اے عشق تیرے انجام پہ رونا آیا - O Love, Weeping Over Your End

Aug 16, 2021

Most people will remember the romantic incident that took place a few months ago, in which a girl sits on her knees and expresses her love to a boy in public and then a boy with a red rose in his hand hugs the girl. The honor of accepting the invitation. Fellow students in the vicinity save this beautiful scene in the eye of the camera and loudly congratulate the loving couple on the success of this mission and engage in spreading these beautiful scenes all over the world.

چند ماہ قبل پیش آنے والا وہ رومانوی واقعہ تو اکثر لوگوں کو یاد ہوگا، جس میں ایک لڑکی گھٹنوں کے بل بیٹھ کر سرعام ایک لڑکے سے اظہار محبت کرتی ہے اور پھر ہاتھ میں سرخ گلاب تھامے لڑکا، لڑکی کو اپنے گلے لگا کر گویا اس کی دعوت کو شرف قبولیت بخشتا ہے۔ اردگرد موجود ساتھی طلبا یہ خوبصورت منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرتے ہوئے پریمی جوڑے کو اس مشن کی کامیابی پر باآواز بلند مبارکباد دیتے ہوئے یہ خوبصورت مناظر دنیا بھر میں پہنچانے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔


ان مناظر کو دیکھ کر کئی افراد کے دل میں خیال آیا ہوگا کہ کاش ہم نے بھی ایسی رومانوی زندگی گزاری ہوتی۔ کاش ہمارے عشق کے بھی گلی گلی چرچے ہوتے۔ کاش کہ ہم نے یا ہمارے محبوب نے سرعام اظہار عشق کیا ہوتا اور یوں شہرت کے ساتھ محبوب بھی مل جاتا۔ کاش…


اس واقعے کی پوسٹ وائرل ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد اس کا دوسرا رخ سامنے آیا، جس نے بہت سے کاش کم کردیے۔ سمجھدار لوگوں کی طرف سے اس واقعے کو اس قدر تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ پریمی جوڑے کو محسوس ہوا کہ ان کی جان خطرے میں ہے۔ یہاں تک کہ یونیورسٹی کو اپنا دامن صاف کرنے کےلیے ہنگامی رسمی کارروائی کرتے ہوئے اس جوڑے کو یونیورسٹی سے بے دخل کرنا پڑا۔ حالانکہ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات پیش آچکے تھے مگر بات چونکہ یونیورسٹی کی چار دیواری کے اندر تک محدود رہی اس لیے متعلقہ طلبا انضباطی کارروائی سے محفوظ رہے۔ بعد ازاں میرے وطن میں موجود نام نہاد لبرلز نے متاثرہ جوڑے کے اس فعل کی اس قدر حمایت کی کہ یونیورسٹی کو انہیں ڈگری مکمل کرنے کا موقع دینا پڑا۔

اور اب چند ماہ کے بعد میڈیا کی ہی بدولت اس واقعے کا تیسرا پہلو سامنے آیا ہے، جس نے نہ صرف حمایتی لبرلز کے سر شرم سے جھکادیے ہیں بلکہ ماضی کے ناکام عاشقوں کو بھی کلمہ شکر ادا کرنے پر مجبور کردیا ہے۔


حال ہی میں جب کچھ یوٹیوبرز اس پریمی جوڑے سے تازہ ترین صورتحال معلوم کرنے پہنچے تو اکیسویں صدی کے لیلیٰ مجنوں کی زبانی یہ سن کر حیران رہ گئے کہ ان کا آپس میں رابطہ ختم ہوچکا ہے۔ مجنوں کو اس بات پر افسوس تھا کہ لیلیٰ کو سرعام اظہار عشق نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس نے تمام واقعے کا ذمے دار عصر حاضر کے میڈیا کو قرار دیا جو ایسے واقعات دکھاتا ہے اور پھر کچے ذہن اس کی پیروی شروع کردیتے ہیں۔ مجنوں نے اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ اب لیلیٰ کی زندگی کس طرح گزرے گی، اسے کوئی اپنائے گا یا نہیں، کہا کہ دو سال کے بعد جب ڈگری مکمل ہوگی، اگر والدین نے اجازت دی تو پھر دیکھیں گے۔ یعنی والدین کی اجازت لازم ہے کیونکہ اس کا تعلق سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن کے دور دراز گاؤں سے ہے۔ مزید برآں اکیسویں صدی کے مجنوں نے اس بات کا شکوہ کیا کہ لیلیٰ کی اس حرکت سے اس کی زندگی اور مستقبل کو خطرہ محسوس ہوا۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین بچوں کی تربیت پر توجہ دیں۔ انہیں اچھے، برے، حلال، حرام، جائز، ناجائز سے مکمل آگاہی دی جائے۔ بصورت دیگر وہ غلط کو درست اور درست کو غلط سمجھتے ہوئے ہمارے خون پسینے کی کمائی سے ہمارے لیے جگ ہنسائی کا باعث بنتے رہیں گے۔ بالکل ایسے ہی جیسے جب صحافی نے لڑکی سے پوچھا کہ کیا آپ اپنے اس عمل کو درست محسوس کرتی ہیں تو موصوفہ نے کہا کہ اگر ایسا والدین کی اجازت سے ہو تو درست ہے۔ یعنی اگر والدین کو معلوم ہو تو یونیورسٹی میں علم حاصل کرنے کے ساتھ غیر محرم لڑکے سے سرعام اظہار عشق کرتے ہوئے اس کے ساتھ بوس و کنار کیے جاسکتے ہیں۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ والدین نے اسے دین کی بنیادی تعلیمات سے ہی محروم رکھا۔


مندرجہ بالا واقعہ ہم سب سے من حیث القوم اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم نہ صرف یہ کہ خود اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں بلکہ اپنے بچوں کو بھی اس کی باقاعدہ تعلیم دیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل ہمارا سر شرم سے جھکا ہوا ہو۔


محمد عمران چوہدری

بلاگر پنجاب کالج سے کامرس گریجویٹ ہونے کے علاوہ کمپیوٹر سائنس اور ای ایچ ایس سرٹیفکیٹ ہولڈر جبکہ سیفٹی آفیسر میں ڈپلوما ہولڈر ہیں اور ایک ملٹی اسکلڈ پروفیشنل ہیں؛ آپ کوچہ صحافت کے پرانے مکین بھی ہیں۔

Post a Comment

© Urdu Thoughts.