Jun 11, 2021

میں نے ایک دفعہ ایک نظم پڑھی تھی - I Once Read A Poem

I once read a poem which told me that if a man is like a tree, some of his friends are like leaves. These seemingly beautiful leaves are  their food from this tree and as soon as the severe weather comes, they are the first to fall off. Some friends are like branches. They claim that they will stay with you and take all the energy and food from you.

’’ میں نے ایک دفعہ ایک نظم پڑھی تھی جس نے مجھے یہ بتایا تھا کہ اگرانسان درخت جیسا ہے تو اس کے کچھ دوست پتوں جیسے ہوتے ہیں۔ بظاہر خوشنما لگنے والے یہ پتے اپنی خوراک اسی درخت سے چوس رہے ہوتے ہیں اور جیسے ہی سخت موسم آتا ہے ‘ وہ سب سے پہلے جھڑ جاتے ہیں۔

کچھ دوست شاخوں کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ تمہارے ساتھ رہیں گے اور تم سے ....یعنی درخت سے ....ساری توانائی اور خوراک لے کر جب یہ پھیلنے لگتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ درخت کا قد اور شان بڑھا رہے ہیں حالانکہ یہ صرف خود کو بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ یہ موسم کی سختی برداشت کر لیتے ہیں مگر کوئی دوسرا آ کے ان پہ دباؤ ڈالے تو اس کا وزن نہیں سہہ سکتے اور ٹوٹ کے گر جاتے ہیں۔ ایسی کمزور شاخیں بھی ان خوشنما پتوں کی طرح بے کار ہوتی ہیں۔ تمہیں ان دونوں کی ضرورت نہیں ہے ۔‘‘

’’اور تیسری قسم کے دوست ؟‘‘

’’وہ جڑوں کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ تمہارے قدم مضبوط کرتے ہیں۔ موسم کی تبدیلی یا لوگوں کی باتیں‘ کوئی بھی ان پہ اثر نہیں کرتی ۔ وہ تمہیں تمہاری زمین سے جوڑے رکھتے ہیں۔ان کو کوئی نمودو نمائش یا تعریف نہیں چاہیے ہوتی ۔ وہ تم سے کوئی فائدے نہیں لیتے ۔ وہ بس تمہیں گرنے سے بچانے کے لئے وہاں موجود ہوتے ہیں۔ تمہیں‘ تالیہ ‘ یہ ڈیسائڈ کرنا ہے کہ تمہارے کون سے دوست پتے ہیں‘ کون شاخ اور کون تمہاری جڑ ہے۔‘‘

حالم ناول 

Post a Comment