May 27, 2021

The House Was Built - کرب ہی کرب

The house was built; beautiful, very beautiful; the viewers were happy. One has to wonder if the occupants of this house will be happy if the onlookers are happy. The one who makes you happy does not have to be happy. Then what is all this? What are we doing? If we are happy, people will not let us be happy, and if we keep people happy, we will not be happy.

مکان بنایا گیا… خوبصورت، بہت ہی خوبصورت…دیکھنے والے خوش ہو گئے۔ سوچنا پڑے گا کہ اگر دیکھنے والے خوش ہوں تو کیا اِس مکان میں رہنے والے لازمی طور پر خوش ہوں گے…!

خوش کرنے والا ضروری تو نہیں کہ خوش رہنے والا بھی ہو۔ پھر یہ سب کیا ہے؟ ہم کیا کر رہے ہیں؟ اگر ہم خوش ہوں تو لوگ خوش نہیں رہنے دیتے اور اگر لوگوں کو خوش رکھا جائے تو ہم … رہتے ہی نہیں ‘خوش کہاں سے رہیں گے!

کیا لوگ ہمارے مقدر کا غیر معاون حِصّہ تو نہیں۔ ہر آدمی اپنے علاوہ گروہ کو لوگ کہتا ہے ،خود بھی اسُی گروہ میں شامل ہے لیکن وہ خود کو شامل نہیں سمجھتا۔ خود کو کردار سمجھتا ہے اور دوسروں کو کردار کُش… ہم سب ایک سمت کو چل رہے ہیں اور سب کا رُخ الگ الگ ہے۔ سب ‘سب سے نالاں ہیں۔ سب ‘سب سے اجنبی ہیں۔ سب ‘سب سے بیزار ہیں… سب ‘سب کے ہمراہ ہیں اور سب ‘سب سے جدا ہیں…سب کے سب مشکل میں ہیں اور سب کے سب بھاگ رہے ہیں اور کوئی کسی کو راستہ نہیں دیتا۔ سب بظاہر متحرک اِنسان ایک ظالم جمود اور تعطّل کا شکار ہیں۔ سب بِھیڑ میں شامل ہیں اور سارے اکیلے ہیں۔ ہم سب اکیلے ہیں… اور اِس دنیا میں اکیلے لوگوں کے ہی میلے ہیں… سب سوچ رہے ہیں کہ آخر سوچ مفلوج کیوں ہے؟ کیا لوگوں کو نفرت سے محبت ہے یا محبت سے نفرت ہے؟ لوگوں کو کیا ہو گیا؟ سب کو سب کی نظر لگ گئی ہے اور سارے منظورِ نظر بننے کے آرزو مند ہیں ‘لیکن کس کے …ایسا کوئی نظر نہیں آتا!! عجب حال ہے۔ 

ہمیں لا شعوری طور پر کسی شدید خطرے کا احساس ہے۔ ہم اِسی لیے بھاگ رہے ہیں‘ لیکن خطرہ کیا ہے‘ یہ معلوم نہیں۔ خطرہ ہمارے پیچھے بھاگتا ہے… نہیں… خطرہ تو ہمارے ساتھ بھاگ رہا ہے… ہمارے ہمراہ ہے… ہمارے سامنے ہے۔ ہم اپنے لیے خود ہی خطرہ ہیں۔ ہم خود ہی اپنے محبوب ہیں اور خود ہی حاسد ہیں۔ ہم اپنے ہی سب سے بڑے دوست ہیں اور خود ہی سب سے بڑے دشمن! 

ہم بڑے کرب میں ہیں۔ کرب ہمارے دَور کی سب سے قوی علامت ہے۔ ہم نے خود ہی ایک مُلک بنایا اور خود ہی سوچ رہے ہیں کہ ہم نے اِسے کیوں بنایا! 

ہم کہتے ہیں کہ ہم نے اِسے اِ سلام کے لیے بنایا… عجب بات ہے … صحیح بات ہے ۔ بنانے والے مسلمان تھے۔ کتنے بڑے مسلمان تھے جنہوں نے ملک بنایا اور کتنا بڑا تھا اِس قافلے کا سالار…بڑا اور سچا مسلمان … لیکن کچھ اسلامی گروہ مخالف تھے۔ کون صحیح مسلمان تھا؟ بنانے والا یا مخالف…؟ کتنا اِسلام چاہیے‘ پاکستان کو قائم رکھنے کے لیے … جتنا قائداعظمؒ کے پاس اِسلام تھا۔ اِس سے زیادہ یا اِس کے علاوہ اِسلام کی کیا ضرورت ہے؟ اگر ضرورت ہے تو قائداعظم ؒ کی اِسلام کے حوالے سے کیا افادیت ہے؟ اُس کا اِسلامی تشخص کیا ہے؟ ہمارے خیال میں وہ تشخص مکمل ہے۔ اسلامی ہے۔ پاکستان بنانے کی حد تک تو اسلام آج سے نصف صدی پہلے ہی موجود تھا‘ اب مزید موجودگی کیا ہے۔ غور طلب بات ہے ‘پاکستان کی خاطر جان دینے والوں کا ایمان مکمل نہ ہو تو اُن کی موت شہادت نہیں ہے۔ اگر شہادت ہے تو وہ ایمان کامل ہو سکتا ہے۔ جس اسلام نے وحدتِ عمل پیدا کی ‘وہی اِسلام برحق تھا۔ وحدتِ فکر‘ اقبال ؒنے پیدا کی۔ اُس کا اِسلام برحق تھا۔ اب اور کیا چاہیے؟ 

