Stop Child Abuse - وہ خاموش تھی بلکل خاموش جیسے لفظ کہیں کھو گئے ہوں



وہ خاموش تھی بلکل خاموش جیسے لفظ کہیں کھو گئے ہوں،جیسے ہر منظر دھندلا گیا ہو جیسے سماعتوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہو۔وہ شاید اپنی ہی چیخوں سے بہری ہو گئی تھی۔شاید اس کے آنسوؤں نے اسے اندھا کر دیا تھا۔اس کو یاد تھا تو بس وہ منظر وہ درندگی جب اس کو اس کے استاد جو کہ اس کا نگہبان ہونا چاہئے تھا اور جسے شاید وہ اپنا محافظ ہی مانتی تھی۔اس کے پاس جب وہ اپنے ان چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں سپارہ لے کر گئی تو اس نے وہ پڑھانے کی بجائے اسے سائیڈ پہ پڑی میز پر رکھا اور اسے بازو سے پکڑ کر اندر کمرے میں لے گیا۔وہ ننھی پری پوچھتی رہ گئی کے قاری صاحب آج سبق نہیں پڑھنا،قاری صاحب آج جلدی پڑھا دیں میرے گھر مہمان آئیں ہیں میں نے کھیلنے جانا ہے، قاری صاحب۔۔۔۔۔

لیکن اس کی ایک نہ سنی گئی وہ منتیں کرتی رہی آخر وہ رو پڑی اسے روتا دیکھ کر اس درندے نے اس کے منہ پہ ہا تھ رکھا اور دہاڑتے ہوئے ننھی پری کو خاموش رہنے کو کہا اور دروازے کو کنڈی لگا دی۔کنڈی لگاتے ہوئے وہ یہ بھول گیا کہ یہ کنڈی اسے شاید لوگوں کی نظروں سے تو بچا لے گی لیکن وہ جو اوپر بیٹھا ہے وہ کنڈیوں،دروازوں کے پیچھے کی ہر ایک حقیقت سے واقف ہے۔

ننھی پری اس درندے کی دھاڑ سے  وہیں سہم گئی۔ اس میں ہلنے جلنے کی سکت ختم ہو گئی۔اس کو شاید سمجھ آ گئی تھی کہ وہ جس شخص کو اپنے باپ جیسا محترم،شفیق سمجھتی تھی وہ تو محض ایک بھیڑیا تھا جو گھات لگا کے بیٹھا تھا۔

ننھی پری کی خاموشی کے بعد وہ درندہ مکروہ ہنسی ہنستا اس کے قریب آیا۔اس کے پھولوں جیسے بدن کو ان ہوس بھری نظروں سے دیکھا کہ شیطان بھی شرما جائے۔

اس درندے کو اس پری کے ڈھکے ہوئے سر نے بھی نہ جھنجھوڑا اس کو اپنی اس داڑھی کا بھی لحاظ نہ رہا کہ جس کے زور پہ وہ اس رحمان کے  دین کا ٹھیکیدار بنا پھرتا ہے جو اب بھی اسے دیکھ رہا۔اس کی ہوس نے اس کا ہر خوف ہر لحاظ مٹا دیا تھا۔وہ محض ایک درندہ بن چکا تھا جسے اپنی بھوک اپنی ہوس مٹانی تھی اور اس کے لئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار تھا کچھ بھی۔

وہ درندہ اس ننھی پری کے بلکل قریب چلا گیا یہاں تک کے خوف کے مارے اس کی ٹوٹتی چلتی سانسوں کی آواز بھی اس کو سنائی دینے لگی اور ننھی پری کا خوف اسے بے خوف کرتا رہا اور اسکی ہوس۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس پھول بدن کو ایسے مسلنے لگا جیسے ابھی نوچ کھائے گا۔وہ سسکتی رہی منتیں کرتی رہی قاری صاحب آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔ قاری صاحب میں نے گھر جانا ہے مہمان آ گئے ہوں گے۔۔۔۔۔۔ لیکن وہ درندہ اپنی ہوس میں بلکل اندھا بہرا ہو چکا تھا۔

پھر آ خر درندگی نے اپنی حدوں کو چھوا ننھی پری کے کپڑے پھاڑ دیئے گئے،شرم و حیا اور ستر پوشی کے سب تقاضے بھول کے اس درندے نے محض اپنی ہوس پوری کی ایسے جیسے شاید سالوں بھوکا کتا بھی ہڈی ملنے پر بھی ایسے نہ کرتا۔شاید انسانوں کے علاوہ ایسی درندگی کوئی کر ہی نہیں سکتا۔اس گل بدن کو ایسا نوچا کہ ننھی پری کی روح تک زخمی ہو گئی اس ہوس تلے دبے اس کی چیخیں اس کے حلق میں پھنسی رہ گئیں۔اور  اس ہوس اور درندگی نے ننھی پری کے ہوش و حواس چھین لیے وہ بے ہوش ہو گئی اس کی سانسیں رکنے لگیں۔

