Urdu Quotes - Islamic Quotes in Urdu - Golden Words in Urdu


best quotes in urdu, beautiful quotes in urdu, life quotes in urdu, motivational quotes in urdu, golden words in urdu, quotations in urdu, nice quotes in urdu





بندگی کا اظہار صرف اسی طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالی کے حکموں کی مکمل اطاعت اور اس کی منع کردہ اشیاء سے مکمل اجتناب کیا جائے، نیز اس کے احکامِ عالیہ کو خواہشات و شہواتِ نفسانیہ پر مقدم کرتے ہوئے اس کے حضور خاکساری اور انتہائی تواضح کی جائے..


اللہ کی رحمت سے اللہ کے بندوں کو مایوس مت کرو ہوسکتا ہے وہ تم سے پہلے بخش دئیے جائیں جو تمہاری نظر میں بہت زیادہ گناہ گار ہوں !!!


گھائل روح ہمیشہ سے جانتی ہے کہ اس کے رِستے زخموں کا مرہم کیا ہے... مسئلہ صرف دماغ کو منانے کا ہے، دل اور دماغ کی یہ ازلی جنگ ہم مجبور، کمزور اور بے بس انسانوں کو سدا دو حصوں میں تقسیم رکھتی ہے!

اورنگ زیب عالمگیر بڑا مشہور مغل شہنشاہ گزرا ہے اس نے ہندوستان پر تقریباً 50 سال حکومت کی تھی۔
ایک دفعہ ایک ایرانی شہزادہ اورنگ زیب عالمگیر ملنے کے لئے آیا۔بادشاہ نے اسے رات کو سلانے کا بندوبست اس کمرے میں کرایا جو اس کی اپنی خوابگاہ سے منسلک تھا۔ ان دونوں کمروں کے باہر بادشاہ کا ایک بہت مقرب حبشی خدمت گزار ڈیوٹی پر تھا. اس کا نام محمد حسن تھا. اور بادشاہ اسے ہمیشہ محمد حسن ہی کہا کرتا تھا. اس رات نصف شب کے بعد بادشاہ نے آواز دی’’حسن! ‘‘. نوکر نے لبیک کہا اور ایک لوٹا پانی سے بھرکر بادشاہ کے پاس رکھا اور خود واپس باہر آگیا. ایرانی شہزادہ بادشاہ کی آواز سن کر بیدار ہوگیا تھا اور اس نے نوکر کو پانی کا لوٹا لیے ہوئے بادشاہ کے کمرے میں جاتے دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ نوکر لوٹا اندر رکھ کر باہر واپس آگیا ہے. اسے کچھ فکر لاحق ہوگئی کہ بادشاہ نے تو نوکر کو آواز دی تھی اور نوکر پانی کا لوٹا اس کے پاس رکھ کر واپس چلا گیا ہے. یہ کیا بات ہے؟ صبح ہوئی شہزادے نے محمد حسن سے پوچھا کہ رات والا کیا معاملہ ہے؟ مجھے تو خطرہ تھا کہ بادشاہ دن نکلنے پر تمہیں قتل کرادے گا کیونکہ تم نے بادشاہ کے کسی حکم کا انتظار کرنے کی بجائے لوٹا پانی سے بھر کر رکھ دیا اور خود چلے گئے.
نوکر نے کہا:
’’عالی جاہ !ہمارے بادشاہ حضوراکرمۖ کا اسم گرامی بغیر وضو نہیں لیتے. جب انہوں نے مجھے حسن کہہ کر پکارا تو میں سمجھ گیا کہ ان کا وضو نہیں ہے ورنہ یہ مجھے ‘‘محمد حسن’’ کہہ کر پکارتے اس لیے میں نے پانی کا لوٹا رکھ دیا تاکہ وہ وضو کر لیں..!!


اللّٰہ سے قطرہ قطرہ مت مانگو، سمندر مانگو پورا، کیونکہ وہ "اختیارِ کُن" رکھتا ہے، اور اِس بڑھ کر اُس ذات کی شان کیا ہوگی کہ وہ کُن کہتا ہے اور سب ہوجاتا ہے 🌸♥️



