آپ نے کہہ لیا جو آپ نے کہنا تھا- You Said What You Had To Say

Feb 27, 2021

 You Said What You Had To Say

"آپ نے کہہ لیا جو آپ نے کہنا تھا؟"

"ہاں."

"کیا اب آپ میری سنیں گی؟"

"ہاں."

"تو پھر سنیئے. اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم."

اس نے تعوذ پڑھا تو فرشتے نے الجھ کر اسے دیکھا- مگر وہ رکی نہیں تھی-بہت دھیمے مگر مضبوط لہجے میں وہ عربی میں اسے کچھ سنانے لگی تھی-وہ عربی جو ان دونوں کی سمجھ میں آتی تھی-

"اور اسی طرح ہم کھول کھول کر آیات بیان کرتے ہیں، شاید کہ وہ پلٹ آئیں۔۔۔۔۔ شاید کہ وہ پلٹ آئیں-"

فرشتے کی آنکھوں میں الجھا سا تاثر ابھرا-محمل بنا پلک جھپکے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پڑھتے جا رہی تھی-

" ان لوگوں کو اس شخص کی خبر سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیات دی تھیں-پھر وہ ان سے نکل بھاگا تو اس کے پیچھے شیطان لگ گیا، تو وہ گمراہوں میں سے ہو گیا-"

فرشتے کی بھوری آنکھوں  میں بے چینی ابھری تھی-" محمل! میری بات سنو-"

مگر وہ نہیں سن رہی تھی- وہ پتلیوں کو حرکت دئیے بنا نگاہیں اس پہ مرکوز کیے کہتی جا رہی تھی-

"تو وہ گمراہوں میں سے ہو گیا-" اس کی آواز بلند ہو رہی تھی-"اور اگر ہم چاہتے تو اسے ان ہی آیات کے ساتھ بلندی عطا کرتے ، لیکن وہ زمین کی طرف جھک گیا-"

"محمل چپ کرو-" وہ زیر لب بڑ بڑائی تھی، مگر محمل کی آواز اونچی ہو رہی تھی-

"لیکن وہ زمین کی طرف جھک گیا اور اس نے اپنی خواہشات کی پیروی کی-تو اس کی مثال کتے جیسی ہے-تو اس کی مثال کتے جیسی ہے-

اگر تم اس پہ حملہ کرو تو اپنی زبان باہر نکالتا ہے، یا تم اس کو چھوڑ دو ، تو بھی وہ زبان باہر نکالتا ہے-"

"خاموش ہو جاؤ! خدا کے لیے خاموش ہو جاؤ!" اس نے تڑپ کر محمل کے منہ پر ہاتھ رکھنا چاہا، اس دوپٹہ کندھوں سے پھسل گیا تھا، کھلے بال شانوں پہ آگرے تھے-

محمل نے سختی سے اس کا ہاتھ جھٹکا- اسی میکانکی انداز میں اسے دیکھتی پڑھتی جا رہی تھی- 

"جسے اللہ ہدایت بخشے ، پس وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے ، بس وہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں-"

اس کے ہاتھ بے دم ہو کر اپنی گود میں آگرے تھے- وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتی ، گھٹنوں کے بل اس کے قدموں میں گری تھی-

"بے شک ہم نے جہنم کے لیے بہت سے جنوں میں سے اور بہت سے انسانوں میں سے پیدا کیے ہیں-ان کے لیے دل ہیں-وہ ان سے کچھ بھی نہیں سمجھتے .اور ان کے لئے آنکھیں ہیں  وہ ان سے کچھ بھی نہیں دیکھتے - اور اور ان کے لیے کان ہیں- وہ ان سے کچھ بھی نہیں سنتے -یہی لوگ مویشیوں کی طرح ہیں،بلکہ یہ تو زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں-یہی وہ لوگ ہیں جو غافل ہیں جو غافل ہیں، جو غافل ہیں-"

 وہ کسی معمول کی طرح باربار وہی الفاظ دہرا رہی تھی-

فرشتے سفید چہرہ لیے بے دم سی بیٹھی تھی-اس کے لب ہولے ہولے کپکپا رہے تھے- محمل نے آہستہ سے پلک جھپکی تو دو آنسو ٹوٹ کر اس کی آنکھوں سے گرے-

"اور اسی طرح کھول کھول کر آیات بیان کرتے ہیں شاید کہ وہ پلٹ آئیں!"

اس نے وہیل چئیر کے پہیوں کو دونوں اطراف سے تھاما اور اس کا رخ کھڑکی کی طرف موڑا وہ آہستہ آہستہ وہیل چئیر کو کھڑکی کی طرف بڑھانے لگی -

فرشتے پیچھے بیٹھی رہ گئی تھی-محمل نے پلٹ کر اسے نہیں دیکھا-وہ ابھی پلٹنا بھی نہیں چاہتی تھی-

"اور اسی طرح ہم کھول کھول کر آیات بیان کرتے ہیں ، شاید کہ وہ پلٹ آئیں --!"

 وہ کھڑکی کے پار دیکھتے ہوئے زیر لب بڑ بڑائی تھی-

فرشتے سے مزید کچھ نہیں سنا گیا- وہ تیزی سے اٹھی ، اور منہ پہ ہاتھ رکھے بھاگتی ہوئی باہر نکل گئی-

محمل اسی طرح نم آنکھوں سے باہر چمکتی بجلی کو دیکھتی رہی.


#مصحف

Post a Comment

© Urdu Thoughts.