اچانک دروازے پر دستک ہوئی پھر آواز سنائی دی "قاری صاحب آپی نے قرآن پڑھ لیا" یہ ننھی پری کے بھائی کی آواز تھی جو شاید معمول سے تاخیر کی وجہ سے خود ننھی پری کو مدرسے سے لینے آ گیا تھا۔جب وہ مدرسے میں داخل ہوا تو مدرسہ بلکل خالی تھا،پہلے تو وہ پریشان ہوا کہ میری بہن کہاں چلی گئی لیکن پھر اس نے قاری صاحب کے کمرے کی روشنی جلتی دیکھی تو ان کے کمرے کی طرف چل دیا دستک دی بہن کے بارے میں پوچھا پر کوئی جواب نہیں۔ وہ مسلسل دستک دیتا رہا پر اس کو کیا پتا تھا کہ اس دستک کا جواب اس کو نہیں ملے گا۔

وہ پریشان ہو کر گھر واپس لوٹ گیا اور گھر والوں کو سارا واقع بتایا۔اس کا باپ یہ سن کر بہت پریشان ہوا اور بیٹے کو لے کر مدرسے کا رخ کیا۔راستے میں وہ یہی سوچتا جا رہا تھا کہ قاری صاحب تو خاصے ذمہ دار اور قابل اعتبار انسان ہیں انھوں نے پری کو اندھیرے کی وجہ سے شاید اکیلے جانے سے روک دیا ہو گا۔

وہاں اس درندے کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اب یہاں رہے گا تو ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔سو وہ اٹھا اس نے اپنے ستر کو ڈھانپا کہ اگر دنیا نے اس کو ایسے دیکھ لیا تو کیا جواز دے گا مذہب کے اس ملمعے کا جس کو سالوں خود پہ چڑھا کہ اس نے اپنے اندر کے شیطان کی ہر خواہش پوری کی ہے۔سو اس نے جلدی سے کپڑے پہنے اور پچھلے دروازے سے بھاگ گیا۔

جب تک ننھی پری کا باپ مدرسے پہنچا وہ درندہ بھاگ چکا تھا۔اس نے بہت دستکیں دیں لیکن کوئی جواب نہ ملا
آخر پریشانی کے عالم میں ننھی  پری کے باپ نے وہ دروازہ توڑا اور اس کے بعد جو منظر اسکی آنکھوں نے دیکھا وہ کسی قیامت سے کم نہ تھا ۔اس نے ایک نظر اپنی ننھی پری پر ڈالی اور دوسری ساتھ کھڑے اپنے کمسن بیٹے پر اور فورا ہی پری کے بدن کو پاس پڑی چادر سے ڈھانپ دیا اور بیٹے کو گھر جانے کو کہا۔ اور خود ننھی پری  کو اٹھا کے اسپتال کی طرف بھاگا۔یہ سب دیکھنے کے بعد اس کا ماؤف دماغ اس سے ایک ہی سوال کر رہا تھا کہ قاری صاحب تو بہت اچھے انسان تھے ان کی تو اپنی ایک بیٹی ہے وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

 وہ ننھی پری کو لے کر قریبی اسپتال پہنچے وہاں اس کو ہنگامی وارڈ میں داخل کیا گیا اور اس کے والد کو بتایا گیا کہ ننھی پری کی جان کو خطرہ ہے اور اگر تھوڑی سی بھی اور دیر ہو جاتی تو یہ ننھی سی جان اس درندگی کا بوجھ نہ برداشت کر پاتی اور مر جاتی۔

ننھی پری کو انتہائی نگہداشت یونٹ منتقل کر دیا گیا۔دو دن کی سر توڑ کوششوں کے بعد ننھی پری کو ہوش میں لایا گیا۔لیکن ہوش میں آنے کے بعد بھی ننھی پری ابھی تک سکتے کا شکار تھی۔اتنی درندگی نے اس کی ہر حس بیکار کر دی تھی۔ننھی پری بلکل خاموش ہو گئی تھی ایسے جیسے وہ درندہ اس کے بچپن کے ساتھ ساتھ اس کے لفظ بھی چھین کر لے گیا ہو۔سب اس سے سوال  پوچھ رہے تھے کہ کیا ہوا؟کس نے کیا؟کیسے ہوا؟ لیکن ننھی پری کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Writer

Kausar Aroob Malik

Post a Comment

0 Comments