میں بچپن میں بھائی کے ساتھ - As a child, I used to come

Jul 11, 2021

"As a child, I used to come to your house to recite the Qur'an with my brother. We both memorized the last ten verses with you." You were the one who taught us Tafsir, and the Qur'an, but ... but I am lost. I'm wasting my life I couldn't memorize the Qur'an, I wasn't organized, I wasn't good, I couldn't learn time management. I can't get up at dawn and I don't want the rest of the prayers. Although I wish I could become a five-time worshiper, but ... it seems very difficult, very heavy.

’میں بچپن میں بھائی کے ساتھ قرآن پڑھنے آپ کے گھر آتی تھی‘ آپ کے پاس ہی ہم دونوں نے آخری دس سیپارے حفظ کیے تھے۔ آپ ہی نے ہمیں تفسیر پڑھائی تھی ‘ بلکہ قرآن سکھایا تھا ‘ مگر.....’مگر میں کھو چکی ہوں۔ میں اپنی زندگی ضائع کر رہی ہوں۔ نہ میں قرآن یاد رکھ پائی‘ نہ میں آرگنائزڈ ہوں‘نہ نیک ہوں‘ نہ ٹائم مینیج کرنا سیکھ سکی۔ میں فجر میں اٹھ نہیں پاتی اور باقی نمازوں کے لئے دل نہیں چاہتا۔ گو کہ میری خواہش ہے کہ میں بھی پانچ وقت کی نمازی بن جاؤں‘ مگر....یہ بہت مشکل بہت بھاری چیز لگتی ہے۔‘‘

وہ خاموشی سے سن رہی تھیں‘ اس بات پہ تائید میں سر ہلایا۔

’’نماز بہت بھاری چیز ہے ‘ واقعی!‘‘

’’مگر پھر وہ لوگ کون ہوتے ہیں جو منہ اندھیرے نیند توڑ کر اٹھتے ہیں اور ٹھنڈے پانی سے بھی خود کو بھگو لیتے ہیں مگر نماز نہیں چھوڑتے۔‘‘ وہ بے چین ہوئی۔

’’حنین...الله فرماتا ہے....بے شک نماز بہت بھاری ہے سوائے ان لوگوں پر جو خشیت رکھتے ہیں۔‘‘

’’خشیت کیا ہوتا ہے؟‘‘ اسے سارے اسباق بھول گئے تھے۔

’’خشیت ڈر ہوتا ہے ‘ اور خشیت محبت ہوتی ہے ‘ مگر نہ یہ صرف ڈر ہے نہ صرف محبت۔ یہ محبت بھرا ڈر ہوتا ہے جو انسان کو اپنے ماں باپ کا کہنا ماننے پہ مجبور کرتا ہے۔ صرف محبت میں ہم ان کی بات نہیں مانتے ‘ یا صرف ڈر کے باعث ان کی اطاعت نہیں کرتے۔ کوئی چھری تو نہیں دے ماریں گے نا وہ ہمیں۔ صرف یہ دھڑکا ہوتا ہے کہ ان کے اوپر ہمارا امپریشن نہ خراب ہو جائے ۔ہم ان کو دکھ دینے سے ان کی محبت کی وجہ سے ڈرتے ہیں۔جس کے دل میں الله کے لئے ایسی خشیت ہوتی ہے ‘ نماز اس پہ آسان ہو جاتی ہے۔‘‘

نمل ناول 

Post a Comment

© Urdu Thoughts.