Wasif Ali Wasif Quotes - کوئی رات ایسی نہیں جو ختم نہ ہوئی ہو ۔۔۔۔




سوال:-
بات یہ ہے کہ جوگیوں ، راہبوں اور صوفیاء میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں ۔ اس حوالے سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ اُن سے لی گئ ہیں
جواب:-
*صوفیائے کرام اور راہب میں بہت فرق ہے ۔ اگر ایک صوفی شہر کو چھوڑ کر باہر چلا گیا ، یا پہاڑ پہ چلا گیا تو ان لوگوں کا ایک طریقہ ہے ۔ یہ بڑے کاری گر لوگ ہیں ، انہوں نے دینا کو چھوڑا نہیں ہے بلکہ دنیا کو وہاں پہ بُلا لیا ۔ کیا کام کِیا؟ شہر سے دُور چلے گئے اور کچھ دنوں بعد وہ بستی نظام الدینؒ بن گئ ، کچھ دنوں کے بعد اجودھن پاک پتن بنا دیا، سب کچھ صاف کر دیا ۔ وہ شہر چھوڑ کے آرام سے بیٹھ جاتے ہیں ، لگتا ہے کہ گُم سُم بیٹھے ہیں ، کچھ عرصہ بعد دو چار بندے وہاں گئے ، پھر دس بندے گئے ۔ ان کے چھوٹے موٹے کام بھی کیے اور ان کو گُر بھی سمجھا دیا ۔ پھر بیس آدمی چلے گئے
اگر کوئی بے باک صوفی ہے تو وہاں ڈھول بجنے شروع ہو گئے ۔ لیکن وہاں پر انہوں نے مسجد بنا دی ۔ پھر سوچا کہ اتنی دُور سے آتے ہیں اور ان کو یہاں کھانا نہیں ملتا تو لنگر بھی بنا دیا ، پھر جمعہ پڑھانے کا انتظام بھی کر دیا ، آپ جیسا کوئی مولوی وہاں Appoint کر دیا ۔ پھر صوفیائے کرام کا وہ علاقہ ایسا ہو گیا کہ شہر سے باہر رہنے والا سارے شہر پہ راج کر رہا ہے ، بادشاہی کر رہا ہے ۔ یہ راہب نہیں بلکہ فتوحات کے مالک ہوتے ہیں
داتا صاحبؒ لاہور سے باہر بیٹھ گئے ۔ اس وقت داتا صاحب نہیں کہلاتے تھے ۔ تو وہ بھاٹی دروازے کے باہر درخت کے نیچے آرام سے بیٹھ گئے ۔ آہستہ آہستہ لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ بندہ خوب صورت ہے ، بات لاجواب ہے ، یہ قصہ کیا ہے ۔ ایک جوگی کو بھی اطلاع ہو گئ ۔ اس نے دودھ والوں کو منع کر دیا کہ ان کو دودھ مت دو ورنہ تمہاری گائے اور بھینس دودھ کی جگہ خون دیں گی ۔ تو ایسا ہوا اور خون آنا شروع ہو گیا ۔ آپؒ نے فرمایا کوئی بات نہیں ، تم دیکھنا کہ کیا ہوتا ہے ۔ پھر وہاں لنگر پکنا شروع ہو گیا، حلوے کے کڑاہ پکنے شروع ہو گئے
”داتا“ کا لفظ ہندی کا لفظ ہے ۔ تو ہندٶوں نے کہا کہ یہ تو داتا ہے ۔ ”غریب نواز“ بھی ہندٶوں نے کہا تھا ۔ انہوں نے کہا تم میری بات بعد میں سننا ، پہلے ایک دیگ بناٶ اور اس میں ایک سو بیس من چاول ڈالو اور کھاتے چلے جاوء ۔ غریب نوازی تو خود بخود شروع ہو گئ ۔ تو یہ لوگ شہروں سے دُور رہ کر بھی شہروں کو کنٹرول کرتے تھے ۔ یہ دوسروں کو کھلاتے تھے اور خود نہیں کھاتے تھے ، دن کو روزہ رکھتے اور رات کو عبادت کرتے تھے ۔ یہ سارے کے سارے اپنے گُر کے بڑے پکے لوگ ہوتے تھے