امر جیسے میں کمرے میں داخل ہونے لگا اسے اپنے پاپا کی آواز سنائ دی جیسے وہ رو رہے ہیں ۔ وہ ایک دم دروازے پہ رک گیا ۔
پاپا ماما کو کہہ رہے تھےکہ میرا دل بہت دکھتا ہے میں نے اپنی اولاد کی خاطر کیا کچھ نہیں کیا ۔ میں ایک فیکٹری میں کلرک ہوں لیکن کبھی اپنے بچوں کی تربیت میں اور ان کی پرورش میں کوئ کمی نہیں چھوڑی ۔ ان کی تمام خواہشات پوری کیں ۔ مجھے یاد نہیں جب سے آمنہ پیدا ہوئ تو میں نے تب سے آج تک باہر کا کھانا نہیں کھایا ۔ میرے جوتے ٹوٹ جاتے ہیں میں ان کو موچی سے سلوا لیتا ہوں لیکن کبھی اپنے بچوں کو ٹوٹے ہوئے جوتے نہیں پہننے دیئے ۔ جب آمنہ کی شادی کی تو تمہیں پتہ ہے میں نے دولاکھ کا فیکٹری سے قرض لیا جس کو اتارنے میں چار سال لگے ۔
پھر حاشر کی یونیورسٹی کی فیسیں بھرتا رہا اس کی تعلیم کے لیئے قرض اٹھاتا رہا ۔ اس کو ایک لڑکی پسند آگئ وہیں یونیورسٹی میں ۔ جب میں نے پتا کروایا تو پتا چلا وہ اچھے خاندان کی ہے لیکن ان کا سٹنڈرڈ ہم سے بہت ہائ ہے ۔ میں جا کر ان سے ملا اور ان کو سب بات بتائ تو انہوں نے مجھ کو کہا کہ اپنے بچے کو سنبھالو ورنہ کچھ برا ہوگیا تو خود ذمہ دار ہوگا ۔ میں نے دنیا دیکھی ہے ۔ جب حاشر کو سمجھایا تو وہ کہنے لگا کہ ابو جی آپ نے آج تک میرے لیئے کیا کیا ہے ۔؟ اور کہنے لگا ٹھیک ہے آپ ساتھ نا دو میں خود کرلوں گا ۔ وہ توالله کا شکر ہے کے اس لڑکی کے باپ کو خبر ہوگئ اور اس نے لڑکی کی شادی کہیں اور کردی ورنہ اب تک میں اور تم سب جیل میں ہوتے کیونکہ امیر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ مڈل کلاس لوگ اپنے بچوں کو یہی سکھاتے ہیں کہ ایک اچھے گھر کے لڑکے یا لڑکی کو پھنسائو اور اس سے شادی کرکے اپنی زندگی سنوار لو ۔ میرا بیٹا سب کا ذمہ دار مجھکو سمجھتا ہے ۔ سوچا تھا کہ وہ کمانے لگ جائے گا تو گھر کے حالات اچھے ہوجائیں گے لیکن وہ مجھے اپنا دشمن سمجھتا ہے ۔
اور اب امر کی بھی BSc ہوگئ ہے اس کا بھی داخلہ بھی کسی پوسٹ گریجویٹ کالج میں کروانا ہے ۔ سوچ رہا ہوں جو قربانی کے پیسے ہیں ان سے اسکا داخلہ کروا دوں ۔ کیونکہ پہلے والا ابھی قرض اتارنا ہے ۔
میری عمر 54 سال ہوگئ ہے ۔ جب بیٹوں کی ضرورت باپ کو پڑتی ہے تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں ۔ کچھ کہہ دو تو سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ بس ایک ہی خواہش ہے کہ میرے بیٹے مجھ سے آکر پوچھیں ابا جی آپ کو کوئ تکلیف ، پریشانی اور کوئ مسئلہ تو نہیں ہے ؟ یا آپ نے کسی کا قرض تو نہیں دینا ؟ یا کبھی میرے پاس بیٹھ کر کچھ حال چال ہی پوچھ لیں ۔ ان کو میں بس جب یاد آتا ہوں جب ان کو پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اب بس میری امید امر ہے ۔ وہ حاشر جیسا نہیں ہے ۔ وہ مجھے سمجھ سکتا ہے .
امر چپ چاپ سن رہا تھا کب اس کی آنکھوں سے آنسو سےبہہ کر نیچے گر رہے تھے اس کو پتا نا چلا اور وہ دل ہی دل میں کہہ رہا تھا ۔ ہاں پاپا میں آپ کا سہارا بنوں گا ۔
بتانے کا مقصد یہ ہے جس دن ہم اپنے والدین کو کہتے ہیں نا آپ نے ہمارے لیئے کیا کیا ؟ اس دن ہمارے والدین جیتے جی مر جاتے ہیں ۔ ان کا سہارا بنیئے ۔ اور ہوسکے تو اپنی پاکٹ سے ان کو ایک جوڑی جوتے لا کر دیں کیونکہ ان کے جوتے کب سے ٹوٹ چکے ہیں ۔ آج ان کا سہارا بن جائیں دیکھنا وہ ایک دم بوڑھے سے جوان ہوجائیں گے ۔♥️



