Jun 12, 2021

اس کے ساتھ والی میز پہ - A Slightly Middle-Aged Native

A slightly middle-aged native woman was sitting at the table next to him. Abi saw a curly-haired boy sitting here for two mugs of coffee. Her back was to the water, and she continued to work without paying attention. However, his words were falling on deaf ears. The boy was probably a student of the woman and she knew the woman as a teacher. This is your friend who is being beaten." There were very few people in the cafe at that time. Still he got up and ran towards it. But the boy was going to kill Shiro without hearing anything. "You also go to help him.

اس کے ساتھ والی میز پہ ایک قدرے درمیانی عمر کی دیسی عورت بیٹھی تھی۔سر بالکل گرائے ‘ چپ ‘ خاموش۔ کنکھیوں سے آبی کو نظر آیا‘ ایک گھنگریالے بالوں والا لڑکا دو کافی کے مگ لئے ادھر آ کر بیٹھا ہے۔ اس کی آبی کی طرف پشت تھی ‘ وہ بھی توجہ دیے بنا کام کرتی رہی۔ البتہ ان کی باتیں کان میں پڑ رہی تھیں۔ وہ لڑکا شاید اس عورت کا اسٹوڈنٹ تھا اور عورت کو تو وہ ٹیچر کی حیثیت سے پہچانتی بھی تھی۔

’’یہ تمہارا دوست ہے نا جو مار کھا رہا ہے۔‘‘ کیفے میں اس وقت لوگ بہت کم تھے ‘ پھر بھی وہ اٹھ کر اس طرف دوڑے تھے۔ مگر وہ لڑکا کچھ بھی سنے سمجھے بغیر شیرو کو مارے جا رہا تھا۔’’تم بھی اس کی مدد کے لئے جاؤ۔‘‘

’’اس کی مدد کے لئے بہت سے لوگ ہیں‘ ابھی پولیس بلا لیں گے ‘ مگر آپ کی مدد کے لئے اس وقت صرف میں ہی ہوں۔‘‘

آبی خاموشی سے گردن ترچھی کیے لکھتی رہی۔

’’تم میری کیا مدد کر سکو گے؟تم خود ایک بچے ہو۔ میرا تیسرا مِس کیرج ہوا ہے ‘ آج تو ڈاکٹر نے بھی نا امیدی کی باتیں کی ہیں۔ میں کبھی ماں نہیں بن سکتی۔‘‘آبی نے یونہی سر اٹھا کر اس طرف دیکھا۔ لڑکے کی پشت تھی ‘ مگر عورت کا نیم رخ واضح تھا اور وہ سر جھکائے‘ آنسو پونچھ رہی تھی۔

’’مسز مرجان ‘ تھوڑے تحمل سے میری بات سنیں۔‘‘ وہ نرمی سے کہہ رہا تھا۔ آبدار پھر سے کام کرنے لگی۔ اسے معلوم تھا اب وہ اسے تسلی دے گا ۔علاج کے طریقے ‘ یا پھر ایڈاپشن ‘ یا اس حقیقت کو قبول کر کے مثبت سوچ کے ساتھ رہنے کی نصیحت۔

’’آپ کا ڈاکٹر ٹھیک کہہ رہا ہے ‘ آپ infertile(بانجھ) ہیں۔ آپ کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے۔‘‘

لکھتے ہوئے آبی رکی۔ اس کی آنکھوں میں ناگواری ابھری۔اسے برا لگا تھا۔ایسے کہتے ہیں کسی کو بھلا؟ مڑ کر شاکی نظروں سے دیکھا۔

دور کونے میں لوگ شیرو کو اٹھا رہے تھے ‘ وہ لڑکا بھاگ چکا تھا۔

’’آپ بانجھ کہلانے پہ اتنی اَپ سیٹ کیوں ہیں؟‘‘

’’سعدی!‘‘ مسز مرجان نے صرف گلہ آمیز نظروں سے اسے دیکھا۔

’’آپ قرآن پڑھتی ہیں ،مسز مرجان؟‘‘

(اچھا اب وہ ابراہیم علیہ السلام یا ذکریا علیہ السلام والا واقعہ دہرائے گا۔) آبی نے دوبارہ سے کام کی طرف متوجہ ہوتے سوچا۔

