Jun 20, 2021

واک کا آئیڈیا بہت برا تھا ابا - I had a bad idea for a walk

I had a bad idea for a walk, Dad. I'm snowing. It was snowing a long time ago. Maybe you don't even know." He was angry. She was sitting in front of him rubbing both her hands, on her knees, on the grass. She was looking at him silently around the tall trees covered in fog. There was sadness but fatigue in his brown eyes. I know he's innocent. He's good. He'll take care of me. But I don't deserve it." I have nothing to give him. I become ice for him and I don't want to melt. "

’’واک کا آئیڈیا بہت برا تھا ابا‘ میں برف ہو رہی ہوں۔‘‘

’’تم عرصہ پہلے برف ہو گئی تھیں۔شاید تمہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے۔‘‘ وہ خفا تھے۔ وہ دونوں ہاتھ رگڑتی ان کے سامنے آ بیٹھی ‘ پنجوں کے بل ‘ وہیں گھاس پہ۔دھند میں ڈوبے اونچے درخت ارگرد خاموشی سے اس کو دیکھ رہے تھے۔ اس کی بھوری آنکھوں میں خفگی مگر تکان تھی۔

’’مجھے پتا ہے وہ بے گناہ ہے ‘ یہ بھی کہ وہ اچھا ہے ‘ اور یہ بھی کہ میرا خیال رکھے گا ‘ لیکن میں اس کو ڈیزرو نہیں کرتی ۔ میرے پاس اس کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔میں اس کے لئے برف کی بن جاتی ہوں اور میں پگھلنا نہیں چاہتی۔‘‘

’’تو کیا تم اس کو بھی برف کا بنانا چاہتی ہو؟‘‘

اور اس فقرے پہ تو وہ اس ٹھنڈ میں بھی اندر تک جل گئی۔’’ابا۔‘‘ شکایت سی ابھری بھوری آنکھوں میں۔

’’تم سعدی کے لئے بھی ایسی ہو گئی تھیں۔تم ہر وقت جمع تفریق کرتی رہتی ہو۔ خود سے باتیں فرض کر کے ان کو ذہن میں بڑھا چڑھا دیتی ہو۔ لیکن سچی محبت سے کیے گئے کام جمے ہوئے دل کو پگھلا دیتے ہیں۔ اور کچھ لوگ اس قابل ہوتے ہیں کہ ان کے لئے پگھلا جائے۔‘‘ 

’’مگر کیسے پگھلوں میں؟‘‘ اس نے ہار مان لی تھی۔ نگاہیں دور انیکسی کی طرف جاتے فارس پہ جمی تھیں جو دھند میں دھندلا نظر آرہا تھا۔

’’یہ فریزر کیسے پگھلایا جاتا ہے؟ کیسے؟ اس کاسوئچ نکال دیا جاتا ہے‘ اس کا اس کی پرانی زندگی سے سارا رابطہ منقطع کر دیا جاتا ہے۔ تاکہ اس کو ماضی کی توانائی ‘ پرانی یادیں‘ کچھ بھی نہ مل سکے۔ اور پھر اس کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ محبت کھلا دروازہ ہوتی ہے زمر...تازہ ہوا کو آنے دو۔ دروازہ کھول دو۔ اس نے یہ اور یہ کیا‘ میں نے یہ کیا‘ یہ سب کچھ بھول کر چند لمحوں کے لئے۔پھر ساری برف خود بخود پگھل جائے گی۔‘‘

وہ سنتی رہی۔پھر تکان سے مسکرائی‘ اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ ابا کی بات مکمل ہوئی ‘ اور ا س کی واک۔ واپسی کا سفر خاموشی سے کٹا۔ ابا نے پھر کچھ نہیں کہا۔ وہ کہہ کر چھوڑ دیا کرتے تھے ۔ پیچھے پڑ جانا اوربا بار دہرانا ‘ اولاد کو ڈھیٹ بناتا ہے ‘ اور ابا ایسا نہیں چاہتے تھے۔ 

نمل ناول 

Post a Comment