جس بات سے قوم میں وحدت ِعمل پیدا نہ ہو ‘وہ اِسلام تو نہیں ہو سکتا…علما صاحبان فیصلہ کریں…ورنہ کرب ِمسلسل رہے گا،لوگ اذیت میں مبتلا رہیں گے۔ جس اِسلام نے مُلک بنایا ‘اب اُسی اِسلام سے ہی اِس کی بقا قائم ہو سکتی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں اور سچ ہی تو کہتے ہیں کہ قیامِ پاکستان جمہوریت کے لیے تھا۔ مسلمانوں کی اکثریت نے مُلک بنایا… بجا… دُرُست ۔ یہ اکثریت‘ ہندو اکثریت میں اقلیت تھی یعنی اقلیت کے اکثریتی فیصلے سے ملک بنا… عجب بات ہے ‘اقلیت کا اکثریتی فیصلہ…بڑا طاقتور ہوتا ہے …خدا نہ کرے آئندہ بھی ایسا ہو…ممکن ہے ایسا ہی ہو! بہرحال کرب کا عالم ہے۔ صاحبانِ فکر بڑے کرب میں ہیں کہ جمہوریت کے داعی حکومت میں بھی ہیں اور جمہوریت کے پرستار سڑکوں پر بھی ہیں…! اصل جمہوریت کے طالب کون ہیں؟ جمہوریت ہی جمہوریت ہے۔ کرب ہی کرب ہے۔ اللہ خیر کرے۔ اندیشے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ 

ہمیں ہر طرف سے خطرہ ہے۔ آخر کیوں ہے؟ ہمارا کیا قصور ہے؟ ہم ڈر رہے ہیں‘ ہم کیوں ڈر رہے ہیں؟ ہمیں ڈر سے نجات دلانے کے داعی خود تو نہیں ڈر رہے؟ نہیں نہیں‘ ایسے نہیں ہو سکتا… ممکن ہے ایسے ہی ہو‘خدا کرے ایسے نہ ہو ! ! لیکن …لیکن کچھ نہیں…!!

ہم نے کامیابی کا معیار ہی غلط بنا رکھا ہے۔ ہم طاقت، شہرت، دولت ، مرتبے کو کامیابی کہتے ہیں۔ کامیابی یہ تو نہیں۔ کیا ہم نے آخرت پر ایمان چھوڑ دیا… ممکن ہے ایسے ہی ہو… کامیابی مغرب کی تقلید میں نہیں…کامیابی تو اللہ کے حبیبA کے تقرّب میں ہے۔ ہم بھول گئے۔ شاید ہم خدا پر بھروسہ کرنے کے بجائے ووٹ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ووٹ گنتی کا نام ہے‘ وزن کرنے اور تولنے کا نام نہیں۔ جھوٹے لوگوں کے ووٹ سے سچا انسان کیسے آگے آسکتا ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ ووٹ کے بغیر سچا آدمی کیسے سامنے آسکتا ہے۔ صداقتیں شہید ہوتی رہتی ہیں… اب یہ سلسلہ ختم ہو جانا چاہیے۔ صداقت کے سرفراز ہونے کا وقت کب آئے گا…؟ آئے گا…ضرور آئے گا…لیکن کب… لیکن … کچھ نہیں، خاموشی سے کرب برداشت کرتے چلو… بولنے سے بات اُلجھ جاتی ہے۔ بات کو اُلجھنا نہیں چاہیے‘ لہٰذا کرب بہتر ہے۔ اِسے اپنا نصیب سمجھ کر قبول کر لیا جائے… کیسے کریں؟ کرب ناک بات ہے۔ اللہ زمین اور آسمانوں کا مالک ہے۔ اُس کی مسجد کے لیے چندہ چاہیے؟ کلمۂ کفر ہے… لیکن ہے… خدا ہمیں ہمارے شر سے محفوط کرے۔ خدا ہمارے دل میں پیدا ہونے والے شبہات کو غرق کرے۔ کوئی ایسا سیلاب جو ہمارے اندیشوں کو بہا لے جائے… لیکن سیلاب…خدا کرے سیلاب نہ آئے ۔ سیلاب بُری شے ہے ‘اندیشوں کے ساتھ ہی گزر کریں گے…آخر ہم عادی ہو چکے ہیں۔ ہم اندیشوں کی چادر بنائیں گے اور پھر اِس چادر کوتان کر سو جائیں گے۔ ہم خواب اور خیال کے پرستار ہیں۔ اے اللہ! ہمیں اچھے اچھے خواب دکھا… ہم حقیقت اور حقائق دیکھنے اور سوچنے کے کرب سے نجات چاہتے ہیں۔ یا اللہ! ہمیں نجات دے!!

Post a Comment