May 30, 2021

These Seasons Change On Their Own - بات سے بات

However, these seasons change on their own. When the desire to travel turns into a desire for rest, understand that a new season has come; a season of peace, a time of rest, a day of remembrance, a time of worship at home, a time of advice, a day of caution, a time of health. , The calculation of the course of life, the echo of the sins committed and not committed…! Man wonders why he has changed so much. In fact, age changes, the idea itself changes. Youth is not our fault, nor is old age our fault. 

سلسلہ: واصفیات

کتاب: "قطرہ قطرہ قلزم"

مصنف: حضرت واصف علی واصف علیہ الرحمتہ

مضمون : بات سے بات

بات سے بات 

 بہر حال یہ موسم خود ہی بدلتے ہیں۔ سفر کی تمنّا جب آرام کی خواہش میں بدل جائے‘ تو سمجھ لیجیے کہ ایک نیا موسم آگیا… سکون کا موسم، آرام کا زمانہ، یادوں کے دِن، گھر کے اندر عبادت کے زمانے ، نصیحتوں کا وقت، احتیاط کے ایّام، صحت کا خیال، زندگی کی کار گُزاری کا حساب، کردہ اور نا کردہ خطائوں کی بازگشت…! 

 اِنسان حیران ہو جاتا ہے کہ وہ اِتنا کیوں بدل گیا۔ دَراصل عمر بدل جاتی ہے، خیال خود ہی بدل جاتا ہے۔ نہ جوانی ہمارا قصور ہے، نہ بُڑھاپا ہماری غلطی۔ یہ سب موسم زندگی کے اپنے موسم ہیں۔ اِن موسموں سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ 

 پھر ایک موسم آتا ہے۔ آخری پت جھڑ کا موسم۔ لاکھ کوشش کرو‘ ٹھہر نہیں سکتے۔ دِیواریں قائم رہتی ہیں اور مکان اندر سے زمیں بوس ہو جاتا ہے، وجود کے اندر کچھ بھی تو موجود نہیں رہتا۔ کہاں گئے سب کرشمے، سب قواء، سب رنگ، کیا ہُوا۔ اِس میں اِنسان کا کیا قصور۔ عظیم پہاڑ، سنگلاخ چٹانیں‘ریت کا ڈھیر!

 اِنسان احتیاط کرے ‘ تو بھی کچھ نہیں کر سکتا ۔ کیا اِنسان فصل کی طرح پیدا ہوتا ہے؟ مولی گاجر کی طرح۔ موسم سے آیا اور موسم کے دَم سے زِندہ رہا اور موسم کے ساتھ رُخصت ہو گیا؟ کیا اِنسان کچھ بھی نہیں؟ کیا اِنسان اپنے ہونے میں بھی کچھ نہیں ہے؟ کیا انسان ریکارڈ شدہ کیسٹ کی طرح ہے؟ بس چلتا رہا اور پھر ختم ہو گیا؟ کیا سب کچھ کا تبِ تقدیر کا ہے؟ اگر یہ سب کچھ اُس کا ہے تو پھر اِنسان کا کیا ہے؟ 

 اِنسان کو یہی بات تو مشکل معلوم ہوتی ہے۔ آزادی کیا ہے؟ آزادی کتنی ہے؟ مجبوری کیا ہے؟ مجبوری کِس حدتک ہے؟ 

 اِنسان کو عقل دی گئی۔ عقل کا اِستعمال بھی ضروری ہے‘ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ کم عقل یا بے عقل اِنسان بھی عقل کا استعمال کرتا ہے۔ اِس دنیا کی رَونقیں عقل کے دَم سے ہیں۔ عقل نے اِنسان کو ستاروں کی بلندیوں تک پہنچایا ہے‘ لیکن ستاروں کی گُزرگاہوں کو ڈھونڈنے والا اِنسان‘ یہ نہ معلوم کر سکا کہ زِندگی کا راز کیا ہے!

 زِندگی رَونقوں میں گُزرتی ہے اور راز تنہائیوں میں ملتے ہیں۔ راز بتائے نہیں جاتے‘ راز آگہی یا راز آشنائی کا راستہ دِکھایا جاتا ہے۔ اِجتماع کا راز اور ہے‘ اور انسان کا راز اور! اِجتماع ضرورت کے راز میں مبتلا رہتا ہے۔ ضرورتیں پوری کرنا، اِجتماعی مسائل کا حل سوچنا، شہر بنانا، شہری زِندگی کی آسائشوں کا خیال رکھنا، صحت کے لیے شفا خانوں کا انتظام ، تعلیم کے لیے سکول کالج بنانا، پانی کا حصول اور پانی کا نکاس، سڑکوں، روشنیوں اور دفتروں کا اہتمام، نیز اخبار، ریڈیو، ٹی وی وغیرہ ‘یہ سب اِجتماعی ضرورت کی باتیں ہیں۔ سفر وغیرہ کی سہولتیں ہر بامعنی معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ 

