وہ تو بس یک ٹک، بِنا پلک جھپکے - So Just For a Moment, Without Blinking

Jul 2, 2021

So just for a moment, without blinking, she was looking at the yellow face, which was lying on the bed with its eyes closed. Cotton was inserted into the nostrils and a white bandage was placed around the face. That face was very similar to Aman's. Just like Aman's face, and maybe ... maybe it was Aman's face. It only took him a moment to believe, and then he wanted him to growl and cry, lament, mourn, shout loudly.

وہ تو بس یک ٹک، بِنا پلک جھپکے اس زرد چہرے کو دیکھ رہی تھی، جو چارپائی پہ آنکھیں موندے لیٹا تھا۔ نتھنوں میں رُوئی ڈالی گئی تھی اور چہرے کے گرد سفید پٹی تھی۔ وہ چہرہ واقعی اماں سے بہت ملتا تھا۔ بالکل جیسے اماں کا چہرہ ہو، اور شاید...... شاید وہ اماں کا چہرہ ہی تھا۔

اسے بس ایک پل لگا تھا یقین آنے میں، اور پھر اس نے چاہا کہ وہ بھی دھاڑیں مار کر رونے لگے، نوحہ کرے، بین کرے، زور زور سے چلّائے، مگر وہ رحمتہ اللعالمین کے کہے گئے الفاظ......

’’مگر ہم زبان سے وہ ہی کہیں گے جس پہ ہمارا رب راضی ہو۔‘‘

اور اس کے لب کھلے رہ گئے، آواز حلق میں ہی دم توڑ گئی۔ زبان ہلنے سے انکاری ہو گئی۔

اس کا شدت سے دل چاہا کہ اپنا سر پیٹے، سینے پر دوہتھڑ مار کر بین کرے، دوپٹہ پھاڑ ڈالے اور اتنا چیخ چیخ کر روئے کہ آسمان ہل جائے۔ اور پھر اس نے ہاتھ اٹھائے بھی، مگر......

’’نوحہ کرنے والی اگر توبہ کئے بغیر مر گئی تو اس کے لئے تارکول کے کپڑے اورآگ کے شعلے کی قمیض ہو گی۔‘‘

’’جو گریبان چاک کرے اور رخساروں پر طمانچے مارے اور بین کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘

یہ ہدایت تو ابد تک کے لئے تھی۔

اس کے ہاتھ اُٹھنے سے انکاری ہو گئے۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، لیکن لب خاموش تھے۔

مصحف

Post a Comment

© Urdu Thoughts.