Urdu مکالمہ by شمائلہ نورین


مکالمہ

کسی کی  تحریر پے کیا گیا اسکا
 کوممینٹ اسکی نظروں سے نظروں سے گزرا تو وہ رک سا گیا جیسے کسی نے دکھتی رگ پے ہاتھ رکھ دیا ہو وہ کوممینٹ یہ تھا

"نفس کو قتل کردو تو انسان کسی دوسرے کے لئے تڑپتا نہیں نا ھی اظہار محبت نا اظہار نفرت کر سکتا ھے بس چلا جاتا ھے  سیدھے رستے پے بیشک نفس کا قتل بہت مشکل امر ھے اور خود سے جڑنا اس سے بھی مشکل لیکن جب انسان مضبوط سہا رے چھوڑ کے خود مضبوط بن جا ے تو نفسانی خواہشات کو قتل کرنا مشکل نہیں آسان ہو جاتا ھے ۔بس یہی ترکیب آزمالو کبھی گرو گے نہیں دوسروں کے آگے

خدا سے ڈرنے سے کیا مراد ہے ؟
اس نے پھر سوال کیا
اب کی بار وہ سوچ رہی تھی کہ کیسے مطمئن کیا جائے کیا جواب دوں اور اسنے دوبارہ اسے خدا کی محبت کی مثال ایک استاد اور شاگرد کے رشتے سے دی

"مطلب یہ کے دوزخ کا خوف کے خدا آگ میں پھنکے گا خدا سے متنفر ہو جانا کے وہ سزا دے گا محبت میں انسان خود بخود اللہ کی مرضی سے کام کرتا اور یہ محبت بھی نصیب والوں کو ملتی ہے جس میں خوشی خوشی رب کو قبول کیا جاتا ہے بلکل اسے جیسے ایک بچے کو استاد سے ڈرا کے اسکول بھیجھا جائے زبردستی کے ٹیچر ما رے گا یا تم فیل ہو جاؤ گے امتحان میں دوسرا وہ بچہ جو شوق سے اسکول جاتا ہے اور شوق سے علم حاصل کرتا ہے اور استاد کی محبت کا مرکز بن جاتا ہے یہاں بچہ نہیں چا ہ رہا کے اس سے استاد محبت کرے لیکن خود بخود محبت اسکے گرد جمع ہے بلکل ایسے ھی انسان حیے جب تک شوق سے خدا تک پہنچنے کا ارادہ محبت سے نا کرے خدا کی محبت اسکے گرد جمع نہیں ہو سکتی اور یہ شوق بھی اسی کو حاصل ہوتا ہے جو خدا کو پانا چا ہتا ہے زبردستی کے سودے نہیں محبت اور وہ بھی خدا کی محبت،،
ہمممم اب بھی روح کی تسکین گویا نا ہوئی ہو جیسے اس نے سوال ادھورا چھوڑ دیا
اسنے اسکی سوچ کو بھانپتے ہویے ایک اور مثال دی کہ شاید اس کو روح کا سکون مہیا ہو اور اسکی دوستی خدا قبول کر لے

" جب خدا سے قربت بڑھ جاتی ہے تو آپ لوگوں سے نہیں بلکہ لوگ آپ سے جڑنے کو ترستے ہیں اور آپ خود بےنیاز ہو چکے ہوتے ہیں دنیا کی محبت سے لوگوں کی محبت سے لیکن تب وہ سب آپ کے آگے جھکا ہوتا ہے جسکے لئے کبھی آپ ترستے تھے اسی رنگ میں نہیں بلکہ اس سے بھی خوبصورت کر کہ پیش کیا جاتا ہے آپ کے لئے اور جنت کے کسی میٹھے پھل کی طرح آپ اسکی خوشبو سونگ کہ ھی نعمت کی جو دی گئی کہتے ہیں اور سوچتے ہیں اس سے ملتا جلتا تو پہلے بھی چکھ چکا ہوں اور اس احساس سے ھی پیٹ بھر جاتا ہے چکھنے سے پہلے ھی پھر وہ کوئی میٹھا رشتہ محبت ہو یہ کوئی اور تحفہ سب آپ کے قدموں میں ہوتا ہے اور آپ خدا کے رنگ میں رنگ کے بےنیاز ہو جاتے ہو بیشک اللہ بےنیاز ہے انسان نہیں لیکن جب انسان بےنیاز ھو جائے تو سمجھ لو وہ خدا کے رنگ میں رنگ گیا قرب  کو پا گیا اب خود سوچیں جو خدا کے قرب کو پا گیا وہ کیا ترسے گا محبت کے لیۓ جو خود محبت ھو وہ کیا مانگے گا لوگوں کی محبت یہی نفس کا قتل ہے،،

اب مکالمہ تقریبن ختم ہو چکا تھا وہ نہیں جانتی کے اسکا اور خدا کا کیا معاملہ لیکن اپنی طرف سے جتنا تجربہ اسے تھا وہ اتنا علم بانٹ چکی تھی
شمائلہ نورین


Post a Comment

0 Comments