بعض اوقات آپ کا وہ رب،وہ پاک ذات، وہ اپنے وعدوں کو پورا کر دکھانے والا الله کریم. آپ کے اندر یہ احساس ضرور پیدا کر دیتا ہے کہ اس کہ "اس کہ ہاں دیر ضرور ہے پر اندھیر نہیں.."
وہ دعاؤں کو سنتا بھی ہے اور قبول بھی فرماتا ہے.. بس تم اپنا یقین اور ایمان تو گہرا رکھو..
وہ آپ کی تب دعا بھی قبول فرمائے گا جب آپ خود اپنی کی ہوئی دعا کو بھول بیٹھے ہونگے.. لیکن وہ الله کریم ہے اپنے وعدوں کو ضرور پورا کرتا ہے وہ بھولتا نہیں.. ❤



ﺧُﺪﺍ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﺟﺒﮑﮧ ﮨﻢ ﺍﻥ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﻗﺎﺻﺮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﺲ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﺎﺅ، ﺩﻝ ﮐﻮ ﺭﻻﺅ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﮩﺎﺅ , ﺩﯾﮑﮭﺘﮯﺟﺎﺅ ..



یہ جو زندگی تم نے چنی ہے ناں, اس میں تم کسی نہ کسی انداز میں یقیناً پیاروں سے دور ہو جاؤ گے*
پانچ سال پہلے تم نے مجھ سے یہ کہا تھا.
اور آج پانچ سال بعد مجھے سمجھ آئی ہے کہ تمہاری بات کس قدر درست ہے. اور دیکھو کہ اس راه کو اختیار کرنے پر میں نے تم کو بھی کھو دیا.
میں نے وه سب لوگ کھو دیے جو کبھی میری زندگی تھے. لیکن دیکھو کہ الله کے کرم سے ٹھیک ہوں, زنده بھی ہوں.
پتا ہے, اب مجھے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا کون ساتھ رہتا ہے اور کون بیچ راه میں چھوڑ جاتا ہے.
جیسے مجھے الوداع کہنے کی عادت سی ہی ہو گئی ہے. جیسے میرا دل اب کسی کو رخصت کرنے پر سن سا ہی رہتا ہو. ایسے جیسے میرا زہن ہر آنے والے کے جانے کا پہلے سے ہی یقین کر کے بیٹھا ہو.
ہاں یہ سچ ہے کہ میں نے ان تک کو کھو دیا جو میرے پوری کائنات تھے, لیکن اس پورے عرصے میں میں نے ایسے لوگ بھی پائے ہیں جو مجھے میری روح کے گمشده حصے معلوم ہوتے ہیں, جنکا مجھے کبھی یقین نہ تھا کہ مل سکیں گے.
یہ وه ہیرے ہیں, کہ جب ان میں سے ایک کو بھی ملوں تو زندگی سی محسوس ہوتی ہے. جیسے میری اندھیر نگری میں بکھرے ستارے ہوں جو اگلا قدم اٹھانے میں مدد دیتے ہوں.
پر مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ لوگ بھی میری زندگی کو کچھ عرصہ روشن کرنے کے لیے ہیں, پھر یہ بھی چل دیں گے.
جب محرومی آپکی زندگی کا باقاعده حصہ ہی بن جائے تو آپ کو اله کی خاطر ہر شے چھوڑ دینے کا ہنر آ جاتا ہے. شاید میں بھی یہی سیکھنے میں ہوں. یا شاید سیکھ لیا ہے.
اس راه نے مجھے ہر وه چیز قربان کرنے پر مجبور کیا جو میرے لیے بے حد قیمتی تھی. لیکن اب اگر مجھے یہ آپشن دی جائے کہ وه سب اس راه کے بدلے واپس لے لوں, تو میں خوشی سے اس راه کا ہی انتخاب کروں,نہ کہ ان کھوئی ہوئی چیزوں کا.کیونکہ کہ اب حق کی اس راه سے بڑھ کر کچھ بھی پیارا نہیں مجھے. کیونکہ یہی وه رستہ ہے جو مجھے ان باغات تک لے کر جائے گا جہاں میرا محبت کرنے والا رب ہو گا. جو مجھ سے راضی ہو گا اور میں اس سے.
تو کوئی بےوقوف ہی ہو گا جو ہمت ہار کر یہ راستہ چھوڑ جائے.

