Jun 15, 2021

درخت ہمارے اور ماحول کے لیے بہت اہم ہیں۔ Trees Very Important

Trees are very important to us and the environment. The month of June has begun and we cannot stand for a few moments in the scorching sun. The temperature is so high that it is unbearable. But never mind! Turn your AC temperature to 26 and breathe a sigh of relief. The temperature is relatively lower in rural areas than in cities. This is because at present the traffic flow in the villages is not the same as in the big cities. 

درخت ہمارے اور ماحول کے لیے بہت اہم ہیں۔

جون کا مہینہ شروع ہوگیا ہے اور ہم کڑی دھوپ میں چند لمحے کےلیے کھڑے نہیں ہوسکتے۔ درجہ حرارت میں اس قدر شدت ہے کہ برداشت سے باہر ہے۔ لیکن کوئی بات نہیں! آپ اپنے اے سی کا درجہ حرارت 26 پر کیجئے اور سکھ کا سانس لیجئے۔

شہروں کی نسبت دیہاتوں میں درجہ حرارت نسبتاً کم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فی الحال دیہاتوں میں ٹریفک کی گہماگہمی وہ نہیں ہے جو بڑے شہروں میں ہے۔ ٹریفک کا شور، ٹرانسپورٹ کا دھواں، جسے ہمارے یہاں کسی گنتی میں شمار نہیں کیا جاتا، سالانہ ہزاروں زندگیاں نگل رہے ہیں۔ اس پر سہاگہ یہ کہ ہم نے نئے رہائشی منصوبوں کےلیے زرعی زمینوں پر رہائشی کالونیوں کی تعمیر کو کاروبار بنالیا ہے۔ ہمارے ملک میں ایسا کوئی قانون یا ضابطہ اخلاق نہیں ہے جس کے تحت سرسبز زمینوں کو رہائشی علاقوں میں تبدیل کرنے کی صورت میں اتنے ہی علاقے کے لگ بھگ کہیں بھی سبزہ لگایا جائے۔ کسی کی بات کیوں کیجئے، پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ لیکن یہ زراعت بھی کاغذوں کی حد تک ہی محدود ہوتی جارہی ہے۔ یقین نہ آئے تو اپنے شہر سے کسی بھی دوسرے شہر کا سفر کرتے ہوئے دیکھ لیجئے کہ سڑک کے اطراف میں مجال ہے کوئی پھل دار تو کجا سایہ دار ہی درخت نظر آجائے۔

سڑکوں کے اطراف میں کوئی پھل دار، سایہ دار درخت ہی نہیں ہیں۔ ہماری رہائشی آبادیوں میں درخت غائب ہوچکے ہیں۔ سجاوٹ کےلیے ہی صرف سفیدہ لگا لگا کر بچا کھچا پانی بھی اس دشمن کو دے رہے ہیں، جس کا نہ کوئی سایہ نہ کوئی پھل۔ ان حالات میں کون امید رکھے کہ ہر خالی جگہ پر سبزہ نظر آئے گا۔

پاکستان میں گرمی کی شدت بڑھ گئی ہے۔ جس کی بڑی وجہ ملک میں جنگلات کی نایابی، درخت نہ لگانے کا رجحان اور انفرادی احساس غیر ذمے داری ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم سے گرمی کی شدت برادشت نہیں ہورہی، آئندہ دس برس میں ہماری آنے والی نسلیں ہمارے ہی ہاتھوں اس گرمی کی شدت سے تڑپ تڑپ کر جان دے دیں گی۔ اور ایسا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ آپ جتنا جی چاہے ٹاک شوز کرلیں۔ آپ جس قدر چاہیں ایک دوسرے کے ساتھ غدار غدار کھیل لیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ میں، آپ اور سارا ملک، اپنے آپ کے ساتھ غداری کررہا ہے۔ بے حسی کی معراج پر انتہائی تکبر اور رعونت کے ساتھ براجمان ہیں ہم۔ کوئی ہمیں جھلس کر اور پیاسے مرنے سے نہیں روک سکتا۔ ہندوستان نے ہمارے پانیوں پر ڈیم بنا بنا کر ہمارا ملک ریگستان بنانے والے راستے پر گامزن کردیا ہے۔

ہمیں آج، ابھی اور اسی وقت یہ بات سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی کہ درخت ہمارے اور ماحول کے لیے بہت اہم ہیں۔ خود سے کوشش کرنا ہوگی مسائل کو حل کرنے کی۔ یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ محکمہ زراعت، محکمہ جنگلات اور محکمہ آبپاشی کوئی ایسا مشترکہ منصوبہ پیش کریں گے، جس پر حکومت عمل کرکے اس پریشانی سے نمٹنے کا سامان کرسکے۔ اس امر کی بھی توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ حکمرانوں میں سے کوئی ایسا انسان اور انسان دوست ہوسکتا ہے جو صوبائی سطح پر تمام سڑکوں کے اطراف میں درختوں اور پودوں کی موجودگی کا سامان کرنے کی سعی کرسکے۔ کیونکہ ان کے پاس تو کمرے کا درجہ حرارت کم رکھنے کی سہولت دستیاب ہے جو ہر شہری کے بس میں نہیں۔

یہ توقع بھی نہیں رکھنی چاہیے کہ وفاقی سطح پر اس طرز کی کوئی کارروائی کرنے کی کوشش نظر آئے گی۔ ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر وزیر، مشیر اور صاحب تدبیر کو اپنے پیروں تلے پھیلائی ہوئی چادر سے آگے دکھائی ہی نہیں دیتا۔ اور ’’تو چور، میں سپاہی‘‘ سے آگے کھیل کو لے کر جانے کی کوئی امید بھی نہیں ہے۔ اس لیے عوام سے درخواست ہے کہ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے گھروں کے آس پاس ضرور درخت لگائیں۔ سڑکوں کے کناروں پر بسنے والے لوگ ہی سڑکوں کے اطراف میں درخت اور پودے لگا کر اب اس قوم کو جھلس کر مرنے سے بچا سکتے ہیں۔ یہی ہیں جو اکثریت کی زندگی بچا سکتے ہیں۔

محمد عظیم پاشا

Post a Comment