Beautiful - خوبصورت





خوبصورت
پیروں میں گھنگرو باندھے کسی گیت کی آواز پر بے ہنگم سا رقص کرتا نیلی آنکھوں،سنہری بالوں اور دودھیا سفید رنگ والا وہ یتیم پٹھان بچہ واقعی بہت خوبصورت تھا۔ 

اور یہی خوبصورتی شاید اس کا سب سے بڑا جرم تھا۔کیونکہ معاشرے کے جس طبقے سے اس کا تعلق تھا وہاں اس خوبصورتی کو تراشنے کے لئیے کوئی جوہری نہیں بلکہ اس معصومیت کو نوچنے کے لئیے درندے گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔


 اس تھرکتے وجود کے ہونٹوں پہ ملی سرخی، آنکھوں میں ڈلا کاجل،بدن پہ موجود رنگیلا بھڑکیلا لباس اور زیر لباس زیب تن ہر چیز  ویسے تو اس کی صنف پہ سوال اٹھا رہی تھی۔ لیکن یہ سب کچھ شاید اس کے ارد گرد بیٹھے غیور،معزز  اور غیرت مند حوس کے پجاریوں کی تسکین کا ایک ذریعہ تھا۔جس کا اندازہ ان کے منہ سے نکلنے والے داد دیتے فحش اور بیہودہ جملوں سے ہو رہا تھا۔

حوس کے ان پجاریوں کے بیج تھرکتا  تیرہ سالہ گل خان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں گڑ جائے۔تحقیر اور اذیت کا احساس اسے لمحہ لمحہ موت کے گھاٹ اتار رہا تھا۔اس کا روم روم اس اذیت میں مبتلا تھا۔اس کا دماغ مسلسل ان لمحوں کے خوف میں مبتلا تھا جب اس کے اردگرد بیٹھے حوس کے پجاریوں میں سے کوئی پجاری اس کی خوبصورتی اور جسم پہ اس کی قیمت لگائے گا،اور اس کا مالک اسے وہی رٹی رٹائی کچھ فحش ہدایات دے کر اس درندے کے حوالے کر دے گا۔

پھر جو ہو تا اس کا تصور  ہی گل خان کو ایک لا متناہی کرب میں مبتلا کر دیتا۔اذیت اور حقارت کے وہ لمحے جب ہر روز ایک نیا درندہ اس کو برہنہ کر کے اپنی حوس کی تسکین کے لئیے اس کے بدن اور اعضاء کو یوں نوچتا کہ اس کے بدن پہ پڑا ایک ایک نشان اس درندگی کی گواہی دیتا۔اور کا یہ احساس اس کی روح تک کو زخمی کر دیتا تھا۔

گل خان کو اس جہنم میں پھنسے تقریباً ایک مہینہ ہو چکا تھا۔اور اس ایک مہینے میں کوئی بھی دن ایسا نہ تھا جب وہ اس اذیت سے نہ گزرا ہو۔شروع شروع میں وہ ناچتے ناچتے رو پڑتا تھا،چلاتا تھا کہ وہ
نہیں کر سکتا یہ سب۔ جس پہ اس کے مالک زمان کو اپنے گاہکوں کی خوب باتیں سننی پڑتیں۔وہ ہر دفعہ اس کہتے: "زمان خان اتنا خوبصورت لونڈا ہے تمہارے پاس تم اس کو سمجھاتا کیوں نہیں ہے،زمان خان یہ لونڈا نہیں سونے کی چڑیا ہے اس جیسا خوبصورت لڑکا پورے شہر میں نہیں، لیکن تمہارے پاس گر ہی نہیں کہ اس ہیرے کا صحیح استعمال کر سکو"۔ اور ہر دفعہ گل زمان اسے اس بے دردی سے پھٹتا کہ اس کا رواں رواں درد کی شدت سے چلا اٹھتا۔ پھر آہستہ آہستہ جسم کا درد روح کی تکلیف پہ حاوی ہونے لگا اور گل خان بالآخر زمان خان کی مرضی کے عین مطابق اس کے گاہکوں کو خوش کرنے لگا۔

ہر دفعہ اپنی خوبصورتی پہ کہے جانے والے جملوں کو سننے کے بعد گل خان سوچتا کہ کاش وہ خوبصورت نہ ہوتا،کاش وہ کوئلے جیسا سیاہ رنگ ہوتا،کاش اس کا ہر نقش قابل نفرت ہوتا تو شاید وہ اس نفرت سے بچ جاتا جو وہ خود سے کرتا ہے۔

ہر روز اذیت بھری رات گزارنے کے بعد صبح جب اڈہ خالی ہو جاتا اور زمان خان رات کو ہونے والی عیاشیوں کے نشان مٹا کے جب وہاں موجود آدھے شہر کی تسکین کے سامان کو ایک ڈربے نما کمرے میں بند کر کے خود سونے چلا جاتا تو گل خان ان سب زندہ لاشوں سے دور ایک کونے میں بیٹھا اس وقت کو یاد کرتا جب وہ اس جہنم سے دور کچی بستی کی ایک جھونپڑی میں اپنی ماں،پانچ چھوٹے بہن بھائیوں اور اپنے باپ کی یادوں کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔اس زندگی میں مفلسی تھی، بھوک تھی،بیماری تھی لیکن حقارت
یا ذلت کا احساس نہیں تھا۔

Post a Comment

0 Comments