9 Best Life Quotes in Urdu | Aqwal E Zareen In Urdu

urdu quotes, sad quotes in urdu, love quotes in urdu, best quotes in urdu, beautiful quotes in urdu



بچوں میں سستی اور کاہلی انہیں ڈپریشن کا مریض بناسکتی ہے، تحقیق

 برطانوی ماہرین نے ایک تفصیلی مطالعے کے بعد دریافت کیا ہے کہ جو بچے نوبلوغت کی عمر میں زیادہ وقت بیٹھے رہنے میں گزار دیتے ہیں، جب وہ بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو ان کے ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے آرن کنڈولا اور ان کے ساتھیوں نے برطانیہ کے مختلف اسکولوں میں پڑھنے والے 4200 بچوں کو اس مطالعے کےلیے بطور رضاکار بھرتی کیا جن کی عمریں بالترتیب 12، 14 اور 16 سال تھیں۔

پہلے مرحلے میں حرکت پر نظر رکھنے والے خصوصی آلات کے ذریعے کئی دنوں تک ان کا مشاہدہ کیا گیا، جس کے بعد مختلف سوالناموں کے ذریعے ان میں بیٹھے رہنے کی عادات اور ڈپریشن کے بارے میں معلومات جمع کی گئیں۔ یہ مطالعہ تقریباً سات سال تک جاری رہا۔
مطالعے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ بیٹھے رہنے کے دورانیے میں ہر 60 منٹ اضافے کے ساتھ 12، 14 اور 16 سال عمر والے بچے جب بالغ ہوئے (یعنی 18 سال کی عمر کو پہنچے) تو ان میں ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے امکانات بھی بالترتیب 11، 8 اور 10.5 فیصد زیادہ ہوگئے۔

ڈپریشن کا سب سے زیادہ خطرہ، یعنی 60 فیصد، اُن بچوں میں دیکھا گیا جو سب سے زیادہ سست تھے اور روزانہ 10 گھنٹے تک بیٹھے رہنے کے عادی تھے۔ البتہ، یہ بچے حرکت سے معذور نہیں بلکہ حد سے زیادہ آرام پسند ہیں اور کسی بھی قسم کی جسمانی سرگرمی میں حصہ لینے سے جی چراتے ہیں۔

آرن کا کہنا ہے کہ اس مطالعے کے نتائج اُن والدین کےلیے لمحہ فکریہ ہیں جو اپنے بچوں کو ہر وقت آرام دینا چاہتے ہیں حالانکہ نوبلوغت کی عمر (12 سے 17 سال) بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کےلیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ اپنے بچوں کو آرام پسندی کی ترغیب دینے والے والدین صرف ان کی جسمانی صحت کے ساتھ ہی نہیں کھیل رہے بلکہ اس مطالعے سے ثابت ہوا ہے کہ وہ ان کی ذہنی صحت بھی تباہ کرنے کا موجب بن رہے ہیں۔

اس مطالعے کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’دی لینسٹ سائکیاٹری‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔



تنقید کے مقابلے میں دگنی تعریف... بچوں کی اچھی کارکردگی کا فارمولا

 اگر کلاس میں بچوں پر تنقید کے مقابلے میں ان کی تعریف دگنی کی جائے تو وہ پڑھائی میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور تعلیم کے میدان میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ خلاصہ ہے اس تین سالہ مطالعے کا جو امریکا کی تین ریاستوں میں 5 سے 12 سال عمر کے 2536 طالب علموں پر کیا گیا۔

یہ مطالعہ برگہام ینگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر پال کالڈریلا اور ان کے ساتھیوں نے کیا ہے جس میں نصف اساتذہ کو بچوں کی تعریف کا ایک منظم پروگرام دیا گیا جبکہ باقی نصف اساتذہ سے
معمول کے مطابق پڑھانے کا سلسلہ جاری رکھنے کو کہا گیا۔

مطالعے سے معلوم ہوا کہ اساتذہ کی جانب سے تنقید کے مقابلے میں زیادہ تعریف اور حوصلہ افزائی کے نتیجے میں بچوں کی کارکردگی میں فوری طور پر 30 فیصد اضافہ ہوگیا۔ اگر اساتذہ کی جانب سے تنقید اور تعریف برابر رہی تو پورے تعلیمی سال کے دوران کلاس روم میں بچوں کی کارکردگی پہلے کی نسبت 60 فیصد بہتر ہوگئی۔
سب سے زیادہ فائدہ ان بچوں کو ہوا جنہیں تنقید کے مقابلے میں دگنی تعریف کا سامنا ہوا؛ ان کی کارکردگی میں 100 فیصد کے لگ بھگ اضافہ مشاہدے میں آیا۔

ابتدائی عمر کا اثر ہماری باقی ماندہ زندگی پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ عمر کے اس حصے میں ہم جو کچھ بھی سیکھتے ہیں، وہ ساری زندگی ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 5 سے 12 سال کی عمر میں تعلیمی اور اکتسابی کارکردگی کی خصوصی اہمیت ہے۔ ٹھیک اسی طرح ڈانٹ ڈپٹ اور تنقید سے اس عمر کے بچوں پر جو منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ بھی مرتے دم تک برقرار رہتے ہیں۔

ریسرچ جرنل ’’ایجوکیشنل سائیکالوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں ڈاکٹر کالڈریلا اور ان کے رفقائے تحقیق کے مقالے میں جہاں اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں، وہیں اساتذہ اور والدین کےلیے ایک اہم پیغام بھی ہے: اگر آپ اپنے بچوں کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ان پر تنقید کم سے کم کرتے ہوئے ان کی خوب
حوصلہ افزائی کیجیے۔



No comments