تم مستقبل کے خوف کا شکار ہو۔ You Are Afraid of the Future.

Mar 7, 2021

"You are afraid of the future. It's as bad as the grief of the past. "

"Aren't you afraid of the future?"

"For example, from what?"

"It will be ridiculous and embarrassing when you do not become the Prime Minister. We all know that you cannot be the Prime Minister.

"Okay. And why can't I be prime minister?"

"Because you are not politically strong. Politicians have left you. You don't know how to try bets like them. You ... "His voice became louder. With helpless anger. "Why are you fighting political wars? You know that you have to lose. Why don't you all leave the country with your wife and children?"

’'تم مستقبل کے خوف کا شکار ہو۔ یہ ماضی کے غم جیسا ہی برا ہوتا ہے ۔‘‘

’’آپ کو مستقبل سے خوف نہیں آتا؟‘‘

’’مثلاً کس چیز سے‘‘

’’جب آپ وزیرِاعظم نہیں بنیں گے تو جو جگ ہنسائی اور شرمندگی ہو گی ۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ آپ وزیرِ اعظم نہیں بن سکتے ‘ توانکو۔‘‘

’’اچھا۔اور میں وزیرِ اعظم کیوں نہیں بن سکتا ۔‘‘

’’کیونکہ آپ سیاسی طور پہ مضبوط نہیں ہیں۔ سیاستدان آپ کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔آپ ان جیسے داؤ بیچ آزمانا نہیں جانتے ۔ آپ....‘‘اس کی آواز بلند ہوئی ۔ بے بسی بھرے غصے سے ۔’’آخر آپ کیوں لڑ رہے ہیں سیاسی جنگیں آپ کو خود بھی معلوم ہے کہ آپ نے ہار جانا ہے ۔آپ سب چھوڑ کے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ملک سے چلے کیوں نہیں جاتے ؟‘‘

’’تم نے کبھی فٹبال میچ دیکھا ہے ؟‘‘

’’جی توانکو ۔ دیکھا ہے۔‘‘

’’ایک دفعہ میں امریکہ میں ایک میچ دیکھنے گیا ۔بچپن کی بات ہے۔ جانتی ہو ایک ٹیم نے چار گول کر لیے تھے ‘ اور دوسری کے گول صفر تھے ۔ میچ کے آخری تین منٹ تھے اور دوسری ٹیم کے کھلاڑی آخری حد تک مقابلہ کر رہے تھے ۔بار بار حملہ کرتے ۔ ہمت ہارے بغیر ۔تین منٹ میں ان کو جیتنے کے لیے پانچ گول چاہیے تھے۔‘‘

’’وہ تین منٹ میں پانچ گول تو نہیں کر سکتے تھے ‘ پھر کیوں؟‘‘

’’یہی تو میں نے سوچا .... سب کو معلوم ہے کہ پہلی ٹیم جیت جائے گی‘ پھر دوسری ٹیم آخری سیکنڈ تک کیوں لڑ رہی ہے ؟ہتھیار ڈال دے اور بس کر دے۔اور پھر پہلی ٹیم جیت بھی گئی لیکن آخری سیکنڈ تک دوسری ٹیم کے لڑکے جواں مردی سے لگے رہے۔‘‘

’’مگر جب میں بڑا ہوا اورمیں نے دنیا دیکھی تو مجھے احساس ہوا کہ....لڑائی صرف جیتنے کے لئے نہیں لڑی جاتی ۔ دوسری ٹیم ہتھیار ڈالتی ‘ تو بھی ہار جاتی ۔ آخری منٹ تک مقابلہ کرتی تو بھی ہار جاتی ۔ پھر بھی اس نے لڑنے کو اس لئے چنا کیونکہ جب ہم لڑ کے ہارتے ہیں تو پھر ہم اپنی غلطیوں کا جائزہ امید کے ساتھ لیتے ہیں اور اگلی دفعہ زیادہ جذبے سے میدان میں اترتے ہیں۔ زندگی میں یا ہم نیچے جا رہے ہوتے ہیں‘ یا اوپر۔ہمیں ہر لمحہ خود کو اپنے کیرئیر ‘رشتوں ‘ اور عمل میں بہتر کرنا ہوتا ہے ۔ جہاں ہم رکے ....وہاں ہم (ہاتھ سے اشارہ کیا)نیچے گئے ۔‘‘

#Haalim_Novel

Post a Comment

© Urdu Thoughts.