اب آپ دیکھو کہ اجمیر شریف ہندوستان میں ہے اور آپ اسے یہاں بیٹھ کے یاد کرتے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1965ء کی جنگ کا ایک واقعہ ہے ، یہاں پر کچھ لوگ خواجہ غریب نواز کا عُرس منا رہے تھے اور اوپر سے حملہ ہو رہا تھا ۔ ایک بندے نے کہا کہ تم یہ کیا عرس منا رہے ہو ، اوپر سے تو وہ بم پھینکتے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا فکر نہ کرو ، سب ٹھیک ہو جائے گا ، وہاں سے چادریں آئیں گی ۔ ہمارے پائلٹوں کو حکم نامہ ہو گیا کہ خبردار اجمیر شریف میں بم نہ پھینکنا ، دلی کے اندر بھی ، بستی نظام الدین ؒ میں بھی نہ پھیکنا، سرہند شریف میں بھی نہ پھیکنا، کلیر شریف میں بھی نہ جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کیوں نہ پھینکیں ، یہ تو دشمن کا علاقہ ہے ، کہنے لگے کہ یہ اپنے ہی علاقے ہیں ۔ تو وہاں بیٹھ کے بھی یہ لوگ کنٹرول کیا کرتے ہیں
آپ کوئی ایسا صوفی درویش بتا دو جس کی جگہ یا خانقاه شہر سے باہر ہی رہی ہو ۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ ان لوگوں نے شہر بسا دیے ۔ وہ جہاں جہاں جا کے بیٹھ جاتے ہیں وہاں میلہ لگ جاتا ہے
میں کسی لمبے چوڑے دعوے کی کیا بات کروں ، یہاں ہم نہ اشتہار لگاتے ہیں اور نہ کوئی اور بات کرتے ہیں ، شہر کے اندر بیٹھے ہیں اور گُم سم ہو کے بیٹھے ہیں ، کسی واقف کو میں نے اطلاع ہی نہیں دی کہ یہاں کیا ہوتا ہے ، کوئی شکل صورت بھی نہیں بنائی تا کہ کسی کو پتہ ہی نہیں چلنا چاہیے ، بس آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں ، گمنام ۔ اگر اس کو Open کر لیا جائے ، میں یہ کہہ رہا ہوں ، شہر سے باہر چلے جائیں تو تیسرے دن شور شرابہ ہو جائے گا
ایک بندے نے کہا کہ مسلمانوں میں فقیری تو آسان ہے ، بس شہر سے باہر ایک جگہ بنا لو ، آستانہ بنا لو ۔ یہ گمراہ ہونے کا ، پیر بننے کا نسخہ ہے کہ وہ وہاں جا کے بیٹھ جائے، ایک دیگ پکا لے اور پکاتا جائے ، وہاں پر پانی کا ایک تالاب بنا لو اور یہ کہو کہ جو اس تالاب سے پانی لے گا اُسے شفا ہو گی ۔ اللہ تو شفا دینے والا ہے ۔ کاروبار چل پڑے گا اور تولے کے حساب سے پانی بِکے گا ۔ اس طرح پیر صاحب کا کاروبار چل پڑے گا
مدعا یہ ہے کہ نقلی بھی اس سسٹم کی وجہ سے آباد ہو گئے تو پھر اصلی کی تو بات ہی اور ہے ۔ تو یہ درویش شہر آباد کرنے والے لوگ تھے ۔ شہر سے باہر آ جاتے تھے لیکن مکمل ہوتے تھے ۔ ان لوگوں نے بڑی حکومت کی ہے ۔ یہ راہب نہیں تھے ۔ راہب کا مقام اور ہے ۔ یہ تو Directly ہی Involve ہو جاتے ہیں اور پیر کے حوالے سے آتے ہیں اور ان کے پیر بھائی ساتھ ہی ساتھ آتے ہیں ،پورے کا پورا سلسلہ ہوتا ہے ۔ اور پھر یہ لوگوں کے اندر گھوم پھر جاتے ہیں