 اِجتماع اِس بات سے بے خبر اور بے نیاز ہوتا ہے کہ کسی شہر کی ساٹھ لاکھ کی آبادی ساٹھ سال میں مکمل طورپر ختم ہو چکی ہوتی ہے اور اُس کی جگہ نئے لوگ اُتنی بلکہ اُس سے بھی زیادہ تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔ شہروہی رہتے ہیں‘ شہری بدل جاتے ہیں۔ ہمارے زمانے کے کلاس رُوم آج بھی طلبہ سے بھرے ہوتے ہیں‘ لیکن ہمارے ساتھ پڑھنے والے لوگ ایک ایک کر کے رُخصت ہوتے جاتے ہیں یعنی دُنیا آباد رہتی ہے اور لوگ ختم ہوتے رہتے ہیں۔ ہم زندہ رہیں تو بھی کچھ عرصہ کے بعد ہم محسوس کرتے ہیں کہ نا آشنا لوگوں میں ہیں۔ آشنا بِکھر جاتے ہیں اور نا آشنا موجود پائے جاتے ہیں۔ مِل کر رہنے والے الگ الگ رُخصت ہوتے ہیں۔ ہسپتال اپنی اہمیت اور افادیّت کے سہارے قائم رہتے ہیں اور ڈاکٹر مریضوں کی جان بچاتے بچاتے خود ہی کسی دِن جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اِس سے مفر نہیں۔ 

 جب جانا لازم ٹھہرا تو ٹھہرنے کے لیے کیا لازم ہے؟ جب سامان لَد ہی جانا ہے تو کتنا سامان درکار ہے؟ 

 اِنسان علم حاصل کرتا ہے‘ دانائی کا علم۔ دانا لوگوں کی باتیں پڑھتا ہے۔ رُوحانی اور دُنیاوی زندگی کے سپہ سالاروں اور شہسواروں کی زندگی اور اُن کے علوم کی داستانیں، اُن کے ہم عصر اور ہم نوائوں کی گواہی کے قصے پڑھتا ہے تو اِنسان یہ بھُول جاتا ہے کہ دانائی کتاب سے حاصل نہیں ہوتی۔ دانا کی زندگی کا علم دانائی نہیں‘ دانا کی زندگی کا عمل دانائی ہے۔ مثلاً ریت کے تپتے ہوئے صحرا میں عظیم انسان Aکا دِیا ہُوا خُطبہ‘ دانائی کا شہکار خطبہ‘اگر ہم کسی ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر پڑھیں تو ہمیں کتنا فیض ملے گا ۔ عمل‘ عمل کے تابع نہ ہو تو علم‘ علم کے مطابق نہیں رہتا۔ راز کی بات تو یہ ہے کہ راز جاننے والے کا عمل ہی راز آشنائی کا ذریعہ ہے۔ 

 اگر موسم بدل جائے تو خیال بدل جاتا ہے۔ شاعروں نے گھنگھُور گھٹائوں کو توبہ شِکن کہا ہے۔ سورج سر پر ہو‘تو سجدہ بھی رَوا نہیں۔ یہ عجب بات ہے کہ اِنسان کی عبادت‘ اوقات کے ساتھ ہے۔ نماز قائم کرنے کا حکم ہے اور اِس کے وقت مقرر ہیں۔ اِن اوقات کے باہر یا بعد‘ نماز کی اِجازت ہی نہیں۔ فجر کی نماز فجر ہی کو ادا کی جاتی ہے۔ ہمہ حال ایک حال میں رہنے کا عمل اِس لیے مشکل ہے کہ کائنات کی کوئی چیز ہمیشہ ایک حالت میں نہیں رہ سکتی۔ 

 اِنسان ہمیشہ بدلتا رہتا ہے اور وہ ہمیشہ ایک سا ہی رہتا ہے۔ صحت خراب ہو تو کوئی موسم بھی خوشگوار نہیں اور صحت خوشگوار ہو تو کوئی موسم خراب نہیں ہوتا۔ 

