May 20, 2021

نمل ناول سے اقتباس - Namal Novel Say Iqtibas

Saadi Yusuf Khan!" He repeated in a loud voice looking at her with eyes full of shock and anger. "Saadi ... Yusuf ... Khan." These are the words that have been used five hundred and fifty-six times in these nineteen hundred good messages. This is the record of all the messages I have sent to them. Removed from backup, I have brought it to show you.

’’سعدی یوسف خان!‘‘ اس نے صدمے اور غصے سے بھری آنکھوں سے اسے دیکھتے اونچی آواز میں دہرایا۔’’سعدی ...یوسف...خان۔ یہ تھے وہ الفاظ جو ان انیس سو بہتر میسیجز میں پانچ سو چھپن دفعہ استعمال ہوئے ہیں، یہ میرے ان تمام میسیجز کا ریکارڈ ہے جو ان کو بھیجے تھے میں نے۔ بیک اپ سے نکالے ہیں میں نے اور آ پ کو دکھانے لائی ہوں۔ دیکھیں اسے۔ پڑھیں اسے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ آ پ کو کیا بتاتا رہا ہے ‘ مگر میں اس سے آپ کی بات کرتی تھی۔ آپ کی ‘ سعدی بھائی‘ آپ کی بات کرتی تھی میں۔‘‘ بولتے بولتے جذبات سے آواز بوجھل ہوئی اور آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ وہ بالکل خالی نظروں سے اسے دیکھے گیا۔

’’پڑھیں ان میسیجز کو۔ نہیں پڑھیں ان کو پلیز ۔ میں نے ہمیشہ ان کو ہاشم بھائی کہا ‘ کبھی غلط بات نہیں کہی ان سے۔ کسی سے ایسی بات کرنا غلط ہے یا صحیح ‘ اس سے قطع نظر میں نے کبھی ان سے ....کوئی.... غلط بات ....نہیں کہی۔ صرف آپ کی یا زمر کی یا گھر میں بڑھتی وحشت کی بات کرتی تھی۔ ہاں میں ان کو پسند کرتی تھی۔ کہیں دور اندر اب بھی پسند کرتی ہوں۔‘‘ اس کی بلند آواز کانپی۔’’مگر کسی کو پسند کرنا گناہ نہیں ہوتا۔ پسند پہ انسان کا اختیار نہیں ہوتا۔ اس کے بعد وہ کیا کرتا ہے ‘ ا س پر ہوتا ہے۔ میرا قصور نہیں ہے اس میں اگر میں ان کو پسند کرتی ہوں۔ جانتے ہیں کس کا قصور ہے؟‘‘

وہ تین قدم آگے بڑھی اور خاموش لب بھنچے کھڑے سعدی کی آنکھوں میں دیکھا۔

’’آپ کا! آپ کا قصور ہے۔‘‘ آنسو اب خشک تھے اور وہ سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتی غرائی تھی۔ ’’آپ تھے جو مجھے ان کے گھر لے کر گئے تھے اس رات جب نوشیرواں نے اغواکا ڈرامہ کیا تھا۔ آپ تھے جو ہاشم کا لاکر کھولنے میں اور اس کا راز جاننے میں اتنے مصروف ہو گئے تھے کہ آپ کو خیال بھی نہیں گزرا کہ آپ کی بہن دوسرے کمرے میں ہاشم کے ساتھ ہے۔ آپ تھے جنہوں نے اس شخص کی اصلیت ڈیڑھ سال ہم سے چھپائی۔ ہمیں دوبارہ ان کے گھر پارٹی پہ لے کر گئے۔ پھر بعد میں آپ مجھے کہتے ہیں کہ اس کو کیوں بلایا کالج؟ ہاں بلایا تھا میں نے ان کو کالج ۔ کیونکہ سعدی بھائی....وہ قاتل ہے ‘ کرپٹ ہے ‘ جھوٹا مکار ہے ‘ مگر وہ جج مینٹل نہیں ہے۔ وہ گلٹی ہے تو دوسرے گلٹی لوگوں کو ایسے جج نہیں کرتا جیسے آپ نیک لوگ ہم گناہگاروں کو جج کرتے ہیں۔ کیوں بلایا میں نے اسے کالج؟ اس لئے کہ مجھے اس سے امید تھی کہ وہ مجھے برا نہیں سمجھے گا۔ آپ سے یہ امید نہیں تھی مجھے۔ کیوں بات کرتی تھی میں اس سے ؟ کیونکہ مجھے کسی نے. ...آپ نے کبھی بتایا ہی نہیں کہ وہ اندر سے کیسا ہے۔ مجھے کیا پتا تھا وہ کیسا ہے؟ صرف یہ کہہ دینا کہ اس کو کبھی نہیں بلانا آئندہ، کافی نہیں ہوتا۔ مجھے وجہ نہیں بتائی ‘ مجھے اس کی اصلیت نہیں دکھائی....پھر مجھ پہ الزام کیوں ڈالتے ہیں؟‘‘ وہ شل کھڑا سن رہا تھا اور وہ آخر میں ٹھہر کر....اس کی آنکھوں پہ نظریں جمائے چبا چبا کر بولی۔

’’میرے دل کا خون کرنے والے ہاتھ میرے نہیں تھے ۔ آپ کے تھے!‘‘ پیر کی ٹھوکر سے ان کاغذوں کو مزید بکھیر دیا۔’’آپ کا فرض تھا مجھے بتانا ‘ مجھے ا س کی اصلیت دکھانا۔ میں انیس سو دس کی لڑکی نہیں ہوں جس کو دھونس زبردستی سے ‘ ڈانٹ ڈپٹ کر آپ کچھ بھی کرنے پہ مجبور کر سکتے ہیں۔ میں اکیسویں صدی کی لڑکی ہوں‘ میرے پاس میرا ذہن ہے اور ذہانت ہے۔ میرے دور کی لڑکیوں کے بھائیوں کو یہ بھول جانا چاہیے کہ وہ غصہ کر کے ‘ حکم دے کر ‘ یا پابندیاں لگا کر اپنی بچیوں کو کسی سے موبائل پہ بات کرنے سے روک سکتے ہیں۔ جب تک وہ برابری کے لیول پہ آ کر ‘ اپنی بہن کے ساتھ بیٹھ کر اس کو دلائل سے نہیں سمجھائیں گے ‘ وہ ان کی بات نہیں مانے گی۔ باہر کے لوگ ہمارا دل ایسے نہیں توڑتے بھائی جیسے ہمارے اپنے مرد ہمیں توڑ جاتے ہیں۔‘'

نمل ناول سے اقتباس 

Post a Comment