Pain - درد محض جسم کی تھکاوٹ،



درد
درد محض جسم کی تھکاوٹ،جلد کے زخموں اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کے بعد کے احساس کا نام تو نہیں۔۔۔


درد تو وہ بھی ہے کہ جب پبلک ٹرانسپورٹ پہ سفر کرتے ہوئے کرایہ پکڑایا جائے اور کنڈکٹر کرائے کے ساتھ ساتھ آپ کا ہاتھ بھی پکڑ لے تو پھر آپ کو اپنا وہ ہاتھ سارا راستہ دکھتا اور جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

درد تب بھی ہوتا ہے جب ویگن کی پچھلی سیٹ سے اترتی مرد سواریاں آپ کی کمر کو جانے کس نیت سے چھوتی ہیں کہ آپ کا بدن جھلس کہ رہ جاتا ہے اور سارا راستہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے آپ کی کمر میں کوئی کیل ٹھوک  دی ہو۔۔۔۔۔۔

یقین جانیے سر پھٹتا ہے اس درد سے جو پبلک ٹرانسپورٹ کے سٹاپ پہ کھڑے  ان نظروں سے مقابلہ کرتے ہوئے ہوتا ہے جو نقاب میں ہونے کے باوجود یہ احساس دلا رہی ہوتی ہیں جیسے آپ برہنہ کھڑے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

درد ہوتا ہے جب کسی بازار میں بھیڑ سے گزرتا کوئی شخص آپ کی پیٹھ کو ایسے چھو کے گزر جاتا ہے جیسے کسی تلوار کا کوئی وار۔ اور پھر آپ اس لمحے کو کوستے ہیں جب آپ گھر سے بازار کے لئیے نکلے تھے اور بازار کی تمام رونقیں بھول کر اس اذیت اور حقارت کو سوچتے ہیں جس میں وہ غلیظ لمس آپ کو بے بس چھوڑ دیتا ہے۔اور بےبسی کا عالم یہ ہوتا ہے کہ آپ کچھ کر بھی نہیں سکتے
کہ اس بھیڑ میں اب کس کا گریبان پکڑیں۔۔۔۔۔۔


اور یقین جانیے کان بھی دکھ جاتے ہیں جب کہیں کسی سٹاپ یا لائن میں کھڑے انتظار کرتے ہوئے آپ کے جسم یا شخصیت پہ ایسے شرمناک جملے کسے جاتے ہیں کہ شاید آپ خود بھی کبھی ان کو نہیں دہرا سکتے۔۔۔۔۔۔۔

جی ہاں یہ تمام کیفیات درد ہی کہلاتی ہیں۔وہ ان کہے درد جو صرف سہے جاتے ہیں اور جن کا بانٹنا ہمارے معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔
Writer
Kausar Aroob Malik

Post a Comment

0 Comments