 بُرے اِنسان کو ہر وقت بُرائی کا موقع مل جاتا ہے۔ اچھے کو اچھائی میّسر آہی جاتی ہے۔ ایمان والے ہر حال میں ایمان پر قائم رہتے ہیں۔ کافر ہر لمحہ اپنے کُفر پر کار بند رہتا ہے۔ وعدہ شکن‘ کوئی بھی تو وعدہ پورا نہیں کرتا۔ بے وفا‘وفا کے بدلے میں ہی تو بے وفائیاں کرتا ہے۔ محبت والے‘ محبت کرتے رہتے ہیں۔ اہلِ دِل حضرات ذرّے ذّرے میں دھڑکنیں محسوس کرتے ہیں اور پتھر دِل اِنسانوں کو اِحساس کی دولت سے محروم ہونے کا بھی اِحساس نہیں ہوتا۔ کل کے دعوے آج کی معذرت بن جاتے ہیں۔ سیاست ہمیشہ میدان میں رہتی ہے اور حکومت ایوان میں۔ غریبوں کی حالت بدلنے کا دعویٰ کرنے والے خود غریبی کے ذائقے سے نا آشنا ہوتے ہیں۔ 

 اِنسان عجب مخلوق ہے۔ خود تماشا ہے اور خود ہی تماشائی۔ اِنسان خود ہی میلہ لگاتا ہے اور خود ہی میلہ دیکھنے نکلتا ہے۔ ہجوم میں ہر اِنسان ہجوم کا حِصّہ ہے اور ہر اِنسان اپنے علاوہ اِنسانوں کو ہجوم کہتا ہے۔ تنہائیاں اِکھٹی ہو جائیں تو میلے بن جاتے ہیں۔ ننھے چراغ مل کر چراغاں بن جاتے ہیں۔ 

 ایک زندگی کتنے اَدوار سے گُزرتی ہے۔ اِس کا اندازہ لگانا بڑا مشکل ہے۔ بچپن کے کھیل، بچپن کے کھلونے، بچپن کے ساتھ ‘چند دِنوں کی بات ہے۔ دِن گُزر گئے۔ کھیل ختم ہو گئے۔ بچّہ بھول گیا کہ اُس نے کون کون سے کھیل کھیلے۔ کون کون سی آرزوئیں اور تمنّائیں تھیں‘ بچپن میں۔ بس وہ دِن گئے اور وہ باتیں بھی گئیں۔

 جوانی آئی۔ اپنے ساتھ نئے تقاضے، نئے ساتھی، نئی تمنّائیں، نئے قہقہے، نئے آنسو، نئے عزائم اور نئے حوصلے لائی۔ پہاڑوں کی سیر، دریائوں کے کنارے ، باغوں کی بہار، سفر کے پروگرام… ہر وقت نئی بات، نئے خیال، نئی کتابیں، محنتیں ، تعلیم، حصولِ مراد‘ غرضیکہ ایک نیا سلسلہ ہے جو جوانی کے نام پر اِنسان پر نازل ہوتا ہے۔ اِنسان چلتا ہے اور چلتا ہی رہتا ہے۔ بُلند مقامات، مشکل مراحل، مہم جوئی، محنت طلبی، شعر و شاعری‘ جوانی کے مشاغل ہیں۔ جوانی کھیلتی ہے۔ جوان آدمی ‘جواں ہِمّت ہوتا ہے۔ جواں دِل ملیں تو موسم بلکہ ہر موسم خوشگوار ہوتا ہے۔ جوانی دلچسپیوں اور وابستگیوں کے چند طلسماتی ایّام کا نام ہے۔ طلسماتی اِس لیے کہ اِن دنوں میں بڑے رَمُوز آشکار ہوتے ہیں۔ اِنسان کو اپنے آپ میں کئی جلوے نظر آتے ہیں۔ جوانی بد صورتی کو بھی دیدہ زیب بنا دیتی ہے۔ جوانی افکار کی بہار کا موسم ہے۔ جوانی فاصلے طے کرتی ہے… دِلوں کے فاصلے، وقت کے فاصلے، زمانوں کے فاصلے۔ جوانی جامے سے باہر نکلتی ہے۔ حدود سے آزاد ہونا چاہتی ہے۔ جوانی کچھ نہ کچھ کرنا چاہتی ہے۔ کچھ نہ کچھ… خواہ وہ غلطی ہی کیوں نہ ہو۔ جوانی موجِ دریا ہے۔ کناروں سے ٹکراتی ہے اور کناروں سے نکل جاتی ہے۔ جوانی اپنے کرشمے دکھاتی رہتی ہے۔ دِن کو چہرے دِکھاتی ہے اور رات کو تارے دِکھاتی ہے۔ جوانی کے پاس ایک انوکھا کرشمہ ہوتا ہے۔ جوانی اِنسان کے خون کی گرمیاں لے کر چُپکے سے رُخصت ہو جاتی ہے۔ یہ جوانی کا آخری کرشمہ ہوتا ہے۔ 

 اِنسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ تاروں کی محفل ماندکیوں پڑ گئی۔ وابستگیاں‘ بے اعتنائیوں میں کیوں بدل گئیں۔ اپنے ‘اجنبی کیسے ہو گئے۔ اِس میں انسان کا اپنا جُرم یا اپنی خوبی کا دخل نہیں۔ یہ صرف موسم بدلنے کے نتیجے ہیں۔ عمر کا موسم بدل گیا، ذائقے بدل گئے، پروگرام بدل گئے، سرگرمیاں بدل گئیں، سب کچھ بدل گیا… موسم بدلنے کا وقت آجائے تو وقت کا موسم بدل جاتا ہے۔ ہر وِصال‘ فراق سے گُزرتا ہے۔ اِنسان اپنی مسرتوں کے زمانوں کی یادیں آنسوئوں سے تحریر کرتا ہے۔ تاج محل جوانی کے غم کی تحریر ہے اور یہ تحریر اتنی دِل پذیر ہے کہ اِس کی جاذبیّت سے اِنسان غم بھول جاتا ہے۔ جوانی کا غم‘ شاعر کے دِل سے گزرے تو یہ غم‘ نوائے سروش بن جاتا ہے۔ 

 آج ہم دیکھتے ہیں کہ سُقراط کا علم جاننے والا سُقراط نہیں بن سکتا۔ اِس لیے کہ سُقراط کسی کتاب کو پڑھنے کے بعد سُقراط نہیں بنا۔ سیرت پر کتابیں لکھنے والا ضروری نہیں کہ مسلمان ہی ہو۔ غیر مسلموں نے بھی نعت کہی ہے اور بہت اعلیٰ بھی! 

 آج کا اِنسان راز آشنائوں کو پڑھتا ہے ‘ راز نہیں جانتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا اِنسان محنت کے باوجود سکون سے محروم ہے۔ اِس کا علم تقریباً لا محدود ہے اور عمل تقریباً مفقود۔ لا محدود آرزوئیں محدود زندگی کو عذاب بنا دیتی ہیں۔ آج کا عصری کرب یہی ہے کہ اِنسان کثیر المقاصد ہو کر رہ گیا ہے۔ آج کا اِنسان مذہب سے آزادی چاہتا ہے‘اِس لیے کہ مذہب عمل کی دعوت دیتا ہے اور عمل پر کار بند اِنسان‘ انفارمیشن کے بیشتر علوم کو غیر ضروری سمجھنے لگتا ہے۔ آج کا اِنسان مقدّر سے جھگڑا کرتا ہے۔ وہ کسی تقدیر کو ماننا اپنی توہین سمجھتا ہے۔ وہ خود بناتا ہے اپنی زندگی اور زندگی ‘محبت کی طرح بنتے بنتے بِگڑ جاتی ہے۔ اِنسان مقدّر کو کوستا ہے۔ مانتا بھی نہیں اور چھوڑتا بھی نہیں۔ مقدّر اور اِنسان ہمیشہ اِکٹھے رہتے ہیں اور ہمیشہ جھگڑا کرتے ہیں۔ آزادی کی تمنّا‘ مجبوریوں میں پرورش پا رہی ہے۔ یہی راز ہے کہ راز بیان نہیں ہو سکتا۔ 

 دانائی اور حِکمت کا میّسر آنا کسی کوشش یا علم یا عمل کا نتیجہ نہیں۔ مکھی شہد بناتی ہے۔ جُگنو روشنی رکھتا ہے۔ اِسی طرح دانا اِنسان دانائی رکھتا ہے۔ پُرانے زمانے میں لائبریریاں تو نہیں تھیں‘ لیکن دانائی تھی۔ کتابیں نہیں تھیں‘ لیکن پیغمبر تھے۔ آسائشیں نہیں تھیں‘ لیکن زندگی پُرسکون تھی۔

 دانا کیسے بنتاہے، کامیابی کیسے آتی ہے، سکون کہاں سے ملتا ہے، خوشی کہاں سے نازل ہوتی ہے ، راز کِدھر سے دریافت ہوتا ہے؟ بس ایسے ہی‘ جیسے اِنسان بنتا ہے۔ اِنسان کا پیدا ہونا ہی اُس کے نصیب کے پیدا ہونے کے ساتھ ہے۔ 

 کبھی کبھی نیکی بھی ایسے آتی ہے جیسے بارش۔ کبھی کبھی بُرائی ایک راستے کی طرح پائوں کے نیچے آجاتی ہے۔ رات سے دِن اور دِن سے رات، عِزّت ذِلّت، تعیناتی اور معزولی ہوتی ہی رہتی ہے۔ 