تو اگر تم نے مجھے چھوڑ کر جانا ہے تو شوق سے جاؤ. کیونکہ اب لوگوں کے چھوڑ کر چلے جانے کی عادت سی ہو گئی ہے.
سو جانا ہے تو چلے جاؤ کیونکہ اب مجھے تمہارے ساتھ کوئی اور راه نہیں چلنی. میں نے اس رستے کی خاطر تم سے بھی زیاده قیمتی لوگ کھوئے ہیں. سو جانا ہے تو جاؤ. کیونکہ اب میرے ساتھ صرف وہی چلے گا جو مجھے ایسے ہی قبول کرے. ورنہ مجھے بھی وه ساتھ قبول نہیں.

اب میرے ساتھ میرا رب ہے اور وه میری رہنمائی ضرور کرتا رہے گا اور مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا.*


کبھی تھکنے لگیں... ٹوٹنے لگیں...مزید چلنا مشکل ہو جائے... نڈھال ہو جائیں تو کیا کریں؟
اوپر دیکھیں.. مسکرائیں... اور کہیں اس سے تیری محبت مل جائے گی نا؟
تو چل رہی ہوں... گر رہی ہوں...مگر چل رہی ہوں.
اگر تیری رضا میرے ٹوٹ جانے میں ہے تو ٹوٹنا اعزاز..!!
بس اتنا کہنے کی دیر ہوگی آپکا دل سنبھل جائے گا... وہی بڑا سا پہاڑ اب محض ایک چھوٹی سی پتھریلی رکاوٹ دکھنے لگے گا... جسکو توکل کے قدم اکھاڑتے چلے جائیں گے.❤



کبھی کبھی انسان کے آنسو ہی اُس کے الفاظ بن جاتے ہیں، اور یہ وہ الفاظ ہوتے ہیں کہ ان کے لیے کسی تمہید کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔
اور سب سے بڑی بات۔
ان الفاظ کا سب سے بڑا قدر دان اللّٰہ ربّ العزت ہے۔💝


ہر انسان عزت چاہتا ہے۔ ۔ ۔ دعا میں بھی لوگوں کی محتاجی سے بچنا مانگتا ہے رائٹ؟ وہ یہی سوچتا رہتا ہے کہ دونوں جہان میں کوئی شرمندگی نہ ہو۔
لیکن! ایک لمحہ ذرا ٹھہر کر سوچیئے گا خود اسی انسان سے کتنوں کی عزت محفوظ ہوتی ہے؟ ہم دن میں کتنے ہی لوگوں سے سختی سے پیش آتے ہیں برا بھلا کہتے ہیں۔ ۔ ۔ اللہ کی مخلوق کی برائی اور غیبت کرتے ہیں۔ تو کیا رسوائیاں اور ذلت بانٹنے والا شخص عزت پا سکے گا؟
مولانا رومی فرماتے ہیں۔ ۔ ۔ "کل میں چالاک تھا لوگوں کو بدلنا چاہ رہا تھا۔ ۔ ۔ لیکن آج میں عقلمند ہوں خود کو تبدیل کر رہا ہوں"



گناہوں کی عادت انسان کا دل کالا کر دیتی
ہے اسکا ضمیر مردہ ہو چکا ہوتا اب اس پہ
کسی قسم کی کوٸ نصیحت کوٸ لیکچر
اثر نہیں کرتا کیونکہ اس کے دل پہ مہر لگ
چکی ہوتی ہےاس کوبدلنے کے لیۓ خود بدلنا
ہوتاہے اپنے رب کے حضور خود کو پیش کر
کہ معافی مانگ کر بدل سکتا ہے



سکون بس اللہ کی راہ میں کوشش کرنے میں ہے کیونکہ اللہ اپنی راہ میں کی گئی محنت اور کوشش کا ہماری سوچ سے بڑھ کر صلہ دیتا ہے انسانوں کے لئیے اتنا مت بھاگیں کہ ادھ موئے ہو جائیں اللہ کے لئیے دوڑ لگاتے رہی‍ں نئے سے نئے راتے تلاشتے رہی‍ں اور پھر بس انتظار کریں زندگی میں وہ بس آپ کے قدموں میں نچھاور کر دیا جائے گا جس کے لئیے آپ کسی دور میں سعی کرتے رہے لیکن وہ چیز آپ سے اتنا ہی دور جاتی رہی اللہ کو اپنی راہ میں زیادہ سے زیادہ کوشش کرنے والوں سے بے پناہ محبت ہوتی ہے.. یہ وہی راہ ہے کہ جس کی منزل بے حد خوبصورت بھی ہے اور ہمیشگی لئیے ہوئے بھی❤
منقول