’’کبھی کبھی۔‘‘

’’یہی کبھی کبھی اس دنیا کے کروڑوں لوگوں کا مسئلہ ہے۔ خیر۔ آپ نے اس میں ذکریا علیہ السلام والا واقعی تو پڑھا ہو گا‘ انہوں نے الله سے دعا کی کہ ان کو اکیلا نہ چھوڑیں۔تو....‘‘

’’تو الله نے انہیں یحییٰ عطا کیے مگر وہ پیغمبر تھے سعدی ۔‘‘

سعدی نے گہری سانس لی۔’’میم‘ خوبصورت لڑکوں کی بات کاٹا نہیں کرتے۔ اس لئے تحمل سے مجھے سنیں۔ جب ذکریا علیہ اسلام نے دعا کی تو الله نے ان کو ایک دم سے اولاد نہیں دے دی‘ بلکہ پہلے بشارت دی ‘ کہ ان کے ہاں بیٹا ہو گا۔ مگر جب یہ بشارت دی تو ذکریا علیہ السلام حیرت سے پوچھنے لگے ‘ کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ تو الله نے فرمایا‘ ہم نے اس سے پہلے آپ کو بھی تو تخلیق کیا تھا، اورآپ بھی تو کچھ نہیں تھے۔ آپ مجھے بتائیں مسز مرجان ‘ کیا آپ نے غور کیا اس پہ؟‘‘

’’دیکھو سعدی ‘ میں سمجھ رہی ہوں کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ الله تعالیٰ ذکریا علیہ السلام کو یہ بتا رہے تھے کہ آپ کچھ بھی نہ تھے ‘ یعنی ہر انسان پانی کا ایک قطرہ ہوتا ہے ‘ اور یہ اتنا امیزنگ ہے کہ وہ چھے فٹ کا انسان بن جاتا ہے ‘ ہم سب کی پیدائش امیزنگ ہے ‘ لیکن میرا کیس مختلف ہے۔‘‘

’’نہیں...یہیں پہ ہم دونوں مختلف ہیں‘ کیونکہ قرآن پڑھنے اور قرآن پہ غورو فکر کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ اب اسی آیت کو دیکھ لیں۔اللہ نے ذکریا کو مخاطب کیا کہ’’آپ بھی تو کچھ نہ تھے‘‘ آپ نے اس سے مراد ہر انسان کی پیدائش لی‘ لیکن میرے خیال میں اس کا ایک اور مطلب بھی ہے۔‘‘

آبی بے اختیار گردن موڑ کر دیکھنے لگی۔ مسز مرجان نے بھی قدرے متذبذب سے اس لڑکے کو دیکھا۔

’’میرے خیال میں مسز مرجان ‘ الله تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم’’ہر انسان ‘ ‘کی پیدائش نہیں صرف ’’ذکریا کی پیدائش‘‘ پہ غور کریں۔‘‘

’’مطلب؟‘‘

’’ذکریابنی اسرائیلی تھے۔ اور بنی اسرائیلی ،اسرائیل ( یعقوب ) علیہ السلام کی اولاد ہوتے ہیں۔ آپ بتائیں، یعقوبؑ کس کے بیٹے تھے؟‘‘

’’اسحٰق علیہ السلام کے...‘‘

’’اور اسحٰقؑ کس کے بیٹے تھے؟‘‘

’’ابراہیم علیہ السلام کے!‘‘

’’ابراہیم اور سارہ کے، علییہما السلام!‘‘ اس نے اضافی کیا۔ پشت ہونے کے باوجود آبی کو لگا تھا وہ مسکرایا ہے۔

’’آپ کو پتہ ہے بنی اسرائیل اس وقت دنیا کی سب سے بڑی قوموں میں سے ایک ہے۔ ہم پٹھان ہوں‘ یا گورے لوگ‘ یا فلسطینی ‘ یا ملک اسرائیل کے یہودی‘ ہم بنی اسرائیلی ہیں۔ اسی لئے پٹھانوں اور گوروں جن کو ہم’’ انگریز ‘‘کہتے ہیں‘ ان کی شکلیں ملتی ہیں‘ کیونکہ ہم سب پیچھے سے اسرائیل علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ ذکریا بھی اسرائیلی تھے۔ میں بھی اسرائیلی ہوں۔ اور ہم سب کی ماں تھیں۔ حضرت سارہ۔ آپ کو معلوم ہے سارہ کون تھیں؟ ‘‘

