Urdu Islamic Quotes Images Rehmat Maaf

Nov 26, 2020

There is a misconception among the people regarding spirituality that a person who has special clothes, perfume, rings, long hair is spiritual. Spirituality, however, is not the name of the game. Man is a mixture of soul and body. He fulfills the requirements of the body, but he never pays attention to the soul which is real. Density and elegance are two things. People who have high density tend to be more towards the world and people who have more elegance tend to be closer to God. Spirituality is a natural emotion. It is more in some and less in others.

عبادت ، روحانیت کے بغیر نامکمل ہے

روحانیت کے حوالے سے لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ کوئی ایسا شخص جس کامخصوص لباس ہو، خوشبو لگائی ہو، انگوٹھیاں پہنی ہوں ، لمبے بال ہوں ،وہ ہی روحانی ہوتا ہے۔ حالانکہ روحانیت لباس ، وضع قطع کا نام نہیں ہے۔ انسا ن روح اور جسم کا مرکب ہے ۔ وہ جسم کے تقاضے تو پورے کرتا رہتا ہے لیکن روح جو کہ اصل ہے اس کی طرف کبھی اس کا دھیان ہی نہیں جاتا۔ کثافت اور لطافت دو چیزیں ہیں ۔جن لوگوں میں کثافت زیادہ ہوتی ہے ان کا رجحان دنیا کی طرف زیادہ ہوتا ہے اور جن لوگوں میں لطافت زیادہ ہوتی ہے ۔ان کا رجحان قربِ الہٰی کی طرف ہوتا ہے۔

روحانیت ایک فطری جذبہ ہے ۔یہ کسی میں زیادہ اورکسی میں کم ہوتا ہے۔ روح کا تعلق اچھے کاموں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر کوئی بندہ خیرات کرتا ہے، لوگوں میں پیار بانٹتا ہے ، لوگوں میں خوشیاں با نٹتا ہے، لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہوتا اور بُرے کاموں سے دور رہتا ہے تواس سے روح کو طاقت ملتی اور خوشی حاصل ہوتی ہے۔ لوگوں میں غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ صرف عبادت کرنے سے ہی روح خوش ہوتی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اگر عبادت ہے لیکن روحانیت نہیں ہے تو پھر وہ عبادت نہیں ہے۔ عبادت یہ ہے کہ بندے کے شعور اور لاشعور کی رغبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو اگر عبادت میں سوچ دنیاوی کاموں کی طرف ہو تو وہ عباد ت نہیں ہوتی۔روحانیت اصل میں اندر کی بات ہے جو لوگ اندر کی بات کرتے ہیں جن کا رجحان روحانیت کی طرف ہوتا ہے وہی روحانی لوگ ہوتے ہیں۔ روحانیت میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جنہیں اللہ تعالیٰ ان کی فطرت میں یہ چیز ودیعت کر دیتا ہے۔ ان کو عبادات اور مجاہدات کی ضرورت نہیں پڑتی جبکہ دوسر ی قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے میلان اور رجحان میں روحانیت پائی جاتی ہے ۔ایسے لوگ عبادات اور مجاہدوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔

اکثر صوفیائے کرام کے بارے میں ذکر ملتا ہے کہ وہ عشقِ مجازی سے عشق ِ حقیقی کی طر ف گئے۔ اگر اس بات پر غور کیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عشق سب کی فطرت میں پایا جاتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ عشقِ مجازی سے حقیقت کی طرف کون جاتا ہے۔ جتنے بھی صوفیائے کرام ہیں وہ فطرت سے متاثر ہوتے ہیں ۔جب وہ فطرت کی طرف جاتے ہیں تو وہ مجازی عشق کی طرف چلے جاتے ہیں ۔جب وہ اس پروسس سے گزر رہے ہوتے ہیں اسی دوران جب انہیں ٹھوکر لگتی ہے تو پھر ان کواحساس ہوتا ہے کہ ہم توایسی چیز کے عشق میں مبتلا ہیں جو نامکمل ہے۔ اس احساس کے بعد پھر وہ خالقِ کائنات کی طرف رجوع کرتے ہیں اور پھر رجوع کے لیے کسی مرشد کی بیعت کرتے ہیں۔ حضرت واصف علی واصف ؒفرماتے ہیں کہ عشقِ مجازی کو عشقِ حقیقی بننے کے لیے ایک اُستاد کی ضرورت ہے۔

Post a Comment

© Urdu Thoughts.