آپ یہ دیکھو کہ اُس زمانے میں میاں میر صاحبؒ شہر سے باہر ہوتے تھے اور بادشاہ ان کے دربار میں آتے تھے ۔ حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کے زمانے میں امیر خسرو ؒ جو کہ بادشاہوں کے بادشاہ تھے وہ دن بھی وہاں اور رات بھی وہاں ہوتے تھے ۔ بابا فرید صاحبؒ کی جو شادی ہوئی ہے وہ بادشاہ بلبن کے ہاں ہوئی ۔ تو وہ شکر بھی کھلاتے تھے اور شکر کی بارش بھی برسا سکتے تھے ، پھر گنج شکر ہو گئے ۔ تو یہ تو بڑے بڑے طاقت ور لوگ تھے ، شہر آباد کرتے تھے ۔ صوفیائے کرام نے رہبانیت اختیار نہیں کی ہے ۔ یہ پورے کے پورے اتالیق ہوا کرتے تھے اور سیکھ کے آیا کرتے تھے ۔ داتا صاحبؒ اپنے وطن سے باہر ہیں اور جتنا ان پر لوگوں نے سلام کیا ، جتنا یہاں پر قرآن شریف پڑھا گیا ہے اس کا آپ اندازہ نہیں کر سکتے ۔ حالانکہ بظاہر یہ پردیسی ہیں لیکن لاہور کو آپ آج تک داتا کی بستی کہتے ہیں ۔ تو اس نامعلوم انسان نے کہاں سے چل کے پردیس کے اندر کیسی بادشاہی کی کہ زمانے بیت گئے مگر اب بادشاہی چلی آ رہی ہے ۔ کسی کو پتہ ہی نہیں کہ وہ کون ہیں اور بہت کم لوگوں نے ان کی کتاب پڑھی ہے لیکن اس کے باوجود آج تک بادشاہی ہوتی آ رہی ہے ۔ یہ خاص واقعہ ہے ۔ اور ایک جہانگیر بادشاہ ہے جہاں تم کبھی کبھی جاتے ہو ، وہ بھی اگر کوئی فنکشن ہو ، دو آدمی وہاں چلے گئے ، فوٹو لے لیا ، سکول کے بچے وہاں لے جاتے ہیں اور وہاں ویرانیاں ہوتی ہیں ، چیلیں اور گدھ وہاں بیٹھے ہوتے ہیں
تاریخ میں ہوتا ہے کہ جہانگیر بادشاہ ، نُور جہاں ، آصف جاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ پتہ بھی نہیں ہوتا کہ داتا صاحبؒ کون ہیں مگر وہ سبحان اللہ سبحان اللہ کہتے جا رہے ہیں ۔ تو یہ دلوں پر بادشاہی کرنے والے تھے ۔ یہ رہبانیت نہیں کرتے بلکہ آناََ فاناََ رہبانیت کو توڑ دیتے ہیں ۔ اس لیے ان کو سمجھو کہ یہ کون لوگ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(گفتگو والیم 26)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

***************************

کوئی رات ایسی نہیں جو ختم نہ ہوئی ہو ۔۔۔۔ ،
کوئی غلطی ایسی نہیں جو معاف نہ کی جا سکے۔۔۔۔،
کوئی انسان ایسا نہیں جس پر رحمت کے دروازے بند ہوں ، رحم کرنے والے کا کام ہی یہی ہے کہ رحم کرے ۔۔۔۔،
رحم اس فضل کو کہتے ہیں جو انسانوں پر ان کی خامیوں کے باوجود کیا جائے ۔۔۔۔۔،
اور یہ رحم ہوتا ہی رہتا ہے ۔

دعا سے خوف دُور ہوتا ہے ۔ اور دعا کا حاصل اور ماحصل ہی یہی ہے کہ یہ ہمیں ہمارے خوف سے نجات دلاتی ہے ۔

حضرت واصف علی واصف ؒ
( دل دریا سمندر )

***************************

عذاب ٹالنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ روٹی پکاو ،
تندور کی روٹی پکاو ، کسی ایک بھوکے کے پیٹ میں اگر کھانا چلا گیا تو سمجھ لو کہ تمہارے سر سے دوزخ ٹل گئی۔
یہ اتنے بڑے راز کی بات ہے۔

واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

No comments