Urdu Sad Quotes - Very Sad Urdu Quotes - صرف شکل اور جسم









صرف شکل اور جسم کی وجہ سے لڑکیاں خوبصورت نہیں لگتیں۔۔ وہ اس لیے بھی پیاری ہوتی ہیں کہ وہ اپنے والدین سے بہت پیار کرتی ہیں۔۔۔بنا کسی لالچ کے والدین اور بھائیوں کی خدمت کرتی ہیں۔۔انکی عزت پر آنچ نہیں آنے دیتیں۔۔وہ اس لئیے بھی پیاری ہوتی ہیں کہ وہ کالج سے گھر تک لڑکوں کا پیچھا نہیں کرتیں۔۔وہ رشتے کا انکار سن کر لڑکے کے منہ پہ تیزاب پھینک کے نہیں بھاگتیں۔۔وہ ریلیشن ٹوٹنے کے بعد لڑکے کو دھمکی نہیں دیتیں کہ تمہاری تصویریں انٹرنیٹ پہ اپلوڈ کر دوں گی۔۔وہ ریپ نہیں کرتیں۔


شادی کے بعد شوہر پہ چھوٹی چھوٹی بات پر ہاتھ نہیں اٹھاتیں۔۔ طلاق کی دھمکی نہیں دیتیں۔۔ برداشت کر جاتی ہیں۔۔ہر طرح کے ظلم سہہ کے بھی حالات سے سمجھوتا کر لیتی ہیں کہ میری طلاق کا سن کے میرے بوڑھے ماں باپ سہہ نہیں پائیں گے۔۔ صبر کرتی ہیں کہ میں اپنے بچوں کو لے کر کب تک بھائی بھابھی کے سر پر بوجھ بنوں گی۔۔۔۔۔۔اس لیے لڑکیاں بہت پیاری ہوتی ہیں۔۔ تو اس سوسائٹی کی بھی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس صابر اور مظلوم ذات کا کچھ احساس کرے۔۔
انھیں ظلم اور اذیتوں کے اس گڑھے سے نکالنے میں ان کی مدد کرے نہ کہ ظالم کا ساتھ دے۔۔ یاد رکھئیے ہر ظلم کا اک دن حساب ہوگا اور وہ حساب بہت ہی کڑا ہوگا۔۔

عشق میں ہار بھی ممکن ہے مگر بدلے میں
پھول سے چہروں پہ تیزاب نا ڈالا جائے


***********************************


میں جب بھی کسی غریب رشتہ دار کے گھر جاتا ہوں..جانے سے پہلے اسے فون کردیتا ہوں.. وہ بیچارہ خوش ہوجاتا ہے.. مہینے میں ایک بار گوشت کھانے والا
میرے لیے بغیر ہڈی کا ایک کلو گوشت لاتا ہے.. ستر روپے کلو والے "ٹوٹا" چاول کھانے والا ڈیڑھ سو روپے کلو والے چاول لاکر بریانی بناتا ہے.. اس کے بچے یہ
دیکھ کر خوش ہوجاتے ہیں کہ آج تو ہمیں بیف بریانی ملے گی.. پورے گھر کی صفائی ہوتی ہے.. تکیوں کے "غلاف" بدلے جاتے ہیں.. گھر میں موجود واحد صوفے
دو عدد کرسی اور ایک چھوٹی سی پرانی ٹیبل کو چمکایا جاتا ہے.. اس کی بیوی صندوق میں رکھا اپنے جہیز کا پندرہ سالہ پرانا ڈنر سیٹ نکالتی ہے.. بچوں کو
نہلا دھلا کر پچھلی عید کا سوٹ پہناکر تیار کیا جاتا ہے.. اس کی بیوی.. بچوں کا "گلک" توڑکر ان پیسوں کی کھیر بھی بناتی ہے.. رات آٹھ بجے میں
اپنی چمچاتی گاڑی میں سوار اس کچی آبادی کی کچی گلی میں داخل ہوتا ہوں.. اس کے بچے میرے انتظار میں دروازے
پر کھڑے ملتے ہیں.. بچوں کی آواز پر
وہ دونوں بھی میرا استقبال کرنے دروازے پر آجاتے ہیں.. میں رومال ناک پر رکھے بڑی "رعونت" سے
گاڑی سے اترتا ہوں.. بچے محبت سے میرے قریب
آتے ہیں.. جنہیں میں ہاتھ کے اشارے سے روک دیتا ہوں.. ان کے سلام کا جواب گردن کے اشارے سے دیتا گھر میں داخل ہوجاتا ہوں.. اور صوفے پر
ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ جاتا ہوں.. بچے چارپائی جس پر چادر بچھی ہوتی ہے اس پر بیٹھ جاتے ہیں اور وہ دونوں کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں.. اس وقت
مجھے اپنے اندر ایک "کمینی" سی خوشی کا احساس ہوتا ہے
گردن میں "سریا" آجاتا ہے.. کمر اکڑ جاتی ہے اور چھاتی چوڑی ہوجاتی ہے.. ان کی ہر بات
کا جواب "ہوں ہاں" میں دیتا ہوں..اس وقت مجھے اپنے اندر
ایک مغل شہنشاہ محسوس ہوتا ہے.. اور وہ سب درباری..
اسی "اکڑ" کے نشے میں وقت کا
پتہ ہی نہیں چلا.. دو گھنٹے ہوچکے تھے.. بچے بار بار مجھے
عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے تھے.. لیکن میں اپنی "اکڑ" کے نشے میں دھت اپنی بڑائی کے قصے
سنانے میں "مست" تھا..مزید ایک گھنٹے بعد اس کا چھ سالہ بچہ آنکھیں "مسلتا" ہوا اپنی امی سے بڑی معصومیت سے بولتا ہے.. امی مجھے بہت زوروں کی نیند
آرہی ہے.. اب تو کھانا لگادیجیے.. اس معصوم بچے کی بات سن کر میں اپنے قصے سنانا بند کردیتا ہوں.. اس کی بیوی دسترخوان بچھاتی ہے.. بچوں کے چہرے
خوشی سے کھل جاتے ہیں.. اس کی بیوی پہلے میرے آگے ڈش رکھتی ہے.. میں چاول کم بوٹیاں زیادہ نکالتا ہوں.
.اور تین پلیٹ بریانی کھاکر لمبی سی "ڈکار"
لیتا ہوں.. کھانے کے بعد بڑا بچہ محلے کی دکان سے کوڈرنک کی ایک بوتل لاکر مجھے پیش کرتا ہے.. جسے میں بچوں کی طرف دیکھے بغیر "غٹ" سے معدے میں
اتارلیتا ہوں.. اور یوں اس غریب کا مال کھاکر واپسی میں اس کے بچوں کو پچاس پچاس روپے دے کر ان پر احسان عظیم کرتے ہوئے واپس آجاتا ہوں..

Post a Comment

0 Comments