘‘

’’عمر کیا ہے تمہاری؟‘‘
’’بیس سال۔‘‘

’’پھر تو تم یتیم نہیں ہو۔ یتیم تو اس نابالغ بچے کو کہتے ہیں جس کا باپ فوت ہو جائے۔ بلوغت کے بعد کوئی یتیمی نہیں ہوتی۔ اپنی اس خود ترسی کو اپنے اندر سے نکال دو محمل!‘‘

#مصحف








Post a Comment

1 Comments

Emoji
(y)
:)
:(
hihi
:-)
:D
=D
:-d
;(
;-(
@-)
:P
:o
:>)
(o)
:p
(p)
:-s
(m)
8-)
:-t
:-b
b-(
:-#
=p~
x-)
(k)