 ہم جس پیشہ میں آج معزّز ہیں‘ یہ بھی کسی اور رُخ میں ناکامی کا نتیجہ ہے۔ ہم ایک شعبے میں سَر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں اور جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اور بھی شعبے ہیں‘ دریافت کرنے والے‘ تو ہم اُلجھ جاتے ہیں اور یہ اُلجھائو خَرد کی گُتھیاں کہلاتا ہے۔ وجدان اور جنون نہ ہوں‘ تو گُتھیاں نہیں سلجھتیں۔ مقصد ِحیات ‘ عملِ حیات سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ راز ِہستی ‘رونقِ ہستی کے علاوہ بھی ہو سکتا ہے۔ نصیب اور کوشش یکجا بھی ہو سکتے ہیں اور الگ الگ بھی ۔ اِنسان اور مقدّر کی صلح بھی ہو سکتی ہے۔ کارزارِ حیات‘ گُلزارِ حیات میں بھی بدل سکتا ہے۔ اگر پیدا ہونے اور مرنے کا اِختیار اِنسان کو مل جائے ‘تو زندگی بنانے کا اختیار اُس کا اپنا ہے۔ اگر دُنیا کی رونقوں میں میرے ہونے اور نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو مجھے رونقوں سے کیا حاصل! 

 میری اولاد‘ نہ میرے منصب پر فائز ہو سکتی ہے، نہ میرے علم کی وارث۔ نہ اِس کا خیال مجھ جیسا، نہ اِس کا عمل میرے عمل کے برابر۔ میری اولاد مجھ سے اجنبی ہی رہتی ہے۔ پھر بھی اِس اولاد کے لیے میں کیا کیا جتن کرتا ہوں۔ کہاں کہاں سے کیسے کیسے گزرتا ہوں‘ کِس کے لیے؟ بے حِس کے لیے؟ میں نے جس کے لیے جو کیا‘ اُسے اِس کا اِحساس نہیں۔ پھر میری زندگی کا مقصد وہ تو نہ ہُوا‘جو میں نے سمجھا، جو میں نے بنایا۔ میری محنت میرے کام نہ آئی۔ دوسروں کے کیا کام آئی ہو گی۔ پھر بھی میرا دعویٰ ہے کہ میں ہی صحیح ہوں، میرا پیشہ ہی صحیح ہے۔ میری کاروائیاں اور میرے کارنامے ہی عجائبات ِزمانہ میں سے ہیں۔ لیکن مجھے کون بتائے کہ ایسا نہیں ہے۔ میں کسی کی سنتا نہیں، کسی کی مانتا نہیں…پھر وہ دِن آپہنچتا ہے جب میرے اعمال اپنے نتیجے سے گُزر کر میرے سامنے آتے ہیں۔ اپنا اصل چہرہ جب اپنے رُوبرُو آتا ہے‘ تو سب دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم وہ نہیں تھے‘ جو ہم بنے ہوئے تھے‘ ہم بہرُوپ کے سرُوپ میں گُم تھے۔ ہم تعریف سُننے کے لیے جھوٹے مداحوں کو اکٹھا کرتے ہیں اور جب راز آشنا مل جاتا ہے تو ہم حیرت میں گُم ہو جاتے ہیں۔ حیرت میں گُم ہونا ہی راز کے سُراغ کا نقشِ اوّل ہے۔ حیرت میں گُم ہونا‘ اپنے آپ میں گُم ہونا ہے۔ جو اپنے آپ میں گُم ہو گیا‘ اُس نے اپنا آپ دریافت کر لیا، جس نے اپنا آپ دریافت کر لیا ‘اُس نے راز دریافت کر لیا۔ راز کو دریافت کیا جاتا ہے‘ بتایا اور پوچھا نہیں جاتا۔ جس کو راز مل گیا‘ اُس نے زندگی میں موت اور موت میں زندگی کو دیکھ لیا۔ قطرہ قلزم آشنا نہ ہو‘تو قرار کیسے پائے۔ اپنے ہونے کا مقصد اپنے نہ ہونے سے پہلے ہی دریافت کر لیا جائے۔ کم ازکم اِتنا تو جان لیا جائے کہ مجھ میں میرا اپنا عمل کس حد تک ہے اور کسی اور طاقت کا عمل کس حد تک! وہ طاقت اگر مقدّر یا نصیب ہی ہو تو کیا حرج ہے!حُسنِ تدبیر ہی اگر حُسنِ تقدیر ہو جائے‘ تو کیا بات ہے!

Post a Comment