’’دنیا کی سب سے خوبصورت خا تون تھیں وہ۔‘‘ مسز مرجان کو یاد آیا۔

’’بالکل‘ وہ دنیا کی سب سے خوبصورت خاتون تھیں‘ اور وہ بانجھ تھیں۔‘‘

ایک لمحے کے لئے آبدار کا سانس رک گیا۔ اردگرد ہر شے تھم گئی۔ مسز مرجان بھی بالکل ٹھہر کر سعدی کو دیکھ رہی تھیں۔

’’تو الله تعالیٰ نے ذکریا علیہ السلام سے جو فرمایا، شاید اس کا مطلب یہ بھی تھا مسز مرجان ’کہ آپ اپنی پیدائش پہ غور کریں ذکریا۔آپ بھی تو ایک بانجھ عورت کی اولاد ہیں۔‘ آج دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اسی بانجھ عورت کی اولاد ہے۔ اگر سارہ کے اولاد ہو سکتی ہے ‘ تو دنیا کے ہر مرد اور عورت کے ہاں اولاد ہو سکتی ہے۔‘‘ مسز مرجان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔

’’مگر وہ...وہ پیغمبر کی زوج تھیں۔ اس لئے ان کی اولاد ہوئی۔‘‘

’’نہیں۔ ان کی اولاد اس لئے ہوئی کیونکہ انہوں نے دعا کی تھی۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی ‘ جب ذکریا علیہ لسلام نے دعا کی، تو الله تعالیٰ نے فرمایا‘ ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ الله تعالیٰ دعا رد نہیں کرتے ‘ لیکن اس میں یقین ہونا چاہیے ۔ آپ کسی پیر‘ کسی قبر‘ کسی مزار ‘ کسی تعویز کو وسیلہ بنائیں گی تو الله آپ کو انہی کے حوالے کر دے گا۔ آپ ایسا مت کیجئے گا۔ اگر آپ تہجد نہیں پڑھتیں کسی دعا کے لئے ‘ تو اس کا مطلب ہے آپ اس کو پانے کے لئے خود بھی سیرئیس نہیں ہیں۔ شدید پریشانی کے حالات میں دعائیں بھی شدید مانگنی ہو تی ہیں۔ یہ پانچ وقت کی نماز کے بعد روٹین کی طرح دعا مانگنا کافی نہیں ہوتا۔ جتنی بڑی آزمائش ہے ‘ اتنا زیادہ اپنی دعا کو بڑھائیں۔ یہ وہی الله ہے جو حضرت سارہ کا الله تھا۔ کیا آپ کی دعا بھی ویسی ہے جیسی سارہ کے شوہر کی تھی؟‘‘

مسز مرجان کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گررہے تھے۔ آبدار بالکل ٹھہر کر سن رہی تھی۔

’’مگر سعدی ...یہ میری آزمائش ہے یا گناہوں کی سزا؟ یہ فرق کیسے معلوم کروں؟‘‘

’’معلوم کر کے کیا کریں گی؟ سزا ہوئی تو معافی مانگیں گی‘ آزمائش ہوئی تو دعا کریں گی کہ الله اس میں کامیاب کرے؟ مسز مرجان ‘ مجھ سے پوچھیں تو یہ معلوم کرنا لا یعنی ہے۔ اس بحث کو چھوڑ دیں اور یہ دونوں کام کرتی رہیں۔آپ کو پتہ ہے الله تعالیٰ اپنے بندوں پہ آزمائش کیوں ڈالتا ہے؟‘‘

