میری بات سنو۔ Listen To Me

Feb 27, 2021

listen to me. Sometimes I was upset, sometimes I was angry, and sometimes I was amazed that the book in which God was talking to me

’’جب میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا تھا تو ایک بات پہ میں سخت الجھن کا شکار رہتا تھا۔‘‘
’’سعدی...‘‘
’’میری بات سنو۔ میں کبھی پریشان ‘ کبھی خفا ‘ اور کبھی متحیر رہ جاتا تھا کہ وہ کتاب جس میں الله مجھ سے بات کر رہا ہے ‘ جس کا موضوع ’’انسان‘‘ ہے ‘ اور جو اربوں کھربوں انسانوں کے لئے قیامت تک کے لئے سب سے بڑا نور ‘ سب سے بڑی سپورٹ ہے ‘ اس میں تو الله اور انسان کی بات ہونی چاہیے نا۔پھر یہ ہر چند ورق الٹنے کے بعد...بار بار... موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیوں آ جاتا ہے؟ اچھا ٹھیک ہے‘ وہ کلیم الله تھے ‘الله سے باتیں کرتے تھے ‘ فرعون کے سامنے کلمہ حق کہا تھا ‘ اپنی قوم کے لیے لڑے تھے ‘ مگر ہمیں اچھے سے یاد ہیں نا یہ واقعات‘ پھر الله کیوں‘ کیوں ہر چند منٹ بعد آپ فرماتے ہیں کہ یاد کرو موسیٰ ؑ کو اور فرعون کو۔ دنیا کی سب سے بڑی کتاب میں سب سے زیادہ جس انسان کا نام لیا گیا ‘ وہ موسیٰ ؑ ہیں۔ اتنی دفعہ بار بار...کیوں؟ میں اکثر الله سے یہ سوال پوچھتا تھا‘ اور مجھے اس کا جواب قید کے ان چند ماہ میں مل گیا ہے۔‘‘ وہ سر جھکائے کہے جا رہا تھا۔
’’ موسیٰ علیہ السلام پتہ ہے کون تھے؟ وہ بہت بڑے دل کے مالک تھے۔ ان کے ساتھ فرعون نے جو بھی کیا ‘ ان کی قوم کے مردو ں کو جس طرح ذبح کیا‘ ان کا اور ہارون علیہ السلام کا مذاق اڑایا‘ ان کو جادوگر کہا‘ ان کے معجزے دیکھ کر بھی ایمان نہ لایا اور پھر جب یکے بعد دیگرے سات قسم کے عذابوں میں فرعون مبتلا ہوا‘ تو ہر عذاب اترنے پہ وہ موسیٰ علیہ السلام کو کہتا تھا.... موسیٰ ...‘‘ اس کی آواز نم ہوئی۔
’’اے موسیٰ...دعا کرو ہمارے لئے اپنے رب سے کہ وہ اسے ٹال دے ہم سے ‘ تو پھر ہم ایمان لے آئیں گے ۔ موسیٰ ؑ ہر دفعہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیا کرتے تھے ‘ مگر وہ لوگ آفات ٹلنے کے بعد بھی ایمان نہیں لایا کرتے تھے۔ تو پتہ ہے کون تھے موسیٰ ؑ ؟وہ بہت بڑے دل کے ‘ بہت عظیم انسان تھے۔ ان کا ظرف بہت بڑا تھا۔ انہوں نے انتہا تک پہنچنے کے باوجود فرعون پہ give up نہیں کیا تھا‘ اس کو امید دکھانا نہیں چھوڑی تھی ۔اسی لئے وہ موسیٰ ؑ تھے ۔ اسی لئے ان کا ذکر ہمیشہ کے لئے امر رہے گا۔‘‘ آنکھیں بند کیے گہری سانس اندر کھینچی۔

#Namal_Novel

Post a Comment

© Urdu Thoughts.