Jannat Kay Pattay Say Iqtibas - Log Muje


jannat k pattay best lines in urdu - jannat ke pattay quotes in urdu - jannat k pattay quotes



لوگ مجھے دقیانوسی کہتے ہیں تو میرا دل دُکھتا ہے، میں اپنے دل کا کیا کروں؟ وہ ایک ایک کرکے سارے کانٹے باہر نکال رہی تھی۔ اذیت ہی اذیت تھی۔
"دقیانوسی کیا ہوتا ہے حیا؟"
اس نے جواب دینے کے لیے لب کھولے، وہ کہنا چاہتی تھی کہ پرانا، بیک ورڈ، پینڈو، مگر رُک گئی۔ اہل علم کے سوالات کا جواب کسی اور طریقے سے دینا چاہیے۔
"آپ بتائیں سر! کیا ہوتا ہے؟"

ڈاکٹر حسن ذرا سا مسکرائے۔
"اصحاب کہف کا قصہ توسنا ہوگا آپ نے؟ جس بادشاہ کے ظلم و جبر سے اور اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری سے روکے جانے پہ انہوں نے اپنے گھر چھوڑ کر غار میں پناہ لی تھی، اس بادشاہ کا نام دقیانوس تھا۔ King Decius دقیانوس کا طریقہ
اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری سے روکنا تھا۔ سو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی کوئی بھی چیز دقیانوسی کیسے ہوسکتی ہے؟" وہ لمحے بھر کو بالکل چپ رہ گئی۔
"میں تو یہ سمجھ جاؤں، مگر ان کو کیسے سمجھاؤں؟ میں نے اپنی ماں سے ایک گھنٹہ بحث کی مگر وہ نہیں سمجھیں۔"
"آپ کی عمر کتنی ہوگی؟"

"تیئس سال کی ہونے والی ہوں۔" اس نے بنا حیران ہوئے تحمل سے بتایا۔
"آپ کو بارہ، تیرہ برس کی عمر سے اسکارف لینا چاہیے تھا، مگر آپ نے بائیس تیئس برس کی عمر میں لیا۔ جو بات دس سال، ایک دوست کی موت اور ایک بھیانک حادثے کے بعد آپ کی سمجھ میں آئی، آپ دوسروں سے کیسے توقع کرتی ہیں کہ وہ ایک گھنٹے کی بحث سے اسے سمجھ لیں گے؟" وہ بہت نرمی سے اس سے پوچھ رہے تھے۔
"تو کیا ان کو بھی میرا موقف سمجھنے میں دس سال لگیں گے؟"
"اس سے زیادہ بھی لگ سکتا ہے اور کم بھی، مگر آپ انہیں ان کا وقت تو دیں۔ کچھ چیزیں وقت لیتی ہیں حیا!"
"مگر انسان کتنا صبر کرے سر! کب تک صبر کرے؟" وہ اضطراب سے ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولی۔
"جب زخم پہ تازہ تازہ دوا کا قطر گرتا ہے تو ایسی ہی جلن اور تکلیف ہوتی ہے۔ میرے بچے! صبر کی ایک شرط ہوتی ہے، یہ صرف اسی مصیبت پہ کیا جاتا ہے جس سے نکلنے کا راستہ موجود نہ ہو۔ جہاں آپ اپنے دین کے لیے لڑ سکتی ہوں، وہاں لڑیں وہاں خاموش نہ رہیں۔ آپ سے آیت حجاب میں اللہ نے کیا وعدہ کیا ہے؟ یہی کہ آپ چادریں اپنے اوپر لٹکائیں تاکہ آپ پہچان لی جائیں۔ یہ جو "پہچان لی جائیں" ہے نا عربی میں "عرف" کہتے ہیں۔ اس کا مطلب "تاکہ آپ عزت سے جانی جائیں" بھی ہوتا ہے۔ آپ اپنا وعدہ نبھا رہی ہیں تو اللہ تعالیٰ سے کیا توقع کرتی ہیں؟ وہ آپ کو عزت دینے اور اذیت سے بچانے کا وعدہ نہیں نبھائے گا کیا؟"
مرہم لگنے کے باوجود زخم درد کررہے تھے۔ اس کے گلے میں آنسوؤں کا گولا سا بنتا گیا۔
"مگر کب سر؟ کب میں تبدیلی دیکھوں گی؟" اس کی آواز میں نمی تھی۔

"مزدور کی اُجرت مزدوری شروع کرتے ہی نہیں ملتی حیا! بلکہ جب مطلوبہ کام لے لیا جاتا ہے تب ملتی ہے، شام ڈھلے، مگر کام ختم ہوتے ہی مل جاتی ہے، اس کے پسینے کے خشک ہونے کا انتظار کیے بغیر۔ ابھی آپ نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا صرف تمنا اور خواہش سے نہیں مل جاتی۔ اس کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں تھکنا پڑتا ہے، پھر ہی اُجرت ملتی ہے۔"

~ جنت کے پتے از نمرہ احمد

No comments