Jun 16, 2021

زندگی بہترین استاد ہے -Life is a Great Teacher

Psychological Behavior is a topic that will make you feel less like pages when you start writing. Because most of our social problems are caused by our behavior. And the more detrimental aspect is that we turn a blind eye to these attitudes even though we are aware of them. That is, we close our eyes like a dove and strengthen the idea of ​​"everything is fine". As a result, we are stuck in a quagmire from which we cannot get out. We get old prematurely. The family is not satisfied with us. Dude's sore throats start to grow. And there comes a time when our behavior starts to get bitter and we suffer from the loneliness that often leads to disorganization of our breathing. This is the situation we see all around us.

’’آپ کن موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں؟‘‘ یہ سوال اکثر نئے لکھنے والوں سے پوچھا جاتا ہے۔


’’معاشرتی مسائل پر۔‘‘ اکثر لکھاری یہی لگا بندھا جواب دیتے ہیں۔


لیکن اگر بغور جائزہ لیجیے تو ہم میں سے بیشتر لکھاری صرف سیاست کے ہو رہتے ہیں۔ وہ سیاست سے نکلنے کو تیار نہیں ہوتے اور نہ ہی معاشرتی مسائل کو حقیقی معنوں میں اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔

نفسیاتی رویے، ایک ایسا موضوع ہے جس پر آپ لکھنا شروع کریں تو صفحات کم محسوس ہوں گے۔ کیوں کہ ہمارے معاشرتی مسائل میں سے بیشتر کی وجہ ہمارے رویے ہی ہیں۔ اور مزید نقصان دہ پہلو یہ ہے کہ ہم ان رویوں کا ادراک رکھتے ہوئے بھی ان سے نظریں چرا لیتے ہیں۔ یعنی ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے ’’سب اچھا ہے‘‘ کا تصور مضبوط کرتے جاتے ہیں۔ نتیجتاً ہم ایک ایسی دلدل میں پھنستے جاتے ہیں جہاں سے نکلنا ہمارے بس میں نہیں رہتا۔ ہم وقت سے پہلے بوڑھے ہوجاتے ہیں۔ خاندان ہم سے مطمئن نہیں ہوتا۔ یار دوستوں کے گلے شکوے بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ہمارے رویے میں تلخی پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے اور ہم ایسی تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں جو اکثر ہماری سانسوں کی بے ترتیبی کا باعث بن جاتی ہے۔ یہی حال ہمارے اردگرد جابجا ہمیں نظر آتا ہے۔


ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ نفسیاتی رویے آخر ہیں کیا؟ اور کیسے یہ پروان چڑھتے ہیں؟ ہمیں کیوں ان رویوں کا ادراک نہیں ہوتا کہ یہ ہمیں ایسے معاشرتی مسائل میں دھکیل دیں گے جن سے نکلنا ہمارے بس میں نہیں ہوگا؟


بنیادی طور پر ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بننے کی اداکاری کرتے ہیں۔ ہمارا معاشرتی ڈھانچہ ہر گزرتے دن کے ساتھ تباہی کی طرف جارہا ہے۔ خاندانی نظام پہلے ہی ریخت کا شکار ہے۔ ہم نے اب مزید خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتے ہوئے ایک دوسرے کو تنہا کرنا شروع کردیا ہے۔ بنی نوع انسان میں ایک خطرناک رجحان پنپنا شروع ہوچکا ہے کہ ہم صرف اچھے وقت کے ساتھی ہیں۔ ہم غمگساری بھی اس وقت تک کرتے ہیں جب تک ہمیں بدلے میں کچھ نہ کچھ حاصل ہونے کی امید باقی ہو۔ ہم کسی کو اپنا کندھا صرف اس وقت تک دینا چاہتے ہیں جب وہ اس لمحے کا مادی فائدہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اور اپنی دانست میں آپ یہ مخلوق کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں، جب کہ دراصل یہ منافقت کی ایک اعلیٰ مثال ہوتی ہے۔


ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں آسودہ حال افراد کے گرد ایک ہجوم رہتا ہے۔ آسودگی میں اگر انسان کو کچھ مشکل کا سامنا بھی ہو تو غمگساروں کی ایک بہت بڑی تعداد منتظر ہوتی ہے کہ وہ جانتے ہیں یہ مشکل اس آسودہ حال شخص کو زیادہ دیر پریشان نہیں کرے گی۔ اور آسودگی کے سفر پر دوبارہ گامزن ہوگا تو ہمیں کچھ نہ کچھ تو صلہ دے گا ہی۔ یعنی ہم صلے کی امید میں ایک ناٹک کرتے ہیں، ساتھ دینے کا۔ ڈھونگ رچاتے ہیں ہمدردی کا۔ لیکن حقیقت میں ہم صرف اپنا مفاد حاصل کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ہمیں انفرادی طور پر تباہ کررہا ہے بلکہ اجتماعی طور پر معاشرے کی اکائیوں کو بھی ایک دوسرے سے دور کررہا ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے کی بنیادیں اس دوغلے رویے سے ہلنا شروع ہوچکی ہیں۔ ہم غفلت میں سوئے ہیں کہ اگر معاشرہ اپنی ان بنیادوں پر کھڑا نہ رہ سکا تو ہمیں کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔


