Don't go for less that your full potential - صرف ظاہر پر نہ جائیے

Jan 7, 2022

Famous intellectual Ashfaq Ahmed narrated an incident to the audience in a literary gathering that he was once living in Samanabad area of ​​Lahore. In their neighborhood, a relatively modern, young and beautiful widow began living with her two children. Her house was frequented by a few men, while she wore modern clothes and used strong perfumes. However, she spent most of her time in her home, her children roaming the streets and her neighbors giving them food and drink. All the people who lived in this neighborhood of Samanabad disliked the manners of this woman. People living in the area were curious to know why this lonely woman lives here. Who are the men who come to her house? It doesn't even do a job? How does he make a living? But no one was able to help them.

مشہور دانشور اشفاق احمد نے ایک ادبی محفل میں حاضرین کو ایک واقعہ سنایا کہ وہ ایک زمانے میں لاہور کے پوش علاقے سمن آباد میں رہائش پذیر تھے۔ ان کے پڑوس میں ایک خاتون جو نسبتاً ماڈرن، جوان اور خوبصورت بیوہ تھی، اپنے دو بچوں کے ساتھ رہنے لگی۔ اس کے گھر چند مرد حضرات کا باقاعدگی کے ساتھ آنا جانا تھا جبکہ وہ جدید ملبوسات زیب تن کرتی اور تیز خوشبو کا استعمال بھی کرتی تھی۔

تاہم وہ اپنے گھرمیں زیادہ تر آرام ہی کرتی تھی، اس کے بچے گلی میں پھرتے رہتے تھے اور پاس پڑوس کے لوگ انھیں کھانے پینے کی چیزیں دے دیا کرتے تھے۔ تمام لوگ جو سمن آباد کے اس محلے میں رہتے تھے اس عورت کے طور طریقوں کو ناپسند کرتے تھے۔ علاقے میں رہنے والوں کو اس کے بارے میں جاننے کا تجسس تھا کہ آخر یہ اکیلی عورت یہاں رہتی کیوں ہے؟ اس کے گھر میں آنے والے مرد حضرات کون ہیں؟ یہ کوئی نوکری بھی نہیں کرتی؟ اس کا گزر بسر کیسے ہوتا ہے؟ لیکن انھیں کوئی سرا ہاتھ نہیں آرہا تھا۔

قصہ مختصر کہ چند دن کے بعد وہ عورت وفات پاگئی اور کوئی اس کے بارے میں کچھ نہ جان سکا، ہاں البتہ اس کے بارے میں قیاس آرائیاں ضرور ہوتی رہیں۔
مذکورہ عورت کے انتقال کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اس کے گھر آنے والے تین مردوں میں سے ایک اس کا دیور تھا، جو اپنے بھائی کے مرنے کے بعد اپنی بیوہ بھابھی کی خبر گیری کرتا تھا۔ دوسرا اس کا فیملی ڈاکٹر تھا کیونکہ خاتون کو جلد کا کینسر تھا اور وہ اس کا علاج کرتا اور اسی غرض سے آتا تھا۔ وہ تیز پرفیوم استعمال کرتی اور باریک جدید ملبوسات اس لیے پہنتی تھی تاکہ اس کے جسم سے اٹھنے والی بدبو سے اس کے بچوں کو بھی تکلیف نہ پہنچے اور باریک کپڑوں سے جلد متاثر نہ ہو، کیونکہ جلد کے کینسر کی اس قسم میں اس کے بدن میں خارش اور بدبو پیدا ہوگئی تھی۔

اسی طرح تیسرا آدمی جو اس عورت کے گھر باقاعدگی سے آیا کرتا تھا وہ اس کا وکیل تھا جو اس کے مرحوم خاوند کی جانب سے جو بھی جائیداد یا روپیہ وغیرہ تھا، اس حوالے سے معلومات دیتا تھا۔

اب اس واقعے کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ یہ ہر دور کی کہانی ہے۔ ہم ہر وقت لوگوں کی ظاہری حالت سے ہی ان کے اچھا یا برا ہونے سے متعلق اندازے قائم کرلیتے ہیں۔ کبھی تو ہم لوگوں کے سامنے ہی اپنی ناگواری کا اظہار کر دیتے ہیں تو کبھی ان کی غیر موجودگی میں دوسروں کے سامنے ان کے ظاہر کو ڈسکس کرکے مختلف تبصرے کرتے ہیں۔

