اگلی فجر پہ دھند غائب تھی۔ He Looked Around.

Apr 25, 2021

Hannah's eyes suddenly opened with a jerk. He looked around. Then he clapped his hands around. Picked up the mobile and lit it. Did she wake up from the alarm? He had set five alarms but ... the first alarm sounded four minutes away. Then what did she get up from? From the sound of the call to prayer? But there were still ten minutes in the call to prayer. The first call to prayer had not yet taken place.

اگلی فجر پہ دھند غائب تھی۔ بالکل ندارد ‘ صفر ۔ بادل بھی عنقاتھے اور جامنی آسمان صاف تھا۔ ابھی فجر میں چند ساعتیں باقی تھیں۔ ایسے میں نئے گھر میں حنین رضائی میں لپٹی ‘ آنکھیں موندے بے خبر سو رہی تھی۔ ماتھے پہ کٹے بال بکھرے تھے اور باقی تکیے پر پھیلے تھے۔ ایک مینڈک کی ہئیت کی مخلوق اس کے کندھے پہ چپکے سے آ بیٹھی اور ا س نے اپنی لمبی سونڈ کے ذریعے حنہ کے دل کو پکڑ ا‘ اور پھر اس پہ گرہ لگائی ۔ ایک‘ دو‘ تین۔ حنہ بے خبر سوتی رہی۔ ساری دنیا سوتی رہی۔

’’ اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے...اٹھو اور خبردار کرو۔‘‘

دفعتاً ایک جھٹکے سے حنہ کی آنکھیں کھلیں۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ پھر آس پاس ہاتھ مارا۔ موبائل اٹھا کر روشن کیا۔ کیا وہ الارم سے اٹھی تھی؟ پانچ الارم لگائے تھے اس نے مگر...پہلے الارم کے بجنے میں ابھی چار منٹ رہتے تھے۔ پھر وہ کس چیز سے اٹھی ؟ اذان کی آواز سے؟ مگر اذان میں ابھی دس منٹ تھے۔ پہلی اذان تو ابھی ہوئی ہی نہیں تھی۔

’’اور اپنے رب کی ہی بڑائی بیان کرو۔‘‘

حنین سن رہ گئی۔کوئی آواز اس کو سنائی دی تھی۔ بھولی ہوئی سورۃ المدثر جو اس کو جاگتے میں بھی یاد نہ آتی‘ آج سوتے میں یاد آئی تھی۔ وہ مخلوق بھی خاموشی سے اس کے دل کو جکڑے بیٹھی رہی۔

’’سب تعریف اس الله کی جس نے ہمیں مار دینے کے بعد زندہ کر کے اٹھایا ۔ اور اسی کی طرف ہم نے پلٹنا ہے۔‘‘وہ الله کا نام لیتے ہوئے ایک دم اٹھ بیٹھی۔دل کو باندھے ہوئے تین گرہوں میں سے ایک چھناکے سے ٹوٹی۔

حنہ کچھ دیر وہیں بیٹھی رہی۔ وہ کیسے اٹھ گئی؟ آج آنکھیں کھولتے اسے موت کیوں نہیں پڑی؟ احساسِ ذمہ داری تھا یا کیا؟

اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھو۔ اور ہر قسم کی گندگی سے اپنے آپ کو دور رکھو۔‘‘

وہ سر جھٹک کر بستر سے نکلی اور جب وہ سنک کے اوپر کھڑی ‘ ٹوٹی کھول کر وضو کرنے لگی تو دل پہ دوسری گرہ بھی جھٹکے سے ٹوٹ گئی۔ آدھی بھیگ کر وہ باہر نکلی اور جائے نماز اٹھانے لگی۔ پھر رکی۔ اونہہ ۔جلدی سے الماری میں گئی۔ اس دن درزی سے دو نئے سردیوں کے جوڑے سل کر آئے تھے۔ اب وہ ان لوگوں میں سے نہیں رہی تھی جو نیا جوڑا ’’ کسی کے گھر جاتے ہوئے پہلی دفعہ پہنیں گے ‘‘ کہہ کر الماری میں سنبھال کر رکھ لیتے ہیں۔نیا جوڑا سب سے پہلے نماز میں پہننا ہوتاہے۔ اس نے بال برش کیے ‘ چوٹی گوندھی۔ نیا لباس پہنا۔ سلیقے سے دوپٹہ چہرے کے گرد لپیٹا۔ اور جائے نماز پہ آ کھڑی ہوئی۔ الله اکبر کہہ کر جیسے ہی رفع یدین کیا‘ دل پہ لگی تیسری گرہ بھی ٹوٹ گئی۔مگر وہ مخلوق ہار ماننے کو تیار نہ تھی۔ وہ اس کے کان میں بولنے لگی۔اس کو پچھلے دن کے کام یاد کروانے لگی۔ ذہن میں شک ڈالا کہ یہ دوسری رکعت ہے یا پہلی ؟ اس میں بیٹھنا ہے یا نہیں بیٹھنا؟ پھر ہاشم کا چہرہ دکھانے لگی ‘ مگر اسے علاج مل چکا تھا۔نماز کے دوران ہی حنہ نے اعوذ باﷲ من الشیطٰن الرجیم پڑھ کر بائیں طرف کو تھوک دیا۔ اعوذ باﷲ معجزے کر دیتا ہے۔لوگ آزماتے نہیں ورنہ اس سے بڑی دوا کیا ہوگی کوئی؟

باقی کی نماز سکون سے پڑھی گئی۔

سلام پھیر کر جب ا س نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو سمجھ نہیں آیا کہ کیا مانگے۔دل میں کوئی عجیب سی خوشی ابھری تھی۔ بار بار ادھر ادھر دیکھتی۔ وہ کیسے اٹھ گئی؟ اور اف...یہ اٹھ جانے میں کتنا مزا تھا۔ کتنا سکون تھا۔ اس اندھیرے میں اپنی اندھیر زندگی کے بارے میں اس نور والے سے باتیں کرنا کتنا اچھا لگ رہا تھا۔

(اوہ الله...اوہ الله...سب تعریف آپ کے لئے ہی ہے...آپ نے مجھے فجر دے دی..برسوں بعد میں فجر پہ اٹھی...اوہ الله...) زندگی میں پہلی دفعہ حنین یوسف کو سمجھ آیا تھا کہ رسول اﷲ ﷺ...ہمارے پیارے رسول الله ﷺ ...کیوں ان کو فجر کی دو رکعتیں دنیا میں سب سے زیادہ عزیز تھیں۔ کیوں رحلت فرمانے سے پہلے....آخری سانسوں میں ...وہ فرماتے رہے تھے۔ نماز نماز نماز...اور یہ کیفیت ...یہ وہی ’’چکھ ‘‘ سکتا ہے جو فجر اور تہجد پہ اٹھتا ہے۔

#Namal_Novel

Post a Comment

© Urdu Thoughts.