بھیگے چہرے کے ساتھ مسز مرجان نے نفی میں سر ہلایا۔

’’بعض دفعہ کسی انسان کو الله تعالیٰ کوئی اونچا درجہ دے دیتا ہے ‘ مگر اس کے اعمال اتنے نہیں ہوتے کہ وہ اس درجے تک پہنچ جائے۔ یعنی وہ اچھا آدمی ہوتا ہے مگر بہت زیادہ نیکیاں نہیں کر پا رہا ہوتا۔ اور الله تعالیٰ نا انصافی تو نہیں کر سکتا نا‘ سو اس شخص کو اس درجے تک پہنچانے کے لئے...سمجھیں پہلی سیڑھی پہ کھڑے شخص کو دسویں سیڑھی تک پہنچانے کے لئے الله اس پہ پریشانیاں ڈالتا ہے ‘ تاکہ اس کے گناہ جھڑیں۔ ظاہر ہے گناہ کم ہو ں گے تو وہ اوپر اٹھتا جائے گا۔جس دن وہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے ‘ اس کی آزمائش کھول دی جاتی ہے۔ یہ میری خود سے گھڑی بات نہیں ہے‘ یہ صحیح حدیث کا مفہوم ہے۔‘‘

’’مطلب کہ...یہ سب ہمیں کسی مقام تک پہنچانے کے لئے ہوتا ہے؟‘‘

’’جی۔ اب یہ آپ پہ ہے کہ آپ اس مقام تک کتنی جلدی پہنچتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کریں‘ تو جلدی زینے عبور کریں گی ‘ حدیث میں آتا ہے کہ انسان کو کوئی چیز ملنے والی ہوتی ہے کہ اس کے گناہ آڑے آ جاتے ہیں۔ اس لئے گناہوں سے بچیں‘ اور زیادہ سے زیادہ اچھے اعمال کریں۔ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کشادگی کا انتظار بہترین عبادت ہے۔ اس لئے اپنی کشادگی کاانتظار کیجئے۔ بے اولادی، اولاد کی معذوری، یا بیماری، یا اولاد کا ہو کر مر جانا،یہ سب کوئی curse نہیں ہے۔یہ تو انبیاء کی آزمائش تھی۔ یہ بڑے لوگوں کی آزمائش ہوتی ہے۔ آپ خوش قسمت ہیں۔ ہوسکتا ہے روزِ قیامت آپ کو کشادگی کے انتظار میں گزارے یہ ماہ و سال بہت قیمتی لگیں کیونکہ یہ وقت آپ کو وہ دے جائے گا‘ جو اور کوئی نہیں دے سکتا۔ میں پھر کہتا ہوں‘ یہ curse نہیں ہے کیونکہ الله ہمیشہ ان لوگوں کی سائیڈ پہ ہو گا جن کو وہ آزمانے کے لئے اتنے بڑے بڑے دکھ دیتا ہے۔‘‘

آبدار عبید کو ایسا کوئی مسئلہ درپیش نہ تھا پھر بھی اس کو لگا‘ اس کی آنکھ سے آنسو گرا تھا۔ کوئی اتنا نرم ‘ اتنا پیارا کیسے بول سکتا ہے؟ اس نے ایک دفعہ پھر گھوم کر اس لڑکے کو دیکھنا چاہا۔ اسکی پشت تھی مگر سامنے گلاس ڈور فریج میں اس کا چہرہ منعکس ہو رہا تھا۔ چھوٹے گھنگھریالے بال، خوبصورت چہرہ، صاف رنگت، بھوری آنکھیں۔

’’سعدی ۔ تم نے میری امید پھر سے زندہ کر دی ہے۔ میں اس احسان کا بدلہ کبھی نہیں چکا سکوں گی۔‘‘ مسز مرجان آنسو رگڑتے ہوئے اسے ممنویت سے دیکھتی کہہ رہی تھی۔ ’’کیا میں تمہارے لئے کچھ کر سکتی ہوں؟‘‘

’’بالکل۔‘‘ وہ ذرا جوش سے آگے کو ہوا۔’’اگر کلاس میں کبھی کوئی ایسا مقابلہ ہو جس میں سب سے ہینڈسم لڑکے کو منتخب کیے جانا ہو‘ تو وعدہ کریں ‘ آپ مجھے ووٹ دیں گی!‘‘ اور وہ روتے روتے ہنس دی تھیں...


نمل ناول 

Post a Comment