ہمیں یہ فکر ہر وقت کھا رہی ہوتی ہے کہ فلاں لڑکی اگر آفس سے دیر سے آرہی ہے تو یقیناً اس کا کوئی افیئر چل رہا ہوگا۔ کسی کے اولاد نہیں ہورہی ہوگی تو میاں بیوی میں کوئی نقص ہوگا۔ کسی نے معمولی کپڑے پہنے ہوں گے یا کوئی پیالے میں چائے پی لے گا، انگریزی نہیں بول سکے گا تو آسانی سے انھیں پینڈو کہہ دیا جائے گا۔ یعنی ہم ہر انسان کی ظاہری کیفیت کو اس کے باطن سے ملا دیتے ہیں۔

جبکہ قرآن پاک میں گمان کرنے والوں سے متعلق سخت وعید آئی ہے کہ کسی بھی واقعے سے متعلق اچھی چھان بین کرلیا کرو اور الزام تراشی نہ کرو کیونکہ بہتان بہت بڑا گناہ ہے۔ لیکن آج کی دنیا بہت سی چیزیں خدا پر چھوڑنے کے بجائے خود ہی حساب کتاب کرنے کو تیار ہے، جو ہرگز درست نہیں۔

ہم کسی کے بارے میں جانے بغیر بہت سے اندازے لگا لیتے ہیں لیکن ہمیں اور ہماری نیت کو کوئی بھی اگر ہمارے ظاہر کی بنا پر جج کرے تو نہ صرف ہمیں غصہ آتا ہے بلکہ ہم لڑنے مرنے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ لیکن دوسرے افراد ہماری طرف سے بہتان تراشی پر ذرا سی بھی مزاحمت کرتے ہیں تو بجائے شرمندہ اور معذرت خواہ ہونے کے الٹا انھیں ہی نشانہ بنا لیتے ہیں اور اپنے خوابیدہ ضمیر کو بالکل نہیں جھنجھوڑتے۔

اسی طرح ہم کچھ لوگوں کو بالکل لادین سمجھتے ہیں لیکن وقت پڑنے پر وہ روایتی طور پر مشہور مذہبی افراد سے بہتر دین کے محافظ بنتے ہیں۔ نیکی کرنے اور ہدایت پانے کےلیے کوئی عمر یا مسلک کی قید نہیں ہے اس میں صرف نیت کا خالص ہونا شرط ہے۔

زندگی کوتاہیوں کا نام ہے جو تمام انسانوں سے ہوسکتی ہیں، تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ صرف ہم ہی درست ہوں اور باقی سب غلط؟ حقائق کے بغیر کوئی بھی بات بیان کر دینا بلکہ اس کو آگے بھی پہنچا دینا کہاں کا انصاف ہے؟

سورہ حجرات میں ہے کہ اے ایمان والو کسی کے بارے میں غلط گمان اور تجسس مت کرو۔ کسی کی ٹوہ بازی میں اپنا وقت برباد مت کرو۔

لیکن عمومی زندگی میں اس ہدایت پر کوئی عمل نہیں کرتا، چاہے ہمارے خاندان کے افراد ہوں یا باہر کی شخصیات، سب مفروضے قائم کرنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ دوسروں کو اکثر نصیحیتں کرنے والوں اور ان پر بہتان تراشی کرنے والوں کی تنہائی بھی پاک نہیں ہوتی، لیکن اپنی ذات کے عیب وہ سب باآسانی چھپا لیتے ہیں۔ دوسروں کے بارے میں عیب جوئی اور تجسس کرکے خود کو تو مطمئن کرلیتے ہیں لیکن اخروی زندگی جو کہ اصل زندگی ہے، اسے فراموش کردیتے ہیں۔ لہٰذا سنی سنائی بات پر یقین نہ کرنے سے ہم ایک اچھا انسان بننے کی طرف پہلا قدم بڑھا سکتے ہیں۔

راضیہ سید
بلاگر نے جامعہ پنجاب کے شعبہ سیاسیات سے ایم اے کیا ہوا ہے اور گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت سے بطور پروڈیوسر، رپورٹر اور محقق وابستہ ہیں۔

Post a Comment

© Urdu Thoughts. Design by FCD.