Kanwal Ka Phool Novel Say Iqtibas - Is Pori Kainat

Urdu Novels Say Iqtibast - Kanwal Ka Phool Novel Say Iqtibas - Is Pori Kainat


اِس پوری کاٸنات میں ایک ہی تو شخص اُس کے پاس آیا۔ زندگی میں پہلی بار اور پہلا اجنبی مرد ۔۔۔ جو اجنبی ہو کے بھی اپنا اپنا سا لگتا ۔۔۔ ایک ہی شخص آیا اُس کی کالی سوالی آنکھوں میں خواب بھرنے کا عزم لے کر ، اُس کے دل میں پنپتی ننھی سی خواہشوں کی کونپلوں کو پانی دینے ۔ اپنی پوروں سے اُس کی پرخار راہوں کے تمام کانٹے چننے ، اُس کیلیے زندگی آسان کرنے ، اسے آخری صف سے اٹھا کر دنیا کے برابر قطار میں کھڑا کرنے ، اسے اپنی ذات کے گھنیرے اندھیروں سے نکال کر چاہتوں کے سنہرے اجالے دان کرنے ۔۔۔ وہ ایک شخص ” طفیل“ ۔

مگر جب وہ اپنے وجود پر اک نگاہِ منصفی ڈالتی تو دل کٹ کے رہ جاتا ۔ درد کی ایک لہر اٹھتی جو سارے وجود میں بہت اندر تک دراڑیں ڈال دیتی ۔اندر ہی اندر بپھری لہروں سا شور اٹھتا اور پھر اسے خاموشی کے اندھے غاروں میں دھکیل دیتا ۔ لہجہ بے اختیار بے رحم سا ہو جاتا اور وہ کرب سے احتجاجاً چلا اُٹھتی

” طفیل ۔۔۔ اتنی وسیع و عریض کاٸنات بناٸی ہے خدا نے ۔ تم ڈھونڈ لو نا کوٸی اپنے جیسی جو تمہاری چاہتوں کے آسمان پر چودھویں کے چاند سی جگما سکے ۔ میں ادھوری اور نامکمل سی لڑکی ۔ تم میرے ساتھ چلتے ہوۓ کبھی خوشنما نہیں لگ سکتے۔ یہ پوری دنیا تم پر ہنسے گی “

اور وہ ہمیشہ چاہتوں کی چاشنی سے گندھے ہوۓ لہجے میں جواب دیتا

” پگلی ۔۔۔ تن کی خوشنماٸی کس نے چاہی ہے بھلا ۔۔۔؟
مجھے اس فریبی دنیا کی چنداں فکر نہیں ہے اگر کچھ ہے تو صرف یہی کہ تمہارے ان سُوکھے لبوں پر تبسم بکھیر سکوں ، تمہاری ان مغموم سی آنکھوں کو قوسِ قزح کے سارے رنگ دے سکوں ۔
محبت جسم و وجود کی حدوں سے بہت آگے کا جذبہ ہے ۔ تم مجھے پورے من سے اس قدر عزیز ہو کہ تم بن میری صبحیں بھی اداسی سے پھُوٹتی ہیں ، میری شامیں مجھے تمہارے بغیر گزرے ہر اک لمحے کا پُرسہ دینے آتی ہیں ۔ یوں نہ سوچو کہ تم ادھوری اور نامکمل ہو ۔ ہر وسوسے اور ہر ایک اندیشے کو دل سے نکال پھینکو اور بس یہی خوشنما خیال دل میں سنبھال رکھو کہ ہم مل کر ایک دوسرے کو مکمل کر لیں گے “


اور وہ بنا پنکھ لگاۓ ہواٶں میں سفید فاختاٶں سی اڑنے لگتی ۔
طفیل کے یہی دو چار بول ہر ایک زخم پہ مرہم ہو جاتے ، تمام دن کی کوفتیں پل میں دُور بھگا دیتے ۔ ساری تھکاوٹیں اترنے لگتیں ، من ایک دم سرشار سا ہوا جاتا اور وہ ہلکی پھلکی سی ہو کے بنا پنکھ اڑنے لگتی ۔۔۔ سفید فاختاٶں سی ۔۔۔۔۔کالی آنکھوں والی ۔۔۔سکینہ مجید۔

افسانہ ۔۔۔ : کنول کا پھول
ازقلم : ارشد ابرار #ارش
عکس کاری گری : بنت نذیر

Post a Comment

0 Comments