Dark Evening - اندھیری شام





اندھیری شام
وہ سٹور روم کے کونے  میں بیٹھی خاموش آنسو بہا رہی تھی۔جس عمر میں بچے اللہ سے اپنے لئیے کھلونوں نئے کپڑوں اور مختلف خواہشوں کی دعا کرتے ہیں۔ گیارہ سالہ نور اس عمر میں اللہ سے ہمت مانگ رہی تھی ۔وہ سب کہنے کی جو اس پہ بیتی تھی۔

وہ اپنی ماں کو بتانا چاہتی تھی دو دن سے یہ بوجھ اس ننھے سے سینے پہ لدا تھا۔اب اس سے اور برداشت نہیں ہو رہا تھا وہ تو اپنی  ہر بات،  ہر خوشی، ہر غم اپنی ماں سے بانٹتی تھی۔ پھر یہ تکلیف بتانے کی کیوں اس کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی،وہ اس اندھیرے کمرے کے کونے میں بیٹھی اپنے خدا سے مخاطب تھی وہ اس کو بتا رہی تھی۔۔

"اللہ میاں میرا دل بہت پریشان ہے، میں بہت گندی ہوں نہ اللہ میاں، اللہ میاں احمد بھائی نے ایسا کیوں کیا,وہ تو ہمارے مہمان تھے نہ، وہ تو میرے چاچو کے بیٹے ہیں میرے بھائی ہیں پھر انہوں نے مجھے ایسے کیوں چھوا، کیوں میرا لاکٹ دیکھتے دیکھتے ان کا ہاتھ میری فراک کے اندر چلا گیا،کیوں وہ میرے جسم کو عجیب طرح دباتے مروڑتے رہے،اللہ تعالیٰ مجھے بہت درد ہوا میں بہت روئی بھی لیکن انھوں نے مجھے ڈرایا اور کہا کہ: "اگر کسی کو بتایا تو تایا سے تمہاری شکایت کروں گا کہ تم نے مجھ سے بدتمیزی کی ہے۔"


"اللہ تعالیٰ آپ کو تو پتہ ہے احمد بھائی تو سب کے فیورٹ ہیں٫خاص طور پر ابو کے وہ ابو کو میری شکایت لگائیں گے تو ابو فورا یقین کر لیں گے- مجھ سے خفا ہو جائیں گے مجھے ماریں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو تو پتہ ہے میں تو ان سب کے ساتھ کھیلنے گئی تھی چھت پہ اور جیسے ہی اندھیرا چھایا میں نیچے جا رہی تھی کے احمد بھائی۔۔۔۔۔۔۔"


اور وہ ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کے رو پڑی کہ یہ سب وہ اپنی ماں کو کیسے بتائے گی اس کی بات کون مانے گا۔احمد بھائی تو سب کے فیورٹ ہیں وہ تو کچھ غلط کر ہی نہیں سکتے لیکن غلط تو اس نے بھی کچھ نہیں کیا تھا۔اس کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا اس کا درد محض اس کے جسم کو نہیں اس کی روح تک کو ہوا تھا۔

یہ واقعہ اس کی یاداشت پہ جیسے ثبت ہو کر رہ گیا تھا۔وہ ہنستی کھیلتی نور جیسے خاموش ہو گئی تھی۔وہ نور جو کبھی اپنی جماعت میں نمایاں پوزیشن لیتی تھی اب بمشکل پاس ہوتی ہے۔کیونکہ اس کے دل دماغ میں تو بس  اذیت اور بے بسی کے وہ لمحے ہوتے تھے جب وہ اور احمد بھائی چھت پہ۔۔۔۔۔

اس نے اس دن کے بعد سے اپنا وہ پسندیدہ لاکٹ جسے اس نے کبھی ایک لمحے کو بھی نہیں اتارا تھا اسے اپنے گلے سے ایسے اتار پھینکا جیسے سارا قصور اسی لاکٹ کا ہی ہو۔

وہ اپنی ماں کو کچھ نہ بتا سکی تھی ۔یہ بوجھ اس کے سینے پر ہر روز وزنی ہوتا جاتا تھا کیونکہ اس کے احمد بھائی نے اس نازک کلی کے جسم سے اس کھیل کو معمول بنا لیا تھا۔

 اب جب بھی وہ اپنے تایا کے گھر جاتا تو اپنے سب بہن بھائیوں اور کزنوں کو لے کر ہمیشہ چھت پہ ضرور جاتا اور پھر کسی بہانے سے اس کا ہاتھ نور کے کپڑوں سے ہوتے اس کے سینے تک پہنچ جاتا اور اذیت کا وہ سلسلہ ایک نئی تکلیف سے شروع ہو جاتا۔اور یہ تڑوڑ  مروڑ محض جسم تک نہیں تھی ذلت کا یہ احساس اس کی روح تک مجروح کر دیتا تھا۔ اور وہ اذیت اور حقارت کے احساس کے ساتھ وہاں کھڑی خاموش آنسو بہاتی رہتی۔

اور پھر جیسی ہی شام زیادہ  اندھیری ہونے لگتی وہ نور کے کندھے پہ ہاتھ رکھے ایسی بے باکی سے سب کے ساتھ آ بیٹھتا کہ نور خود اس کی بے خوفی سے خوف زدہ ہو جاتی۔

اندھیری شام کا یہ کھیل پتہ نہیں روز ہمارے کتنے بچوں کے ساتھ کھیلا جاتا ہے اور وہ اپنے خوف اور ان درندوں کی بےخوفی کی وجہ سے ہمیں کبھی کچھ نہیں بتا سکتے۔ 

خدارا اپنے بچوں کی زندگیاں اندھیری ہونے سے بچائیں۔ان پر اعتماد کریں،ان سے دوستی کریں،ان کی بات سنیں اور اپنی اولاد کے معاملے میں کسی بھی رشتے پہ اس قدر اندھا اعتماد نہ کریں۔اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ کوئی بھی اور شخص کوئی بھی اور رشتہ آپ کی اولاد کو اپنی اولاد نہیں سمجھتا۔

1 comment