ایک دھچکا ضروری ہے!
انسان کو انسان بنانے کے لیے زندگی میں صرف ایک دھچکا چاہیئے ہوتا ہے۔اگر کوئی انسان اس ایک دھچکے کے بعد بھی راہ راست پر نہ آئے تو سمجھ جائیں ایسے لوگوں کو ہدایت بستر مرگ پر آتی ہے۔ایسے لوگ اپنی غلطیوں
سے سیکھتے نہیں ہیں بلکہ محض غلطیاں کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔
اللہ پاک ایسے لوگوں کو چلتے پھرتے ہدایت نہیں دیتے بس انکی رسی ڈھیلی چھوڑ دیتے ہیں۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اتنی سمجھ دیں کہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھیں اور اللہ پاک ہمیں اتنی سمجھ دیں کی ہم غلط اور صحیح میں فرق کر سکیں۔آنے والا سب کے لیے خیریت بھری خوشیاں لے کر آئے۔♥️
آمین یا رب العالمین



محبت کے مسافر!
یہ بتا___کیسا مفر ہے یہ؟
کہ جب طے ہو چکا پہلے
محبت کا سفر ہے یہ!
ہمیں یہاں اپنے آرام کدوں اور گھروں میں روزہ رکھنا مشکل لگتا ہے اور وہاں وہ غزہ کی مسجد تھی، غزہ کی گلیاں تھیں۔ برستی چھتوں کے اوپر آتش و آہن کے سائے تھے۔ جہاں جہاں اس نے قدم رکھے تھے، وہیں موت نے بھی اپنے پنجے جمائے تھے۔ ہم ہوتے تو کہاں نکلتے گھر سے۔ مگر وہ نکلتا تھا۔ اپنی ننھی بیٹی کو گود میں لے کر نکلتا تھا۔ محمد صلی ﷲ علیہ وسلم اور اصحابِ محمد‌ؐ کے راستے بدر و احد سے، خندق و یرموک سے، شعب ابی طالب اور خارِ مغیلاں سے ہو کر گزرے تھے اور ہماری زندگیاں ٹھنڈے کمروں میں ہی گزر گئیں تو ہم ان کے پیرو کیونکر ہوئے؟

مسجد میں وہ تلاوت کرتا۔ مسجد کی دیواروں سے آواز ٹکرا کر آتی تو دگنی چگنی ہو جاتی۔ بیٹی کو گود میں اٹھائے اعتکاف میں دن گزارتا۔ ماہِ صیام اس کے عزائم پہ رشک کرتا۔ زمین اس کے آنسو پونچھتی، فلک اس کے دل کو ڈھارس دیتا۔
اپنا عہدِ جوانی نیلام کردیا اس نے کہ تاجرِ حقیقی نے عمر مانگی ہی یہی تھی۔ ظالم طاغوت سے ٹکر، مالکِ حقیقی سے ناز و نیاز اور قرآن کا سوز و ساز__یہ سلسلہ برسوں چلتا رہا۔ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ نوجوان نے سودائے جاں چکا کر اپنی نذر پوری کردی۔ شہادت کا لہو اس کے لبوں کا غازہ بن گیا۔
اب__
وہی مسجد ہے، وہی محراب__
وہی قالین، وہی دریچے، وہی باب__
دل کے وہی جذبے، آنکھوں کے وہی خواب__
وہ نوجوان اب وہاں نہیں ملتا۔ ہاں! اس کی بیٹی ملتی ہے۔ ننھی گڑیا! جسے بابا نے برسوں گود میں اٹھا کر مقدس راستوں کا راز ترنم کے ساتھ کانوں میں ٹپکایا تھا۔ جذبوں کی وہ حدت، محبت کی وہ لے آج بھی زندہ ہے۔ مسجد کے در و دیوار خالق کی اس بات کے شاہد ہیں کہ شہید زندہ رہتے ہیں۔ ہر رنگ میں، ہر روپ میں تابندہ رہتے ہیں!
یہی روحِ قرارِ بندگی بھی ہے
محبت جب تلک ہے، زندگی بھی ہے!
اندھیروں میں یہی ہے جو
چراغِ رِٙہ جلاتی ہے
شبِ دیجور میں اہلِ حمیت کو
یقیں کی رٙہ چلاتی ہے!
محبت فیصلہ کن ہے
محبت جیت جاتی ہے!

No comments