وہ کھڑکی کے پار چھوٹے - They Are Small Across The Window

Mar 9, 2021

 She looked out of the window at the small Gilgit and the distant mountains between which stood the goddess of the mountains with great power and pride. "Thank you Rakaposhi!"She did not know what to say to the shining wall. Spread far and wide, these were the mountains whose foreheads were bowing and kissing the sky.


بہارے : ''سفیر برا نہیں ہے۔ وہ میرا اور عائشے کا بہت خیال رکھا کرتا تھا۔ وہ بالکل ہمارے بھائی جیسا ہے۔''

حیا : ''بھائی صرف وہی ہوتا ہے جسے اللہ نے آپ کا بھائی بنایا ہو بہارے اور جسے اللہ آپ کا بھائی نہ بنائے، وہ کبھی بھائی نہیں ہو سکتا۔''

#JannatKayPattay


*****************************************


وہ کھڑکی کے پار چھوٹے ہوتے گلگت اور دور نظر آتے پہاڑوں کو دیکھنے لگی جن کے درمیان بہت تمکنت اور غرور سے پربتوں کی دیوی کھڑی تھی۔

''Thank you Rakaposhi!''

اس نے چمکتی دیوار کو کس بات کا شکریہ ادا کیا، وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔

دور دور تک پھیلے یہ وہ پہاڑ تھے جن کی پیشانیاں آسمان جھک جھک کر چوم رہا تھا۔ وہ واقعی عظیم پہاڑ تھے اور ان کے درمیان میں قراقرم کا تاج محل کھڑا تھا جس کی سفید مرمریں دیواروں پر محبت کی ایک خاموش داستان لکھی تھی۔ وہ بلاشبہ آگرہ کے تاج محل سے زیادہ سفید اور حسین تھا۔

اس نے ایک آخری نظر قراقرم کے کوہساروں پر ڈالی۔

''الوداع قراقرم۔۔۔ الوداع ہمالیہ۔۔۔ میں زندگی میں پھر کبھی تم ظالم پہاڑوں میں نہیں آؤں گی۔''

اس نے سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔ کتنے دنوں بعد آج اس کی کمر کے پیچھے برف نہیں تھی۔

''تو یہ تھا میری کہانی کا اختتام۔ آخر اس موڑ پر آ کر قراقرم کی پری اور کوہ پیما کی کہانی بالآخر ختم ہو گئی۔'' وہ بند آنکھوں سے بے حد افسردگی سے مسکرائی۔

#KarakoramKaTajMahal

#KohpemaAurPariKiDastan


*****************************************


آبدار: ’’اس نے آپ کا تحفہ یوں کسی کو دے دیا ‘ آپ کا دل نہیں دکھا۔‘‘

فارس : ’’یہ تو ایک چیز ہے۔ چیزوں کا کیا ہے؟ آتی جاتی رہتی ہیں۔میں یا زمر چیزوں کے پیچھے نہیں بھاگتے۔‘‘ یہ کہنے کے ساتھ وہ دائیں جانب گھوما‘ برنر کا بٹن گھمایا۔ آگ کے شعلے بلند ہوئے۔ تو اس نے ہیرے کی لونگ آگ میں ڈال دی۔آبدار کا منہ کھل گیا تھا۔

آبدار: ’’یہ آپ نے کیا کیا؟ یہ تو آپ کو بہت عزیز تھی۔ آپ نے خود مجھے بتایا تھا ‘ جب ہم کولمبو جا رہے تھے۔‘‘ بے اختیار منہ سے پھسلا۔

فارس : ’’یہ تو ایک پتھر ہے۔ اور مجھے یہ عزیز نہیں ہے۔ میں اسے پہلے بھی ایک دفعہ پھینک چکا ہوں۔ مجھے وہ عزیز ہے جس کو میں نے یہ دیا تھا۔‘‘

آبدار: ’’بات چیز کی نہیں ہے۔ اس نے ’’آپ ‘‘ کو تین دن تک گروی رکھا ہے۔‘‘

فارس : ’’اس نے مجھے چار سال تک جیل میں بھی رکھا تھا۔ میں اس کو ہزار دفعہ معاف کر سکتا ہوں۔

آبدار آپ کو اگر لگتا ہے کہ ایک پتھر کے پیچھے ہم ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو آپ ہم دونوں کو نہیں جانتیں۔ ہم نے آگ اور خون کا دریا ایک ساتھ پار کیا ہے۔ ہم اچھے اور برے وقت کے ساتھی ہیں۔ موت کے علاو ہمیں کوئی چیز ایک دوسرے سے دور نہیں کر سکتی۔‘‘

#Namal_Novel


*****************************************



Post a Comment

© Urdu Thoughts.