آپ واقعی کسی ایسی مشکل کا شکار ہوجائیں کہ جو معاشرتی طور پر آپ کےلیے مسائل پیدا کردے۔ ضروریات زندگی کا حصول آپ کےلیے آسان نہ رہے۔ آپ ایک قدم آگے بڑھائیں تو دو قدم مزید پیچھے آجائیں۔ تو ایسے حالات میں آپ کے اردگرد موجود ہجوم، جو بظاہر ہمیشہ آپ سے ہمدردی کا ناٹک کرتے رہے ہوں، وہ چھٹنا شروع ہوجاتا ہے۔ دن نہیں گزرتے، بلکہ لوگ آپ کو مشکل میں چھوڑ کر آپ کے پاس سے گزرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ جن لوگوں سے آپ کو امید ہوتی ہے کہ ساتھ کھڑے ہوں گے، وہ ایک بول ہمدردی کا بھی بولنا گوارا نہیں کرتے۔ مشکل وقت میں آپ کی امیدیں و توقعات بہت کم ہوجاتی ہیں۔ لیکن جن سے یہ وابستہ ہوں وہ یہ کم توقعات اور امیدیں بھی پوری کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ آپ کو امید ہوتی ہے کہ فلاں آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا مشکل میں، اور وہی آپ سے دور جا کھڑا ہوتا ہے۔ آپ توقع رکھتے ہیں کہ فلاں مدد تو دور، ہمدردی کا ایک بول کم از کم بول دے گا۔ لیکن وہ ایک ہمدردانہ جملہ ادا کرنے کے بجائے آپ کو نظر انداز کرنا شروع ہوجائے گا۔


لیکن ایسے کڑے وقت میں چند سرپھرے ہر قیمت پر آپ کا ساتھ دینے کو شاید تیار ہوجائیں۔ شاید کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ اب ایسے سرپھرے بہت نایاب ہوتے جارہے ہیں جو کسی کا ساتھ دینے کےلیے اپنی ذات تک کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ اور حقیقت میں ایسے سرپھرے ہی آپ کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ زندگی میں ایسے ہی لوگ قدر کے قابل ہوتے ہیں۔ لیکن ہم بھلا کب سوچنے کی زحمت کرتے ہیں، مشکل ہٹنے کے بعد پھر اپنے گرد ہجومِ منافقاں جمع کرلیتے ہیں۔


ہمیں بنیادی طور پر اپنی زندگی کو ایک مسلسل درسگاہ کی طرح ہی جگہ دینی چاہیے۔ مسلسل سیکھنے کے عمل کو اپنانا چاہیے۔ اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو ٹھہرنے کی جگہ دیجیے جو مشکل وقت میں آپ کا ساتھ چھوڑنا گوارا نہیں کرتے۔ ایسے نایاب لوگوں کا حق ہوتا ہے کہ وہ ہمارے خلوص کے قابل ٹھہریں جو تمام تر مشکلات کے باوجود ہمیں بیچ منجدھار تنہا نہیں چھوڑتے۔ مشکلات کو ہمیں بنیادی طور پر مستقبل کےلیے مشعل راہ بنانا مقصود ہونا چاہیے۔ ایسے لوگوں کو اپنی زندگی سے باعزت طور پر رخصت کردیجیے جو مشکل وقت میں اپنا چہرہ پھیر لینے کی صلاحیت سے مالا مال ہوں۔ جو لوگ مشکل کے کچھ لمحات آپ کے ساتھ رہنا گوارا نہیں کرتے وہ آسانی کے دور میں آپ کے ساتھی ہونے کا حق نہیں رکھتے۔ عقل و دانش کو اپنے فیصلوں میں بروئے کار لاتے ہوئے زندگی کی مشکلات میں اپنی آئندہ زندگی کو سنوارنا ہی ظاہر کرتا ہے کہ ہم اشرف المخلوقات ہیں۔


مشکلات میں ثابت قدم رہنا، حوصلہ نہ ہارنا، بہتری کی کوشش نہ چھوڑنا، مایوس نہ ہونا، یقینی طور پر کردار کی مضبوطی کی علامات ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی رویہ مشکل وقت میں آپ پر حاوی ہو تو پریشان نہ ہوں۔ یہ انسانی نفسیات ہے کہ وہ پریشان ہوتا ہے۔ کوشش جاری رکھیے۔ آپ کی کوشش آپ کو کامیابی سے ہمکنار کردے گی۔ زندگی ایک بہت بہترین استاد ہے لیکن فائدہ اسی صورت ممکن ہوگا کہ آپ اس استاد سے کچھ سیکھنا چاہیں۔


شاہد کاظمی

بلاگر کی وابستگی روزنامہ نئی بات، اوصاف سے رہی ہے۔ آج کل روزنامہ ایشیئن نیوز اور روزنامہ طاقت کے علاوہ، جناح و آزادی کے لیے بھی کالم لکھتے ہیں۔ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کر رکھا ہے۔ بلاگر سے ان کے فیس بک پیج www.facebook.com/100lafz پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

Post a Comment