Apr 9, 2021

کہتے ہیں محمود غزنوی کا دور تھا - When a person became unwell

When a person became unwell, he went to the doctor

And he said that the two doctors who made me medicine said that all the things that are needed for medicine are except honey. If you bring honey from somewhere, I will prepare medicine. Coincidentally, the season was not honey.

The man grabbed the box from Hakim and started knocking on people's doors

But there was disappointment everywhere

کہتے ہیں محمود غزنوی کا دور تھا

ايک شخص کی طبیعت ناساز ہوئی تو طبیب کے پاس گیا

اور کہا کہ مجھے دوائی بنا کے دو طبیب نے کہا کہ دوائی کے لیے جو چیزیں درکار ہیں سب ہیں سواء شہد کے تم اگر شہد کہیں سے لا دو تو میں دوائی تیار کیے دیتا ہوں اتفاق سے موسم شہد کا نہیں تھا ۔۔

اس شخص نے حکیم سے وہ ڈبیا پکڑی اور لوگوں کے دروازے کھٹکھٹانے لگا 

مگر ہر جگہ مایوسی ہوئی

جب مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ محمود غزنوی کے دربار میں حاضر ہوا 

کہتے ہیں وہاں ایاز نے دروازہ کھولا اور دستک دینے والے کی رواداد سنی اس نے وہ چھوٹی سی ڈبیا دی اور کہا کہ مجھے اس میں شہد چاہیے ایاز نے کہا آپ تشریف رکھیے میں بادشاھ سے پوچھ کے بتاتا ہوں 

ایاز وہ ڈبیا لے کر بادشاھ کے سامنے حاضر ہوا اور عرض کی کہ بادشاھ سلامت ایک سائل کو شہد کی ضرورت ہے 

بادشاہ نے وہ ڈبیا لی اور سائیڈ میں رکھ دی ایاز کو کہا کہ تین کین شہد کے اٹھا کے اس کو دے دیے جائیں 

ایاز نے کہا حضور اس کو تو تھوڑی سی چاہیے 

آپ تین کین کیوں دے رہے ہیں 

بادشاھ نے ایاز سے کہا ایاز 

وہ مزدور آدمی ہے اس نے اپنی حیثیت کے مطابق مانگا ہے 

ہم بادشاہ ہیں ہم اپنی حیثیت کے مطابق دینگے ۔

مولانا رومی فرماتے ہیں 

آپ اللہ پاک سے اپنی حیثیت کے مطابق مانگیں وہ اپنی شان کے مطابق عطا کریگا شرط یہ ہے کہ

مانگیں تو صحیح ۔

Post a Comment